• صارفین کی تعداد :
  • 2321
  • 10/24/2011
  • تاريخ :

حضرت امام علي (ع)، جھاد ميں نبي اکرم (ص) کے ساتھ

امیرالمؤمنین علی (ع)

نبي اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے مثبت انداز ميں صلح کي دعوت اختيار کي ا س دعوت ميں آپ نے اعلان کيا کہ ميرا پيغام دين تم کو جنگوں کے عذاب سے نجات دلائے گا،آپ کي يہ دعوت مکہ ميں پھيل گئي وہ مکہ جو جاھليت کي طاقتوں کا مرکز تھا وہ طاقتيں جو قرشيوں کي شکل ميں مجسم ھو ئي تھيںان قرشيوں کے نظريات جھالت ، خود غرضي اور انانيت پر مشتمل تھے نبي کے پيغام کي بنا پر ان کے غرور کا بھرم ٹوٹ گيااور ان کاجادو باطل ھوگيا، انھوں نے نبي سے مقابلہ کي ٹھان لي اور نبي پر ايمان لانے والے کوستانے کا فيصلہ کيا ان کو اذيت دينے لگے يھاں تک کہ آپ (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) کے ماننے والے کو قرشيوں کي سختيوں اور ان کے قتل و غارت سے بچنے کےلئے مجبور ھو کر حبشہ ہجرت کر نا پڑي ،ليکن رسول(صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) اپنے چچا شيخ البطحاء اوران کے فرزند ارجمند امام امير المومنين(ع) کي حمايت ميں تھے اپنے چچا ابو طالب(ع)کي وفات کے بعد نبي کو کو ئي پناہ دينے والا نہ رھا اسي لئے قريش نے جمع ھوکر آپ(صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) کو قتل کرنا چاھا(جيسا کہ ھم بيان کرچکے ھيں ) تو آپ (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) يثرب ہجرت فرماگئے ،آپ(صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے اھل يثرب کو اپنے دين کي حمايت کرنے والااور اپنامددگار پاياتوآپ نے قرشيوں کا مقابلہ کرنے کےلئے قيام کيااور ان کے سامنے بڑي سختي کے ساتھ ڈٹ گئے ، تو کفار قريش نے آپ(صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) کے خلاف ميدان جنگ گرم کرنے اور اقتصادي ناکہ بندي کرنے کا فيصلہ کيا-

امام امير امو منين(ع) رسول اللہ (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم)کي جانب سے ايک محکم و مضبوط طاقت بن کر سامنے آئے آپ (ع) نے قريش کي طرف سے رسول (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) پر تھوپي جانے والي تمام جنگيں لڑيں اور رسول اسلام عام طور پر آپ (ع) ھي کو جنگ کي قيادت سونپتے تھے ،ھم ذيل ميں امام(ع) کي طرف سے لڑي جانے والي بعض جنگوں کي طرف اشارہ کر رھے ھيں :

1-جنگ بدر

واقعہ  بدر اسلام کي مدد ،مسلمانوں کي کھلم کھلا کا ميابي اور شرک کي شکست فاش کے طورپر تاريخ ميں درج ھے ، جس ميں اللہ نے اپنے بندے اور رسول کو عزت بخشي،آپ(صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) کے دشمنوں کو ذليل و رسوا کيا ، اس معرکہ کو بھادري کے ساتھ لڑکر سر کرنے والے علي(ع) ھي تھے ،آپ(ع) کي تلوار موت کا پيغام تھي جس نے مشرکوں اور ملحدوں کے سروں کو کاٹ پھينکا ،آپ(ع) نے اتني ثبات قدمي اور استقامت کے ساتھ جنگيں لڑيں کہ جبرئيل کو بھي آواز ديناپڑي :”‌لاسيف الَّاذوالفقارِ،وَلَافَتيٰ اَلَّاعَلِيْ ”-[1]

ھم اس واقعہ کو تفصيل کے ساتھ”‌حياةالامام امير المو منين(ع) ”کے دوسرے حصہ ميں بيان کرچکے ھيں-

