• صارفین کی تعداد :
  • 1491
  • 11/18/2011
  • تاريخ :

بيسويں صدي کي آخر دو دہائيوں ميں اُردو ناول کے موضوعات و رجحانات

اردو کے حروف تہجی

 اُردو ناول ميں ارتقائي تبديليوں کي بڑي وجہ سماج ميں معاشرتي، معاشي اور سياسي تغيرات ہيں- اگر ناول کي ابتداء سے بات کريں تو 1857ء کي جنگِ آزادي برطانوي راج، بعد ازاں تحريک پاکستان کي جدو جہد، قيام پاکستان اور ايک خون آشام ہجرت ہے جو طويل عرصے تک ہمارے اُردو ناول کا موضوع رہي ہے- دراصل ناول ميں زندگي کا مطالعہ ايک 'کل' کي صورت ميں کيا جاتا ہے لہٰذا اس کل کي تشکيل کرنے والے جملہ تہذيبي، تاريخي، سماجي اور اقتصادي امور سے آگہي ضروري ہوجاتا ہے- خصوصاً جب ہم بيسويں صدي کي آخري دو دہائيوں ميں ناول کي صنف کا جائزہ ليتے ہيں تو کم و بيش پچاس، ساٹھ سال ماضي کے پس منظر کو اجاگر کرنا ضروري ہوجاتا ہے تب ہي ان دو دہائيوں کي معنويت اجاگر ہوتي ہے-

يہ کوئي ڈھکي چھپي بات نہيں کہ پاکستان کا سياسي ماحول کبھي بھي مستحکم نہيں رہا اور اس کے اثرات زندگي کے ہر شعبے کي طرح ادب پر بھي پڑے- يہ سياسي ماحول آغاز سے ہي جس نہج پر استوار ہوا اس ميں پاکستانيت، نظريہ پاکستان، مسلمان کے طرزِ احساس وغيرہ جيسے الفاظ کو بڑي اہميت حاصل ہوئي- ايک سطح پر تو نہايت سنجيدہ مباحث ہوئے مگر دوسري طرف کچھ لوگوں پران لفظوں نے شہرت عام و بقائے دوام کے دربھي واکئے- مصلحت کے پس منظر ميں يقيناً وہ تحفظ کا احساس چھپا ہوا تھا جو ان پر ادبي اور ثقافتي اداروں کي رکنيت کي چھاپ لگاتا تھا- ميں احمد جاويد کے مضمون "پاکستاني ادب کي شناخت کے ان لفظوں کو شک کي نظر سے ديکھتي ہوں کہ:

"پاکستان چونکہ مارشلاوں کي زد ميں رہا اس لئے ادب کي جمہوري اقدار کي رياستي سطح پر تو خير کيا پذيرائي ہونا تھي بعض دانشوروں کے ہاں بھي قبوليت کا درجہ حاصل نہ کرسکيں اور ايسا ادب بسا اوقات رياستي نظريئے کي ضد قرار پايا جو عوامي امنگوں اور جمہوري قدروں کي پاسداري کرتا تھا-"

اس ميں صرف يہاں تک بات درست ہے کہ پاکستان اپنے قيام کے بعد سے مسلسل فوجي حکمرانوں کے ہاتھ ميں کھلونا بنا ہوا ہے- اختصار کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تفصيل کچھ يوں ہے کہ پاکستان ميں پہلا مارشل لاء 17 اکتوبر 1958ء کو نافذ کيا گيا يوں ايوب خان جو پاکستان کي بري افواج کے پہلے مسلمان اور پاکستاني کمانڈر انچيف تھے- بر سرِ اقتدار آگئے- يہ مارشل لاء 8 جون 1962ء تک مسلط رہا- 25 مارچ 1969ء کو يحيٰي خان نے ملک ميں دوسرا مارشل لاء نافذ کرديا جو تقريباً پونے تين سال مسلط رہا- يحيٰي خان نے 1970ء کے انتخابات کرائے تو ايک موقع ہاتھ آيا ليکن عوامي ليگ کي کاميابي کے بعد بھي جب اقتدار منتقل ہوتا نظر نہ آيا تو بنگالي مسلح جدوجہد پر اتر آئے جو بنگلہ ديش کے قيام پر ختم ہوئي- يوں يحيٰي خان کي فوج آمريت نے ملک کے دو ٹکڑے کرديئے- ذوالفقارعلي بھٹو نے 20 دسمبر 1971ء کو پاکستان کے صدر اور چيف مارشل لاء ايڈمنسٹريٹر کا عہدہ سنبھالا- بھٹو ملک ميں پہلے سويلين چيف مارشل لاء ايڈمنسٹريٹر تھے- يہ صورتحال 21 اپريل 1972ء تک رہي- جب ايک عبوري دستور نافذ کرکے مارشل لاء ہٹايا گيا- 14 اگست 1973ء کو ملک کا تيسرا دستور نافذ ہوا تو بھٹو نے عہدہ صدارت چھوڑ کر وزارتِ عظمٰي کا عہدہ سنبھال ليا-

