• صارفین کی تعداد :
  • 2810
  • 11/11/2011
  • تاريخ :

مخالفت كى اقسام

ایران

اسلام كے سياسى نظام ميں رہبرى اور ولايت كے اعلى مقام كى وضاحت كے بعد اس نكتہ كى تحقيق ضرورى ہے كہ كونسے موارد ميں رہبر كى اطاعت واجب ہے؟ اور كونسے موارد ميں ولى فقيہ كى مخالفت كى جاسكتى ہے؟ اس سے پہلے يہ جان لينا ضرورى ہے كہ مخالفت دو طرح كى ہوتى ہے :

الف : مخالفت عملى ب : مخالفت نظري

مخالفت عملي: سے مراد يہ ہے كہ حكومت كے فرامين اور قوانين پر عمل نہ كرنا - جو شخص كسى حكومت كى عملا مخالفت كرتا ہے وہ در حقيقت ملكى مجرم ہے اور عملاً اس حكومت كے سياسى اقتدار كے ساتھ بر سر پيكار ہے-

مخالفت نظرى :كا تعلق اعتقاد ، را ے اور نظر و فكر سے ہے- وہ شخص جسے حكومت كے بعض قوانين اور منصوبوں پر اعتراض ہے اورانہيں صحيح نہيں سمجھتا ليكن عملى طور پر مخالفت بھى نہيں كرتا اسے نظرى مخالف كہا جاتا ہے- ايسے شخص كو قانون شكن يا ملكى مجرم نہيں كہتے بلكہ بعض منصوبوں كے متعلق اس كى را ے حكومت كى را ے سے مختلف ہوتى ہے-

ولى فقيہ كى مخالفت كا امكان

ان دو تمہيدى نكات يعنى رہبرى اور ولايت كا مقام اور اس كى مخالفت كى اقسام كے ذكر كرنے كے بعد اس سبق كے اصلى سوال كے جواب كى بارى آتى ہے-سوال يہ تھا كہ نظام ولايت ميں ولى فقيہ كى اطاعت واجب محض ہے يعنى كسى بھى صورت ميں اسكى مخالفت نہيں كى جاسكتى نہ عملى نہ نظرى يا شرعاً اس كى مخالفت ممكن ہے؟

وہ احكام يا فرامين جوولى فقيہ صادر كرتا ہے دوسرے سياسى نظاموں كے صاحبان اقتدار كے فرامين كى

252 طرح دو اركان پر مشتمل ہوتے ہيں-

الف: موضوع كى شناخت -

ب : اس موضوع كے مناسب حل كى تشخيص يعنى حكم كى شناخت -

حالات اور موضوع كى دقيق اور گہرى شناخت ہر قسم كے فيصلے اور حكم كيلئے ضرورى ہے- مخصوصاً وہ موضوعات جن كا تعلق ملك كے اجتماعى مسائل سے ہو اور جو عوام كى تقدير پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہوں مثلا وہ مسائل جن كا تعلق ملك كے امن و امان ، ثقافت اور اقتصاد سے ہے- اس قسم كے اہم اور بنيادى موضوعات ميں بہت كم ايسے موارد ملتے ہيں جن ميں تمام صاحبان نظر كى آراء مكمل طور پر ايك دوسرے سے ملتى ہوں - اس قسم كے كسى مسئلہ ميں اگر ولى فقيہ كوئيحكم صادر كرے توممكن ہے اس نے جو موضوعات كى تشخيص دى ہے وہ دوسرے صاحبان نظر كى رائے كے مخالف ہو - كيا اس بات پر كوئي دليل ہے كہ ولى فقيہ كى تشخيص ،كلى طور پر تمام موارد ميں دوسرے موضوع شناس افراد كى تشخيص پر ترجيح ركھتى ہے ؟ اور نتيجتاً اس موضوع كى شناخت كا قبول كرنا تمام افراد پر واجب ہے - اور وہ اس كى مخالفت ميں اپنى را ے كے اظہار كا حق نہيں ركھتے؟

اگر ولى فقيہ نے صدور حكم اور اپنے فيصلہ كو آخر ى شكل نہيں دى تو پھر اس موضوع كے سلسلہ ميں صاحبان نظر كيلئے نقد و تنقيد اور تحقيق و بررسى كا دروازہ كھلا ہے- اور ولى فقيہ كے نظريہ كامعلوم ہوجانا اس بحث و تحقيق ميں ركاوٹ نہيں بن سكتا -اولياء دين كى عملى سيرت گواہ ہے كہ انہوں نے اپنے دوستوں كو اجازت دے ركھى تھى كہ وہ ان موضوعات و مسائل ميں اپنى را ے دے سكتے ہيں ، چاہے وہ ان كى را ے كے مخالف ہى كيوں نہ ہو - ان كا مسلمانوں اور اپنے دوستوں سے مشورہ لينا اس بات كى نشاندہى كرتا ہے كہ '' شناخت موضوع'' ميں ان كى اطاعت ضرورى نہيں ہے-