2-جنگ احد

قريش جنگ بدر ميں اپني شکست فاش اور بہت زيادہ نقصان ھونے کي وجہ سے بڑے ھي رنج و الم ميں تپيدہ تھے ، معاويہ کي ماں ھند بہت زيادہ آہ و فرياد کر رھي تھي ،اس نے قريش کے مردوں اور عورتوں پر جنگ بدر ميں قتل ھوجانے والوں پررونا حرام قرار ديديا تھا تاکہ حزن و اندوہ اُن کے دلوں ميں چھپا رھے اوراپنے مقتولين کا انتقام لئے بغير ختم نہ ھو ، جنگ احد ميں قريش کا سردار ابو سفيان تھا، جس کو پھلي مرتبہ اس جنگ ميں سرداري ملي تھي ،وہ لوگوں کو رسول اللہ (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) سے جنگ کرنے کے لئے ابھار رھا تھا ، جنگ کے لئے مال و دولت جمع کر کے اس سے اسلحہ خريد رھا تھا ، قريش رسول(صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) سے جنگ کرنے کے لئے اس کي دعوت پر لبيک کہہ رھے تھے ،قريش نے ابوسفيان کے بھڑکانے کي بنا پرنبي کے افراد سے مقابلہ کا فيصلہ کيااور پوري تياري کے ساتھ اپني عورتوں کے ساتھ نکلے تا کہ جنگ ميں کھرے اُتريں اُن کي قيادت ھند کر رھي تھي عورتيں دف بجا کر يہ شعر پڑھ رھي تھيں :

وَيْھاً بَنِيْ عَبْدِ الدَّارْ

وَيْھاً حُمَاةَ الْاَدْيَارْ

ضَرْباً بِکُلِّ بَتَّارْ

”‌اے آل عبد الدار آگے بڑھو ! اے وطن کے ساتھيوں آگے بڑھو پوري طاقت کے ساتھ حملہ کرو”-

اس کے علاوہ ھندہ کا مخصوص ترانہ يہ تھا اور وہ کفارقريش سے بلند آواز سے خطاب کر کے کہہ رھي تھي :

اِنْ تُقْبِلُوْا تُعَانِقْ

وَنَفْرِ شِ النَّمَارِقْ

اَوْ تُدْبِرُوْا نُفَارِقْ

فِرَاقَ غَيْرِ وَامِقْ

”‌اگرتم آگے بڑھوگے تو ھم تم کو گلے لگا ليں گے اور تمھارے لئے بہترين بستر بچھا ئيں گے اور اگر پيچھے ہٹوگے تو ھميشہ کے لئے تم سے جدا ھوجا ئيں گے ” -

مشرکين کے لشکر کي تعداد تين ہزار تھي اور مسلمانوں کے لشکر ميں صرف سات سو آدمي تھے ، مشرکين کے لشکر کي قيادت طلحہ بن ابي طلحہ کررھاتھا جس کے ھاتھوں ميں پرچم تھا اور وہ يہ نعرہ لگا رھا تھا : اے محمد کے اصحاب تم يہ گمان کر تے ھو کہ اللہ ھم کو تمھاري تلواروں کے ذريعہ بہت جلد جھنم ميں بھيج دے گا ،اور تمھيں ھماري تلواروں کے ذريعہ بہت جلد جنت ميں بھيج دے گا ،اب تم ميں مجھ سے کون لڑے گا ؟

بشکریہ: بلاغہ ڈاٹ نیٹ


متعلقہ تحريريں:

فضائلِ علي عليہ السلام علمائے اہلِ سنت کي نظر ميں (حصہ نهم)

فضائلِ علي عليہ السلام علمائے اہلِ سنت کي نظر ميں (حصہ هشتم)

فضائلِ علي عليہ السلام علمائے اہلِ سنت کي نظر ميں (حصہ هفتم)

فضائلِ علي عليہ السلام علمائے اہلِ سنت کي نظر ميں (حصہ ششم)

فضائلِ علي عليہ السلام علمائے اہلِ سنت کي نظر ميں (حصہ پنجم)