1971ء سے پہلے کے دور ميں جھانکيں تو نظر آتا ہے کہ ملک اپني تاريخ کے مايوس ترين دور سے گزر رہا ہے- عوام مايوسيوں اور تاريکيوں ميں ڈوبے ہوئے تھے- مشرقي پاکستان کا سانحہ اور فوجي شکست لوگوں کے دلوں کو کچوکے لگا رہي تھي- عوام اعتماد کھوچکے تھے- اور ان کے ذہنوں ميں نئے خدشات اور مزيد شکست وريخت کے خطرات اور انديشے سر ابھار رہے تے- پاکستان فالج زدہ لگ رہا تھا- ملک کي معاشي و تجارتي حالت دگرگوں تھي- خزانہ خالي ہوچکا تھا- اسکے علاوہ اسي دوران پاکستان کو بين الاقوامي سطح پر بھي ناکاميوں کا سامنا کرنا پڑا اور انڈين پروپيگنڈہ نے اسے تنہا اور بے دست وپاکر ديا جو ممالک 1965ء ميں دوستي کا دم بھرتے تھے 1971ء کي جنگ ميں تقريباً لاتعلق رہے- ہر شعبے ميں بحران ہي بحران دکھائي ديتا تھا- دل شکستہ عوام مستقبل سے خائف تھے ابلاغِ عامہ کے عالمي ذرائع کا پاکستان کے خلاف پروپيگنڈہ پاکستاني عوام کے رہے سہے حوصلوں کو بھي پست کر رہا تھا- ايسے ميں بھٹو کے پوري دنيا ميں طوفاني دورے، 1974ء ميں اسلامي سربراہي کانفرنس، اقوام متحدہ ميں تيسري دنيا کے ملکوں کے لئے آواز بلند کرنا، بين الاقوامي اقتصادي نظام کي تشکيل کے لئے راہيں ہموار کرنا، پاکستان کو ايٹمي توانائي فراہم کرنے کي ان تھک اور کامياب کوششوں کے خاطر خواہ نتائج سامنے آنا شروع ہي ہوئے تھے کہ 1977ء ميں ايک مرتبہ پھر ملک آمريت کا شکار ہوا اور پاکستان کي تاريخ ميں پہلي بار ايسا ہوا کہ چيف آف آرمي سٹاف نے اپني باقاعدہ فوجي سروس کے دوران ميں ريفرنڈم کے ذريعے عوامي توثيق حاصل کي- کس طرح؟ يہ الگ کہاني ہے- 1985ء ميں آئيني ترميم کے بعد جنرل ضياءالحق کو سياسي طور پو وسيع اختيارات حاصل ہوگئے- اس عرصے کے دوران فوج ان کي وفادار رہي اور يہ سلسلہ نجانے کب تک جاري رہتا کہ سانحہ بہاولپور وقوع پذير ہوا اور جنرل ضياءالحق مارے گئے-

اس کے يکے بعد ديگرے، سياسي حکومتيں بنتي اور بگڑتي رہيں کہ ايک مرتبہ پھر 14 اکتوبر 1999ء ميں جنرل پرويز مشرف چيف ايگزيکٹو بن کر عوام کے سروں پر مسلط ہوگئے- انہوں نے بھي ريفرنڈم کے ذريعے اپني صدارتي مدت ميں توسيع کي اور کئي سال تک صدرِ پاکستان کے عہدے پر قابض رہے-

جو ملک اتنے فوجي آمروں کے ہاتھ ميں رہا ہو وہاں جمہوريت، معاشي اور سياسي استحکام کس طرح پيدا ہوسکتا ہے- ہر حکمران نے حکومت سنبھالتے ہوئے سب سے پہلے خزانہ خالي ہونے کا رونا رويا ہے- بھٹو کے دور ميں کچھ صنعتوں کو قوميانے سے ملکي معيشت بري طرح متاثر ہوئي- علاوہ ازيں ملک کا ہر شعبہ متاثر ہوا- افغانستان سے مہاجرين نے پاکستان ہجرت کي جس سے ملکي معيشت بہت متاثر ہوئي- علاوہ ازيں ملک ميں اسلحہ، کلاشنکوف کلچرمتعارف ہوا- سانحہ اوجڑي کيمپ پيش آيا- ضياء الحق کے بعد بے نظير، نواز شريف کي حکومتيں بنتي بگڑتي رہيں اور کوئي بھي جمہوريت پر مبني نظام ملک ميں کاميابي سے ہمکنار نہيں ہوسکا- اس دوران کراچي کے سياسي حالات ابتري کا شکار ہوئے اور ايم کيو ايم نے مہاجرين کے استحصال کے خلاف آواز اٹھائي- کراچي جسے روشنيوں کا شہر اور عروس البلاد کہا جاتا ہے خون ريزي اور دہشت گردي کے اندھيروں ميں ڈوب گيا اور پاکستان کا دارلحرب بن گيا- جنرل مشرف نے Take over سے قبل نواز شريف کے دور ميں پاکستان اور انڈيا کي فوجيں ايک متربہ پھر کارگل ميں ٹکرائيں- نواز شريف کو امريکہ طلب کيا گيا- واپسي پر نواز شريف اور چيف آف آرمي سٹاف ميں اختلاف بڑھا اور مشرف نے کچھ عرصہ بعد بساط الٹ دي اور يوں جمہوري حکومت اپني مدت پوري کئے بغير ناکام ہوگئي-


متعلقہ تحريريں:

قوميت کي تعمير ميں زبان کي اہميت (حصّہ دوّم)