• صارفین کی تعداد :
  • 1209
  • 11/18/2011
  • تاريخ :

 دشمن شناسي

بسم الله الرحمن الرحیم

حضور اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي سيرت کا ايک اہم پہلو يہ ہے کہ آپ اپنے تمام دشمنوں کو برابر نہيں سمجھتے تھے- بعض افراد کو آنحضرت (ص) سے حد درجہ دشمني تھي ليکن اگر آپ (ص) مشاہدہ فرماتے تھے کہ ان کي دشمني سے کوئي خاص خطرہ نہيں ہے تو ان کے خلاف سخت رويہ اختيار نہيں کرتے تھے- اس کے برخلاف بعض ايسے تھے جو خطرناک عزائم رکھتے تھے، حضور (ص)بھي ان پر نظر رکھتے تھے- ''عبد اللہ ابن ابي'' کو ہي لے ليجئے، يہ شخص منافقوں کا سردار تھا، نت نئي سازشيں بھي رچا کرتا تھا ليکن چونکہ سرور کائنات (ص) اس پر نظر رکھے ہوئے تھے لہٰذا کوئي سخت رويہ اختيار نہيں کرتے تہے، جب تک آپ (ص) مدينہ ميں حيات رہے وہ بھي اسي مدينہ ميں رہا- اس طرح کے دشمنوں سے حکومت اور اسلامي معاشرہ کو کوئي خاص خطرہ لاحق نہيں تھا- ہاں! اگر کسي دشمن سے بڑے خطرے کا امکان ہوتا تو حضور (ص) انتہائي سخت رويہ اختيار فرماتے تھے- مہر و محبت، رحم و کرم اور عفو و گذشت جيسے اعليٰ صفات کے حامل پيغمبر خدا (ص)  نے جب اہم خطرہ محسوس فرمايا تو بني قريظہ کے خائنوں کو جن کي تعداد کئي سو تہي ايک ہي دن ميں تہ تيغ کرنے کا حکم ديا، بني نظير اور بني قينقاع کو شہر بدر کيا اور خيبر فتح کيا، آپ (ص) نے ايسا اس لئے کيا کہ يہ خطرناک دشمن تھے، حضور (ص) ابتدائي ايام ميں ان کے ساتھ بڑي مہرباني اور لطف و کرم کے ساتھ پيش آئے ليکن انہوں نے خيانت کي، دھوکہ ديا، سازشيں رچيں، دھمکياں ديں- رسول اکرم (ص) نے عبد اللہ ابن ابي کي منافقتوں کو تحمل فرمايا، مدينہ ميں بسنے والے يہوديوں کو برداشت کيا، پناہ ميں آنے والے بے ضرر قرشيوں پر مہربان رہے، فتح مکہ کے وقت ابوسفيان جيسے افراد کو بھي بخش ديا ليکن ان خطرناک اور غير قابل اطمينان دشمنوں کو سر کچل کے رکہ ديا-

 ولي امر مسلمين حضرت آيت اللہ سيد علي خامنہ اي کے خطاب سے اقتباس

(خطبات نماز جمعہ، تہران، 1379-2-23)

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

 اپنے اصحاب کے ساتہ مزاح فرماتے تہے

روزي کو کم و زيادہ کرنے والے عوامل (دوسرا حصّہ)

روزي کو کم و زيادہ کرنے والے عوامل

ديني غيرت کو فراموش مت کريں (حصّہ دوّم)

ديني غيرت کو فراموش مت کريں