• صارفین کی تعداد :
  • 1890
  • 10/14/2011
  • تاريخ :

جنت کے درواز ے کب کھليں گے ؟ (حصّہ دوّم)

جنت

منصور بن عمّار کہتے ہيں کہ

ايک دن ميں مسجد ميں داخل ہوا اور ايک جوان کو خضوع اور روتے ہوۓ نماز ميں ديکھا - ميں نے خود سے کہا ! اس جوان سے جاني پہچاني خوشبو آتي ہے - ميں رکا يہاں تک کہ اس نے سلام پھيرا -

ميں نے کہا اے جوان !  کيا تجھے معلوم ہے کہ جہنم ميں ايک وادي اور بيابان ہے جس کا نام لظي ہے کہ جس سے مجرمان جتنا بھي فديہ دے ليں آزاد نہيں ہونگے اور ان کے تمام بدن و صورت پر آگ ہے - جوان نے بلند آواز لگائي اور بے ہوش ہو گيا اور وہي فوت کر گيا -[1]

3ـ سقر) ميں جلد کو جلايا جاۓ گا اور يہاں 19 فرشتے مقرر ہيں - يہاں پر کچھ بھي باقي نہيں بچے گا -

4ـ حطمه) کے شعلے بڑے محل کے اندازے جيسے ہونگے -

5 ـ هاويه) - يہاں پر ايک گروہ دعا کرے گا اور کہے گا  اے خدا ہماري فرياد کو سن ! يہاں پر آتش کے برتن ہونگے جو پيپ اور غلاظت سے پر ہونگے -

6 ـ سعير[2]) کہ جس ميں آگ کے تين سو سرا پردے   ہيں -

قرآن ميں ہے کہ

إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْکَافِرينَ سَلاَسِلَاْ وَ أَغْلاَلاً وَ سَعيراً

ہم نے کافروں کے ليۓ طوق اور زنجيريں اور بھڑکتي ہوئي آگ تيار کر رکھي ہے -  [3]

7ـ فلق)   يہ جہنم ميں ايک کنواں ہے جب منہ کھولے تو ايک درد آورد آگ کا شعلہ بلند کرتا ہے کہ جو دردآور ترين آگ ہے -[4]

جنہم کے دروازوں کے کھلنے کا وقت

جہنم کے دروازے کفار کے داخل ہونے سے پہلے بند ہيں اور جب مجرمان پہنچ جائيں گے تو دروازے کھل جائيں گے -  [5]

سورہ زمر ميں ارشاد باري تعالي ہے کہ

وَ سِيقَ الَّذينَ کَفَروا اِلي جَهَنَّمَ زُمَراً حَتَّي اِذا جَآءُوها فُتِحَتْ اَبْوابُها وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَآ اََلَمْ يأتِکُمْ رُسُلٌ مِنکُمْ  يتْلُونَ عَلَيکُمْ ءَاياتِ رَبِّکُمْ وَ ينذِرُونَکُمْ لِقآءَ يوْمِکُمْ هَذَا قَالوُا بَلي وَلکِنْ حَقَّتْ کَلِمَةُ الْعَذابِ عَلَي الْکافِرينَ

اور کفار گروہ در گروہ جہنم کي طرف ہانکے جائيں گے، يہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائيں گے تو اس کے دروازے کھول ديے جائيں گے اور جہنم کے کارندے ان سے کہيں گے: کيا تمہارے پاس تم ميں سے پيغمبر نہيں آئے تھے، جو تمہارے رب کي آيات تمہيں سناتے اور اس دن کے پيش آنے کے بارے ميں تمہيں متنبہ کرتے؟ وہ کہيں گے: ہاں (کيوں نہيں!) ليکن (اب) کفار کے حق ميں عذاب کا فيصلہ حتمي ہو چکا ہے-

کہيں گے کہ ہاں !  ليکن ہم نے اطاعت نہيں کي اور اب عذاب الہي کا حکم کافروں پر مسلم ہو گيا ہے - .[6]

نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي ايک حديث ہے کہ شب معراج کو آپ نے جہنم کے دروازوں کے مالک کو فرمايا کہ

اس کو کھولو - جب ايک دروازہ کو کھولا تو اس سے ايسے شعلے نکلے کہ نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي طبيعت خراب ہو گئي -

حضرت جبرائيل کو حکم ديا گيا کہ دوزخ کے مالک کو کہو دروازے کو بند کر دے - اس نے پھر حکم کے مطابق دروازے کو بند کر ديا -

يہ دروازہ صرف ايک بار نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے چاہنے پر کھلا اور روز قيامت تک { کفار کے داخل ہونے تک } يہ بند  ہے -

حضرت امير المؤمنين عليہ السلام سے روايت ہے کہ جہنم کے سات دروازے ہيں جو  طبقہ طبقہ ہيں - اس حالت ميں اميرالمؤمنين نے اپنےايک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھا اور فرمايا ايسے -

اللہ تعالي نے ہر ايک بہشت کو  دوسري کے عرض ميں بنايا ہے جبکہ دوزخ کو اوپر نيچے طبقوں کي صورت ميں بنايا گيا ہے - سب سے نچلہ طبقہ جہنم ہے اور اس کے اوپر [ لظي معرفہ ہے اور  اس سے مراد جہنم ہي ہے اور چونکہ اس ميں عَلميّت و تأنيث ہے اسي وجہ سے غير منصرف ہے ليکن اللَظَي بھي مصدر ہے اور نفس آتش اور شعلہ کے معنوں ميں بھي آتا ہے ] اور اس کے اوپر حطمہ ، اس کے اوپر سقر ، اس کے اوپر جحيم اور اس کے اوپر سَعِير اور اس کے اوپر هَاوِيَه ہے .(«مجمع البيان» طبع صيدا، مجلّد 3، ص 338]

اور «تفسير عليّ بن ابراهيم» نے اس آيت  کي تفسير ميں فرمايا ہے کہ ہر دروازے سے  ايک ملت اور مذھب کے لوگ داخل ہونگے اور جنت کے آٹھ درواز ے ہيں --- اور  ايسے مجھ تک پہنچا ہے - اور خدا بےشک دانا ہے -

حوالہ جات :

1-خزينة الجواهر، ص508.

2- سعير در لغت: آتش روشن، زبانهي آتش

3- سورهي مبارکهي انسان، آيهي شريفهي 4.

4- ميزان الحكمه، ج2، ص889

5ـ ميزان الحکمه، ج2، ص889 و بحارالانوار، ج8، ص224.

6ـ سورهي مبارکهي زمر، آيهي شريفهي 71

شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

اسلامي معاشرے ميں قرآن کريم کي اہميّت (حصّہ دوّم )

 اسلامي معاشرے ميں قرآن کريم کي اہميّت

قرآن مجيد اور اخلاقي تربيت ( حصّہ نہم )

قرآن مجيد اور اخلاقي تربيت ( حصّہ ہشتم )

قرآن مجيد اور اخلاقي تربيت ( حصّہ ہفتم )