• صارفین کی تعداد :
  • 1374
  • 11/18/2011
  • تاريخ :

امام (ع) کا نبي کي حمايت کرنا (حصّہ دوّم)

امام علي (ع)

جنگ خندق

جنگ خندق کو”‌ واقعہ احزاب“ کھا جاتا ھے اس کو احزاب اس لئے کھا جاتا ھے کہ اس ميں کئي قبيلوں نے مل کر رسول اللہ(صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) سے جنگ کي تھي ،جس سے مسلمان تنگ آگئے تھے اور ان پر رُعب و خوف طاري ھو گيا تھا جو مشرکين کے لشکر کي طاقت کا سبب بنا اور ان سے يھودي آکر مل گئے جن کي تعداد دس ہزار تھي ،اور مسلمانوں کے لشکر کي تعداد تين ہزار تھي اس معرکہ ميں مسلمانوں پرجو رعب طاري ھو گيا تھا اس کو قرآن کريم نے يوں بيان کيا ھے :< اظذْ جَاءُ وکُمْ مِنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْکُمْ وَاظ•ِذْ زَاغَتْ الْاَبْصَارُ وَبَلَغَتْ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِر>-

”‌اس وقت جب کفار تمھارے اوپر کي طرف سے اور نيچے کي سمت سے آگئے اور دھشت سے نگاھيں خيرہ کرنے لگيں اور کليجے منھ کو آنے لگے ---“-

اللہ نے اسلام کي فتح وکاميابي امام المتقين امير المو منين حضرت علي(ع) کے ھاتھوں لکھ دي تھي ،علي(ع) ھي وہ تھے جنھوں نے مشرکين پر فتح مبين پا ئي اور ان کے لشکر کو شکست کا سامنا کرنا پڑا -

خندق کھودنا

جب نبي (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) کو قريش اور غطفان کے قبيلوں کے جنگ کرنے کي غرض سے نکلنے کي خبر ملي تو آپ(صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے اپنے اصحاب کو جمع کرکے اس بات کي خبر دي اور اُن سے دشمن کو روکنے کے لئے مشورہ طلب کيا آپ(صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) کے جليل القدر صحا بي سلمان فارسي نے مدينہ کے چاروں طرف خندق کھودنے کا مشورہ ديا -نبي (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے اس مشورہ کو درست ٹھھرايا اور آپ (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) اپنے اصحاب کے ساتھ خندق کھودنے کےلئے کھڑے ھوگئے يہ مسلمانوں کے لئے دشمنوں کے شر سے بچنے کے لئے اچھي حکمت تھي ، قريش وھاں پر آکر ٹھھر گئے ، اور اس سے آگے بڑھنے کےلئے ان کے پاس کو ئي چارہ نھيں تھا اور وہ مسلمانوں سے جنگ کرنے کےلئے ان کے پاس نھيں پھنچ سکتے تھے ،اس جنگ ميں بڑے بڑے افراد نے خد مت کي، اور فريقين کے درميان تير اندازي کرنے کے علاوہ عام طريقہ سے جنگ کر نے کا کو ئي امکان نھيں تھا -


متعلقہ تحريريں:

کيا ہم  بھي عيد غدير کي اہميت کو اجاگر کرنے ميں  اپنا حصّہ ڈال سکتے ہيں ؟ ( حصّہ سوّم )