• صارفین کی تعداد :
  • 699
  • 11/11/2011
  • تاريخ :

قوميت کي تعمير ميں زبان کي اہميت (حصّہ دوّم)

سوالیہ نشان

پروفيسر حافظ محمود شيراني اردو زبان وادب کي جڑيں تلاش کرتے ہوئے لکھتے ہيں

"ہميں ماننا پڑے گا کہ يہ زبان ہندوستان ميں مسلمانوں کے داخلے اور توطن گزيني کا نتيجہ ہے اور جوں جوں اس کي سلطنت اس ملک ميں وسعت اختيار کرتي گئي يہ زبان بھي مختلف صديوں ميں پھيلتي گئي دسويں صدي سے اس ميں تصنيفات کا سلسلہ جاري ہوجاتا ہے جو سب سے پہلے گجرات ميں اور بعد ميں دکن ميں شروع ہوتا ہے اس سے پيشتر اس زبان کے وجود کا پتہ صرف فارسي تصنيفات سے لگ سکتا ہے جو نويں آٹھويں اور ساتويں قرن ہجري ميں ہندوستان ميں لکھي گئي ہيں-" (3)

اور بقول پروفيسر مرزا محمد منور:

"ہندوۆ ں کي اردو زبان ميں زبان اشتراک کي حيثيت بھي اس ليے گوارا نہ تھي کي اس کا ظاہري پيکر بہرحال فارسي عربي تھا اور وہ مہاتماجي کے بقول قرآن کے حروف اور اسلوب کا مالک تھا اصلي تکليف يہ تھي کہ اردو ابجد کي شکل عربي قرآن سے ملتي جلتي تھي اور قرآن کے آثار باقي اور جاري رہنا گويا مسلمان کو باقي رکھنے کي گنجائش پيدا کرنا تھا اور يہ کيوں کر ممکن تھا -----------"(4)

وہ آگے چل کر ايک تاريخي واقعہ کي طرف اشارہ کرتے ہيں- جس سے اردو زبان کے بارے ميں ہندوانہ تعصب اور نماياں ہوجاتا ہے-

"مسلم ليگ کے چوتھے اجلاس ميں يہ فرياد مسلمان نمائندوں نے پيش کي کہ کميٹي کے ناظم تعليمات نے مراسلہ جاري فرمايا ہے کہ پبلک کے سکولوں ميں سے اردو کو الگ کردياجائے اگر مسلمان اردو کي تعليم جاري رکھنا چاہيں تو ديني تعليم کي طرح اس کا اہتمام اپنے گھروں پر کريں اس طرح گويا اعلان کرديا گيا کہ ہندوۆ ں کا جس طرح اسلام سے کوئي تعلق نہيں اسي طرح اردو سے بھي کوئي واسطہ نہيں- 37ء ميں تشکيل پانے والي کانگريسي وزارتوں نے رہي سہي کسر پوري کردي رام راج قائم کرنے کي نيت سے نيک شگون کے طور پر تمام ہندوصوبوں کے وزراء اعليٰ برہمن مقرر کئے گئے اب حال يہ ہوگيا کہ ڈاک خانہ والوں نے اردو ميں تحرير کردہ مني آرڈر بھي قبول کرنے سے انکار کرنا شروع کرديا-" (5)

مزرا صاحب اپنے مضمون "اردو اور تحريک پاکستان" ميں اس مسئلے اور تنازع کا خلاصہ اس تاريخ ساز فقرے ميں نکالتے ہيں کہ تحريک پاکستان کا محرک اول اگر اسلام تھا تو محرک دوم اردو زبان تھي"- يہ جملہ ايک ايسي حقيقت پر مبني ہے کہ جس کي گواہي اردو زبان اور رسم الخط کے حوالے سے ہندوانہ ذہنيت اور تعصب کي کم و بيش ايک صدي پر پھيلي ہوئي ہے-

اردو زبان سے ہندوۆ ں کے الگ ہونے اور اسے مسلمانوں کے ساتھ مخصوص کردينے کا ايک تاريخي پس منظر ہے اس کے ليے ہميں ماضي ميں جھانکنے کي ضرورت ہے بريس پال (Bress Pail) کے بقول:

The Hindi Urdu controversy in the Punjab arose for the first time in 1882, a year after the decision to substitute Hindi in the Devanagry script for Urdu in Persian script in Bihar. The demand in the Punjab by the Urban, was the same and it was seen by both sides as an aspect of the Hindu-Muslim communal conflict.(6)

