• صارفین کی تعداد :
  • 1503
  • 11/18/2011
  • تاريخ :

قرآن سے شفاعت ( حصّہ سوّم )

قرآن حکیم

پھر فرمايا: قرآن اس کے بعد ايک دوسري صورت اختيار کرے گا راوي نے پوچھا: وہ کيا صورت ہوگي؟ فرمايا: ايک مسافر کي صورت جس کا رنگ سفر کي تکان سے متغير ہوگيا ہوگااہل محشر اسے ديکھيں گے اس وقت ايک شخص ہمارے شيعوں ميں سے آئے گا جو اس کو پہچانتا ہوگا اور وہ محافظ قرآن سے اس کے بارے ميں بحث کيا کرتا تھا وہ اس کے سامنے کھڑے ہوکر کہے گا: تو نے مجھے پہچانا نہيں؟ وہ شخص اس کي طرف ديکھ کر کہے گا: اے بندہ خدا! ميں نے تجھے نہيں پہچانا تب قرآن اپني اصل صورت ميں آ کر کہے گا: تو نے اب بھي نہ پہچانا؟ وہ کہے گا: ہاں پہچان ليا تو قرآن کہے گا: ميں وہي ہوں جس کي وجہ سے تو راتوں کو بيدار تھا اور اپنے عيش کو ترک کيا تھا اور ميرے بارے ميں لوگوں کي طعن آميز باتيں سني تھيں- سب تاجروں نے اپني تجارت کا نفع پاليا آج ميں تجھے نفع پہنچاؤ ں گا حضرت نے فرمايا: پھر قرآن اسے لے کر خدا کے پاس آئے گا اور کہے گا: اے پروردگار! يہ تيرا بندہ ہے اور تو اس کا حال بہتر جاننے والا ہے اس نے ميري وجہ سے ہميشہ تکليف اٹھائي اور ميرے سبب سے لوگوں کو اپنا دشمن بنايا ميرے ليے اس نے لوگوں سے دوستي يا دشمني کي- خدا فرمائے گا: ميرے اس بندہ کو ميري جنت ميں داخل کرو اور جنت کا لباس اسے پہناؤ اور اس کے سر پر تاج رکھو-

جب يہ سب ہوچکے گا تو قرآن پيش کرکے کہا جائے گا جو تيرے دوست کے ساتھ کيا گيا اس پر تو راضي ہے وہ کہے گا: اے پروردگار! ميرے لےے يہ تو کم ہے اور زيادہ خير و برکت عطا فرما، خدا فرمائے گا: قسم ہے اپنے عزت و جلال اور بلندي اور ارتفاع مکاني کي! ميں اس کے علاوہ پانچ چيزيں اور اس کے ليے اور جو اس کے درجے کا ہے اس کے ليے اضافہ کرتا ہوں-

آگاہ ہوجاؤ! وہ ہميشہ ايسے جوان رہيں گے بوڑھے نہ ہوں ، ايسے تندرست رہيں گے بيمار نہ ہوں گے، وہ ايسے مال دار رہيں گے کہ محتاج نہ ہوں گے ، ايسے خوش رہيں گے کہ رنجيدہ خاطر نہ ہوں گے ، ايسے زندہ رہيں گے کہ مريں گے نہيں- پھر حضرت امام محمد باقر   - نے اس آيت کي تلاوت فرمائي : ”‌جو جنت ميں ہوں موت کا مزہ نہ چکھيں گے سوائے پہلي موت کے (5) اس (سعد) کا بيان ہے: ميں نے عرض کيا: اے ابو جعفر! ميں آپ پر قربان! کيا قرآن بھي بولتا ہے؟ حضرت نے مسکرا کر فرمايا: اللہ رحم کرے ہمارے ضعيف شيعوں پر کہ! وہ ہماري بات کو قبول کر ليتے ہيں (اور اس کو تسليم کرتےہيں) پھر فرمايا: اے سعد! نماز بھي بولتي ہے اس کي صورت و خلقت ہے وہ روکتي ہے حکم ديتي ہے، سعد نے کہا: يہ سن کر ميرا چہرہ متغير ہوگيا ميں نے کہا: يہ ايسي بات ہے کہ ميں لوگوں کے سامنے کہہ نہيں سکتا؟ حضرت امام محمد باقر   - نے کہا: سمجھ دار لوگ تو ہمارے شيعہ ہي ہيں جس نے نماز کو نہ پہچانا اس نے ہمارے حق سے انکار کيا- پھر فرمايا: اسے سعد! کيا ميں اب تمہيں قرآن کي آيت سناؤ ں؟ ميں نے کہا: ضرور سنائيں، فرمايا: يقينا نماز بدکاري اور برے کاموں سے روکتي ہے اور اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے پس يہي کلام ہي تو ہے اور فحشاء و منکر کے مصداق عام لوگ ہيں اور ذکر اللہ سے مراد ہم ہيں اور ہم اکبر ہيں-

