• صارفین کی تعداد :
  • 691
  • 10/17/2011
  • تاريخ :

رہبر معظم کاصوبہ کرمانشاہ کي يونيورسٹيوں کے اساتذہ و طلباء سے خطاب

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای
رہبر معظم انقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظمي خامنہ اي نے صوبہ کرمانشاہ کے دورے کے پانچويں دن صوبہ کرمانشاہ کے اساتذہ ، طلباء اور يونيورسٹيوں کے اہلکاروں کے ايک عظيم الشان اور پرجوش و خروش اجتماع سے خطاب ميں اسلامي نظام کے اصولوں اور اہداف کي دائمي طراوت اور ذاتي شباب ، نظام کي انجينئرنگ ميں لچک و انعطاف، تعمير و ترقي ميں بر وقت تبديلي اور ان اہداف و اصولوں کي پاليسيوں کے محقق ہونے کو اسلامي نظام کي اہم ظرفيتوں ميں شمار کيا.

ابنا: رہبر معظم انقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظمي خامنہ اي نے صوبہ کرمانشاہ کے دورے کے پانچويں دن صوبہ  کرمانشاہ کے اساتذہ ، طلباء اور يونيورسٹيوں کے اہلکاروں کے ايک عظيم الشان اور پرجوش و خروش اجتماع سے خطاب ميں  اسلامي نظام کے اصولوں اور اہداف کي دائمي طراوت اور ذاتي شباب ، نظام کي انجينئرنگ ميں لچک و انعطاف، تعمير و ترقي ميں بر وقت تبديلي اور ان اہداف و اصولوں کي پاليسيوں کے محقق ہونے کو اسلامي نظام کي اہم ظرفيتوں ميں شمار کيا. اور اسلامي جمہوريہ ايران پر دہشت گردي کے حاليہ امريکي بے بنياد اور جھوٹے الزامات اور اس شوم نقشہ کے پيچھے امريکي مقاصد کي طرف اشارہ کيا اور ايراني عوام کے دشمنوں کو خبردار کرتے ہوئے فرمايا: اسلامي جمہوريہ ايران تخريب کاري پر مبني ہر قسم کي سازش  کا دنداں شکن اور منہ توڑ جواب دےگا جس سے دشمنوں کو پشيماني اور شرمندگي کا سامنا کرنا پڑے گا-

رہبر معظم انقلاب اسلامي نے صوبہ کرمانشاہ کي يونيورسٹيوں کے اساتذہ کے بہت ہي دلنشيں ،با معني اور شانداراجتماع ميں اپني موجودگي پر بہت زيادہ خوشي و مسرت کا اظہار کيا اور اس اجتماع ميں جوانوں کي شاداب و پرطراوت موجودگي کو حکام کے لئےدوچنداں جذبہ اور نشاط کا باعث قرارديتے ہوئے فرمايا: ملک کے ماضي، حال اور مستقبل ميں جوانوں کا نقش بہت ہي ممتاز اور نماياں رہا ہے لہذا پڑھے لکھے جوان طلباء سے ملاقات اس لحاظ سے بہت بڑي اہميت کي حامل ہے-

رہبر معظم انقلاب اسلامي نے اس دور کو تلاش و کوشش ، مجاہدت ، استقامت اور پائداري کا دور قرار ديا اور اسلامي بيداري ، مصر و تيونس اور علاقہ کے ديگر ممالک ميں اسلامي بيداري اور ان ممالک ميں کے نظاموں کے بارے ميں مختلف نظريات اور آشکارا و پنہاں کشمکش کي طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمايا:اس حساس دور ميں علاقہ ميں جديد اور نئے نظاموں کي تشکيل کي روشني ميں اسلامي جمہوريي نظام کے کلي حالات بہت ہي مفيد و مؤثر ثابت ہوسکتے ہيں اور علاقہ کے حال و مستقبل کے بارے ميں  اہم نقش ايفا کرسکتے ہيں لہذا اس صورت حال کے پيش نظر اسلامي نظام کے کلي ڈھانچے پر نظر ثاني کي اہميت دوچنداں ہوگئي ہے-

رہبر معظم انقلاب اسلامي نے اس نظر ثاني کو حقيقت کے پيش نظر اور نظام کي آگاہانہ حرکت کے لئے بھي بہت ضروري اور مفيد قرارديتے ہوئے فرمايا: ايسي تحريکيں جن کي حقائق پر توجہ نہيں ہوتي اور جن کي مستقل بعيد پر عميق و گہري نظر نہيں ہوتي ، ايسي تحريکيں اکثر گمراہي اور اشتباہ کا شکار ہوجاتي ہيں لہذا اس زاوايہ نگاہ سےبھي طے شدہ راستے اور موجودہ صورتحال پر نظر ثاني کرنا ضروري ہے-

رہبر معظم انقلاب اسلامي نے کچھ بنيادي سوالوں کے ذريعہ صو بہ کرمانشاہ کے اساتذہ اور طلباء کے سامنے اس بحث کي اہميت کو اجاگر کرتے ہوئےفرمايا: اسلامي نظام کي پيري و جواني کا مسئلہ کس قدر تجزيہ و تحليل کے قابل ہے؟ کيا اسلامي نظام کسي دن پير ،بوڑھا اور فرسودہ ہوجائے گا ؟ کيا اسلامي نظام کي فرسودگي کو روکنے کے لئے کوئي راہ حل موجود ہے؟ اور اگر ايسي صورتحال پيش آجائے تو کيااس کا کوئي علاج موجود ہے؟

رہبر معظم انقلاب اسلامي نے بيان شدہ سوالات کے بارے ميں يونيورسٹي کے اساتذہ، مفکرين، دانشوروں ، حوزات علميہ ، مشاورتي اورمنصوبہ ساز اداروں کو اس بارے ميں غور و فکر کي دعوت دي اور نظام اسلامي کي تشکيل ،حرکت اور استمرار کے مراحل کے منطقي حلقوں اور کڑيوں کے بارے ميں تفصيل کے ساتھ بحث کي-

رہبر معظم انقلاب اسلامي نے فرمايا: انقلاب اسلامي يعني ايسي تحريک جس نے فاسد ، فاسق و فاجر اور ظالم و جابر حکومت کا تختہ الٹ کر اسلامي نظام کي تشکيل کے لئے راستہ ہموار کيا، اسلامي نظام يعني وہ تشخص  اوروہ ڈھانچہ جو عوام نے ملک کے لئے منتخب کيا، اسلامي حکومت کي تشکيل کا مطلب يہ ہے کہ ملک کو چلانے کے لئےتمام مديريتي اداروں کي تاسيس و تشکيل ، اسلامي معاشرے کي تشکيل، اور پھر امت اسلامي کي تشکيل ،يہ سب موارد ايک کڑي کےمختلف حلقے ہيں جو ماضي، حال اور مستقبل کا راستہ مشخص کرتے ہيں-

رہبر معظم انقلاب اسلامي نے اس کڑي کے تين حلقوں کي طرف اشارہ کيا اور چوتھے مرحلے يعني اسلامي معاشرے کي تشکيل کو درميانہ ہدف قراردينے کے ساتھ اسے بہت ہي اہم و اعلي ہدف قرارديا اور اپنے خطاب ميں اس سلسلے ميں اہم نکات پيش کئے-