انجمن اسلاميہ لاہور نےاس تحريک پر احتجاج بھي کيا لالہ پت رائے معروف آريہ سماج ليڈر اگرچہ ہندي حروف تہجي سے واقفيت نہيں رکھتے تھے ہندي قوميت کے زير اثر اس تنازعہ ميں شامل ہوگئے انہيں يقين تھا کہ ہندي زبان ہندي قوميت کي بنياد بن سکتي ہے ان کے خيال ميں ہندونينشل ازم کي سياسي يک جہتي کے ليے ہندي اور ديونا گري کافروغ ضروري ہے-

اس لساني تنازعہ کو ہندوستان کي سياست نے مزيد ہوادي اس کي تفصيلات کے دستاويزاتي شواہد موجود ہيں جو بابائے اردو عبدالحق اور گاندھي جي سے مکالمہ ميں ديکھے جاسکتے ہيں- جس کي نشاندہي "اردو دستاويزات" مطبوعہ مقتدرہ قومي زبان ميں وضاحت سے موجود ہے- يوں رفتہ رفتہ اردو (قرآني رسم الخط ميں) مسلمانوں کے ساتھ ہي منسوب ہوگئي يا يوں کہيے کہ اسے مسلمانوں کے ساتھ خاص کرديا گيا-

ان سياسي حالات ميں مسلمانوں کے ادب اور تہذيب وثقافت کو محفوظ رکھنے کے ليے اردو زبان اور اسکے رسم الخط کے تحفظ کا مسئلہ پيدا ہوا يہي وجہ ہے کہ مسلمان رہنماۆ ں نے اپني تحريروں، تقريروں اور اخبارات ميں اس اہم مسئلہ کي طرف توجہ کي اور اردوزبان اور رسم الخط کے تحفظ کے مسئلہ کو اپني قومي بقا اور شناخت کے ساتھ جوڑ ديا ار يہ ايک حقيقت بھي تھي کہ برصغير پاک و ہند ميں اسلامي مذہب و عقائد، روايات و آثار، شعروادب اور تہذيب و ثقافت سے وابستہ آثار کا بہت بڑا سرمايہ اردو ہي کي صورت ميں موجود تھا يہ سرمايہ اپنے مخصوص رسم الخط سے بامعني تھا ديونا گري رسم الخط ميں اردو کي ہرشکل پر ہندي کا گمان گزرتا ہے لہذٰا مسلمانان ہند نے نجي دائروں سے سرکاري سطح تک ہر جگہ اردو زبان کو اپني قوميت سے جوڑے رکھا مسلم ليگ کے پليٹ فارم سے پيش کي جانے والي قراردادوں ميں ايک وقيع حصہ ايسي قراردادوں پر مشتمل ہے جو اردو زبان اور رسم الخط کے تحفظ کے بارے ميں ہيں-

کسي قوم کے خدوخال اس کے ادب ميں نماياں ہوتے ہيں قوموں کي تاريخ کا آئينہ وہ آثار، کتابيں، دستاويزات، اخبار و رسائل اور شعروادب پر مشتمل وہ تحريريں ہوتي ہيں جو اس قوم کے اہل قلم لکھتے ہيں- سال بہ سال اور عہد بہ عہد اس قوم کي اجتماعي سوچ اور دانائي اس کے ادب کے اندر بولتي ہے قديم يوناني تہذيب ہو يا ہندي تہذيب ان زبانوں کے ادب کے اندر ان قوموں کا تمدن، تہذيب، معاشرت، سماج کے ادب آداب، رہن سہن، لباس، خوراک، مذہبي اقداروروايات، اہم تاريخي شخصيتيں، ان کے ديوي ديوتاۆ ں کے حوالے، خدا کا تصور اور ان کي اجتماعي خوشيوں اور دکھوں سےلے کر اجتماعي امنگوں اور قومي مقاصد تک کي جھلکياں ان کي تحريروں ميں ملتي ہيں يوناني زبان ميں ہومر سے منسوب نظميں اوڈيسي اورايليڈ اور ہندي زبان ميں مہابھارت اور رامائن جيسے عظيم ادب پاروں ميں يوناني اور ہندي تہذيب ومعاشرت کے قديم نقوش اس وضاحت کے ساتھ ملتے ہيں کہ اگر يونان و ہند کے تاريخي آثارہمارے سامنے نہ بھي ہوں تو ان ادب پاروں کے تجزياتي مطالعے سے ان ملکوں اور تہذيب کي پراني معاشرت، آلات جنگ، ملبوسات، زيورات، مذہبي عقائد، تمدني احوال، عقائدورسومات، انساني رشتے، محبتيں، لڑائياں، اچھائي اور برائي کے معيارات، عبادات کے طريقے اور سينکڑوں دوسرے عمراني اور سماجي رويوں کا سراغ لگايا جاسکتا ہے-


متعلقہ تحريريں :

خوش آمديد