ليكن جس وقت ولى فقيہ اور اسلامى معاشرہ كا حاكم كسى موضوع كو آخرى شكل دے دے اور ايك حكم صادر كردے تو تمام افراد پر اس حكم كا اتباع كرنا واجب ہے اور كسى كو حق نہيں پہنچتا كہ وہ شناخت موضوع ميں اختلاف نظر كے بہانے اس الزامى حكم كى مخالفت كرے اور ملكى مجرم بنے- بنابريں ولى فقيہ كے احكام اور فرامين كى عملى اطاعت ضرورى ہے اگر چہ شناخت موضوع ميں ايسا نہيں ہے-

ولى فقيہ كے احكام كى اطاعت كے وجوب كى فقہى دليل مقبولہ عمر ابن حنظلہ جيسى بعض روايات ہيں كہ جن ميں حاكم كے حكم كى مخالفت كو حكم خدا كے خفيف سمجھنے،مخالفت اہلبيت اور خدا كے حكم سے روگردانى كرنے كے مترادف قرار ديا گيا ہے-

''فاذا حكم بحكمنا فلم يقبل منہ فانّما استخف بحكم اللہ و علينا ردّ و الرادّ علينا الراد على الله ''(1)

ممكن ہے كوئي يہ تصور كرے كہ اس روايت ميں انكار اور عدم جواز ردّ سے مراد حكم قاضى كا رد كرنا ہے اور حاكم شرع اور ولى فقيہ كا حكومتى حكم اس ميں شامل نہيں ہے - يہ تصور اس غفلت كا نتيجہ ہے كہ قضاوت بھى جامع الشرائط فقيہ كى ولايت كا ايك شعبہ ہے- جب ايك مخصوص جزئي نزاع ميں فقيہ كے حكم كى مخالفت نہيں كى جاسكتى تو فقيہ كے اس سے بڑے منصب ميںجو كہ اسلامى معاشرہ كا نظام چلانا ہے، اور حكومتى احكام صادر كرنا ہے ميں يقيناً اس كے فرامين كى مخالفت جائز نہيں ہے- علاوہ ازيں امام صادق نے يہ جملہ فقيہ كو منصب حكومت پر فائز كرنے كے بعد فرمايا ہے پس يہ حديث حاكم كى مخالفت كے متعلق ہے اورصرف قاضى كى مخالفت ميں منحصر نہيں ہے-

حاكم اور ولى امر كى عملى مخالفت جائز نہيں ہے ليكن نظر اور را ے ميں اس كا ساتھ دينا ضرورى نہيں ہے- يعنى مومنوں پر واجب نہيں ہے كہ وہ اعتقاد اور نظر ميں بھى حاكم كے ہم را ے اور ہم خيال ہوں بلكہ ان سے فقط يہ كہا گيا ہے كہ عملاًاس كے مطيع ہوں اور اختلال نظام كے اسباب پيدا نہ كريں اسى وجہ سے بعض فقہاء نے اگر چہ حكم حاكم كى مخالفت اور ردّ كرنے كو حرام قرار ديا ہے ، ليكن اس كے متعلق بحث كو حرام قرار نہيں ديا-(1)

ولى فقيہ كى اطاعت كا دائرہ حكومتى احكام تك محدود ہے - اگر ولى فقيہ كسى مورد ميں حكم نہيں ديتا بلكہ فقط ايك چيز كو ترجيح ديتا ہے يا مشورے كے طور پر اپنى رائے كا اظہار كرتا ہے ہے ،تو اس وقت اس كى اطاعت شرعاً واجب نہيں ہے- اسى طرح ولى فقيہ كے حكومتى حكم كى اطاعت اس كے مقلدين كے ساتھ مخصوص نہيں ہے بلكہ ہر مسلمان مكلف حتى كہ صاحب فتوى مجتہد پر بھى اس حكومتى حكم كى اطاعت واجب ہے-(2)

آنے والے سبق ميں ہم حكومتى حكم كى حقيقت و ماہيت اور اس سے متعلقہ مباحث پر تفصيلى گفتگو كريں گے- اسلامى معاشرہ كے رہبر كے حكم كے نفوذ اور اس كى عملى مخالفت كے عدم جواز پر اسلام كى تاكيد اور اصرار اس وجہ سے ہے كہ اسلامى حاكم امت مسلمہ كى عزت و اقتدار كا محور ہے، امت كى وحدت اور اس كى صفوںميں اتحاد عادل ، فقيہ، امين اور متقى رہبر كى عملى اطاعت اور ہمراہى ميں مضمر ہے - اس كى عزت، امت مسلمہ كى حفظ حرمت اور احترام كا باعث بنتى ہے- محمد ابن سنان نے جب امام رضا سے جنگ سے فرار ہونے كى حرمت كى وجہ پوچھى تو آپ نے فرمايا:

