• صارفین کی تعداد :
  • 3522
  • 10/22/2011
  • تاريخ :

حروف

قرآن کریم

چونکہ علم تجويد ميں قرآن مجيد کے حروف سے بحث ھوتي ھے اس لئے ان کا جاننا ضروري ھے -

عربي زبان ميں حروف تھجي کي تعداد 29 ھے - ٹ - ڈ - ڑ وغيرہ ھندي کے مخصوص حروف ھيں اور پ - چ - ژ - گ فارسي کے مخصوص حروف ھيں- ان کے علاوہ جملہ حروف تينوں زبانوں ميں مشترک ھيں -

يہ حروف اپنے طرز ادا کے اعتبار سے مختلف قسم کے ھيں - ان اقسام کے سلسلہ ميں بحث کرنے سے پھلے ان مقامات کا پتہ لگانا ضروري ھے جھاں سے يہ حروف ادا ھوتے ھيں اور جنھيں علم تجويد ميں مخرج  کہا جاتا ھے -

مخارج حروف

علمائے تجويد نے 29 حروف تھجي کے لئے جو مخارج بيان کئے ھيں ان کي تعداد 27 ھے جنھيں مندرجہ ذيل پانچ مقامات سے ادا کيا جاتا ھے -

1- جوف دھن

2- حلق

3- زبان

4- ھونٹ

5- ناک

يھاں مختصر لفظوں ميں ان حروف کے مخارج کا تعين کيا جارھا ھے - عملي طور پر صحيح تلفظ کرنے کے لئے اھل فن کا سھارا لينا پڑے گا -

جوف دھن

جوف دھن سے صرف تين حروف الف - واو - ي ادا ھوتے ھيں بشرطيکہ يہ ساکن ھوں جيس -کريے جواد - غفورم

حلق

حلق کے تين حصے ھيں :

1- ابتدائي حصہ :اس سے خ- غ ادا ھوتا ھے -

2- درمياني حصہ : اس سے ح- ع ادا ھوتا ھے -

3- آخري حصہ : اس سے ھ -ء ادا ھوتا ھے -

زبان

حروف کي ادائيگي کے لحاظ سے اس کے دس حصے ھيں :

1- آخر زبان اور اس کے مقابل تالو کا حصہ - اس سے قاف  کي آواز پيدا ھوتي ھے -

2- قاف  کے مخرج سے ذرا آگے کا حصہ اور اس کے مقابل کا تالو ،ان کے ملانے سے  کاف  کي آواز پيدا ھوتي ھے -

3- زبان اور تالو کا درمياني حصہ ، ان سے جيم  شين   ي کي آواز پيدا ھوتي ھے -

4- زبان کا کنارہ اور اس کے مقابل داھني يا بائيں جانب کے ڈاڑھيں جن کے ملانے سے  ضاد کي آواز پيدا ھوتي ھے -

5- نوک زبان اور تالو کا ابتدائي حصہ جس کے ملانے سے لام  کي آواز پيدا ھوتي ھے -

6- زبان کا کنارہ اور لام  کے مخرج سے ذرا نيچے کا حصہ ، جس سے ن کي آواز پيدا ھوتي ھے -

7- نوک زبان کا نچلا حصہ اور تالو کا ابتدائي حصہ ان کے ملانے سے ر ادا ھوتي ھے -

8- زبان کي نوک اور اگلے دونوں اوپري دانتوں کي جڑ ، زبان کو اوپر کي جانب اٹھاتے ھوئے ذرا ذرا سے فرق سے "ط"   " دال " اور "  ت"  ادا ھوتي ھے -

9- زبان کي نوک اور اگلے اوپري اور نچلے دانتوں کے کناروں سے " ز "  س " ص" کي آواز پيدا ھوتي ھے -

10- زبان کي نوک اور اگلے اوپري دانتوں کا کنارہ، ان کے ملانے سے " ث" ذال" ظ" کي آواز پيدا ھوتي ھے -

ھونٹ

حروف کي ادائيگي کے لحاظ سے اس کي دو قسميں ھيں :

1- نچلے ھونٹوں کا اندروني حصہ اور اگلے اوپري دانتوں کا کنارہ، ان کے ملانے سے " ف"  کي آواز پيدا ھوتي ھے -

2- دونوں ھونٹوں کے درميان کا حصھ، يھاں سے " ب"  " م "  واو" کي آواز نکلتي ھے - بس اتنا فرق ھے کہ " واو" کي آواز ھونٹوں کو سکوڑ کر نکلتي ھے اور " ب"  " ميم" ھونٹوں کو ملانے سے ادا ھوتے ھيں-

ناک

غنہ والے حروف ناک سے ادا ھوتے ھيں جو صرف نون ساکن اور تنوين ھے - شرط يہ ھے کہ ان کا غنہ کے ساتھ ادغام کيا جائے اور اخفاء مقصود ھو - نون اور ميم مشدد کا بھي انھيں حروف ميں شمار ھوتا ھے -ں، نّ،مّ-

اہل البيت پورٹل


متعلقہ تحريريں:

علوم قرآن کي اصطلاح

قرآن مجيد کي آيات ميں محکم اور متشابہ سے کيا مراد ہے؟ (حصّہ دوّم)

قرآن مجيد کي آيات ميں محکم اور متشابہ سے کيا مراد ہے؟

قرآني معلومات (حصّہ سوّم)

قرآني معلومات (حصّہ دوّم)