وَفيہِ باسنادہ عَنْ ابي بصيرٍ قالَ: سَمِعتُ ابا عَبد اللّٰہ عليہ السلام يَقولُ اِنّ القُرآنَ زاجِرٌ وَآمِرٌ يامُرُ بالجَنَّةِ وَيزجُرُ عَن النارِ “

نيز اسي کتاب ميں اپني سند کے ساتھ کليني عليہ الرحمہ نے ابو بصير سے روايت کي ہے کہ انہوں نے کہا: ميں نے حضرت امام جعفر صادق   - کو يہ کہتے سنا ہے کہ: يقينا قرآن روکنے والا اور حکم دينے والا ہے اور جنت کي طرف حکم ديتا ہے اور جہنم کي طرف جانے سے روکتا ہے-

”‌وَفيہِ باسنادہِ عَنْ يونسِ ابن عمارٍ قالَ: قالَ ابو عَبد اللّٰہ عليہ السلام انّ الدواوينَ يَوم القيٰمةِ ثَلاثَةٌ ديوانٌ فيِہِ النِعَمُ وَديوانٌ فيِہِ الحَسناتٌ وَديوانٌ فيِہِ السيئاتٌ فَيقابَلُ بينَ ديوانِ النِعَمِ وَديوانِ الحَسناتِ فَستَغْرِقُ النعمُ عامةَ الحسناتِ ويَبقي ديوانُ السيئاتِ فَيُدعي بابُن آدَمَ المومِنِ للحِسابِ فَيَتَقَدمُ القُرآنُ امامہُ في

قرآن کے متعلق اس حديث ميں جو اوصاف بيان کيے گئے ہيں وہ استعارہ و تمثيل کي صورت ميں ہيں يعني اگر قرآن وجود ظاہري اختيار کرتا تو يہ صورت ہوتي-

اَحسَنِ  صورةٍ  فَيقولُ يا رَبّ انَا القُرآنُ وَھذا عَبدُکَ المومِنُ قد کانَ يُتْعِبُ نَفْسَہُ بِتِلاوتي وَيُطيلُ لَيلِہِ بِتَرتيلي وَتَفيضُ عَيناہُ اِذا تَحَجَّدَ فَارضِہِ کَما اَرضاني قالَ: فَيَقولُ العَزيزُ الجَبارُ عَبدي اَبْسُطْ يَمينَکَ فَيَملاھا مِن رِضوانِ اللّٰہِ الْعَزيزُ الجَبارِ وَيَملاءُ شِمالَہُ مِنْ رَحمَتِ اللّٰہِ ثُمّ يُقالُ : ھذہِ الجَنَّةٌ مُباحَةٌ لَکَ فَاقْرا وَاصْعَدُ فِاذا قَرَا آيةً صَعْدَ دَرَجَةً “

بشکريہ اسلام شيعہ – ڈبليو ڈاٹ کام