اللہ تعالى نے جنگ سے فرار كو اسلئے حرام قرار ديا ہے چونكہ يہ فرار دين كے ضعف و كمزورى اور انبياء كرام (ع) اورعادل ائمہ كو خفيف سمجھنے كا باعث بنتا ہے اور دشمن كے مقابلہ ميں ان كى نصرت كے ترك كرنے كا موجب بنتا ہے- اور يہ كام مسلمانوں كے خلاف دشمن كى جرا ت ميں اضافہ كرتا ہے-(1)

امام صادق رسولخدا (ص) سے نقل كرتے ہيں : مسلمان كيلئے جائز نہيں ہے كہ وہ ايسى مجلس ميں حاضر ہو جس ميں امام كو برا بھلا كہا جاتا ہو - حديث يہ ہے:

''قال رسول الله (ص) من كان يۆمن باللہ و اليوم الاخر فلا يجلس فى مجلس يسبّ فيہ امام ... ''(2)

آنحضرت فرماتے ہيں جو خدا اور روز قيامت پر ايمان ركھتا ہے اس كيلئے جائز نہيں ہے كہ ايسى مجلس ميں حاضر ہو جس ميں امام كو برا بھلا كہا جاتا ہو-

آخر ميں اس نكتہ كا بيان كرنا ضرورى ہے كہ ہمارى بحث اس ميں تھى كہ شرعاً ولى امر كى اطاعت كا دائرہ كہاں تك ہے - اور قانونى اطاعت ہمارى بحث سے خارج ہے- كيونكہ ہر حكومت كے مختلف اداروں كے كچھ قوانين و ضوابط ہوتے ہيں كہ جن كا قانونى لحاظ سے اتباع واجب ہوتا ہے  اور ان كى خلاف ورزى كرنے والے كا محاكمہ ہوتا ہے- ولايت فقيہ والے نظام ميں حكومتى احكام و فرامين كى قانونى اطاعت كے علاوہ شرعى اطاعت بھى واجب ہے -

نوٹ: وہ ممالك جو ولى فقيہ كے زير سايہ ہيں اس ميں رہنے والے مسلم و غير مسلم اسى طرح وہ ممالك جن پر ولى فقيہ كا كنٹرول نہيں ہے ميں بسنے والوں كيلئے ولى فقيہ كے حكم كى اطاعت كہاں تك واجب ہے - اس كيلئے ضميمہ 2 و 3 كى طرف رجوع كريں-

خلاصہ :

1) اصل عدم ولايت اور اس كو ديكھتے ہوئے كہ ولى حقيقى فقط خدوند كريم كى ذات ہے- ہر قسم كى ولايت كى مشروعيت كا سرچشمہ براہ راست يا بابلواسط تقرّر الہى ہے-

2)فقيہ كى ولايت انتصابى كى بنياد پر سياسى نظام كے تمام اركان اپنى مشروعيت اور جواز ''ولايت فقيہ''سے اخذ كرتے ہيں - يہ امر اس منصب كے اعلى مقام كى نشاندہى كرتا ہے-

3)صرف عوام كى را ے كسى شخص كو قانون گذارى اور امر و نہى كے منصب كا حامل قرار نہيں ديتى -

4)سياسى صاحبان اقتدار كى مخالفت كى دو قسميں ہيں ، مخالفت عملى اور مخالفت نظري-

5) جرم عملى مخالفت كے ذريعہ ہوتا ہے- البتہ كسى فرمان يا قانون كے صحيح نہ ہونے كااعتقاد ركھنا ملكى جرم كا باعث نہيں بنتا-

6) ولى فقيہ كے احكام اور فرامين كى عملى مخالفت جائز نہيں ہے - جبكہ اس كى نظرى موافقت ضرورى نہيں ہے-

7) دوسرے نظاموں كے مقابلہ ميں نظام ولايت فقيہ كو يہ امتياز حاصل ہے كہ اس نظام ميں حكومتى قوانين كى عملى مخالفت جرم كے ساتھ ساتھ شرعى مخالفت بھى شمار ہوتى ہے-

8)فقيہ عادل كے حكومتى احكام كى اطاعت كا وجوب مقبولہ عمر ابن حنظلہ جيسى روايات سے ثابت ہوتا ہے-

9)ولى فقيہ كے حكومتى احكام كى اطاعت صرف اس كے مقلدين كے ساتھ مخصوص نہيں ہے - بلكہ ہر مكلف چاہے وہ مجتہد و فقيہ ہى كيوں نہ ہو اس پر ان احكام كى اطاعت واجب ہے-

بشکريہ رضويہ ڈاٹ نيٹ


متعلقہ تحريريں:

انقلاب کے ارتقاء ميں ثقافتي تحريکوں کا کردار