• صارفین کی تعداد :
  • 2712
  • 10/14/2011
  • تاريخ :

باہمي تعلقات پر غصے کے اثرات

دل

 

اس تحرير ميں ہم مياں بيوي کے درميان پيدا ہونے والے تناۆ کي وجوہات اور عوامل پر نظر ڈاليں گے کہ بالآخر کون اور کس طرح کي نفسيات کے حامل لوگ جلد  غصہ کا شکار ہو جاتے ہيں   - يہ جاننا اس ليۓ ضروري ہے  تاکہ ہميں يہ معلوم ہو سکے کہ ناراضگي اور غصے سے بچنے کے ليۓ کون سي تدابير  کو بروۓ کار لا کر مياں بيوي کے درميان پيدا ہونے والي ناراضگي کو دور کيا  جا سکتا ہے  -

بعض اوقات کسي مصلحت کي بنا پر شوہر ناراضگي کا اظہار کرتے ہيں اور ايسي ناراضگي ميں احساسات کا عنصر ہرگز شامل  نہيں ہوتا ہے  يا پھر غلط فہمي کي بنا پر يا برے برتاۆ کي بنا پر ناراضگي ہو جاتي ہے - ہم اس تحرير ميں ايسي ناراضگي پر بات نہيں کرنے جا رہے بلکہ ہم اس غصے  اور ناراضگي پر بات کرنے جا رہے ہيں جس ميں فريقين  اپنے  دماغ پر قابو نہ رکھتے ہوۓ نقصان اٹھا ليتے ہيں -

ناراضگي ايک ايسا برتاۆ ہے جو ايک منفي قسم کے عاطفي اور  حيران کن عمل کي وجہ سے وجود ميں آتا ہے - اس کي شدت مختلف طرح کي ہو سکتي ہے - يہ ناراضگي مثبت بھي ہو سکتي ہے اور منفي بھي -

مياں بيوي کے درميان اختلاف کا ہونا ايک عام سي بات  ہے ليکن بعض جوڑوں ميں يہ اختلافات شدّت اختيار کر جاتے ہيں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کي ازدواجي زندگي ميں غصہ  ايک عادت سي بن جاتي ہے -  ايسي زندگي گزارنے والے افراد ناراضگي کي وجہ سے  زندگي کے خوشگوار اور حسين لمحات سے ہميشہ دور رہتے ہيں - ايسي حالت ميں يہ ناراضگي ايک ايسا  مرض  بن جاتي ہے کہ اگر اس کا سنجيدگي سے علاج نہ کيا جاۓ تو يہ کينسر کي مانند مياں بيوي کي ازدواجي زندگي  کو ختم کر  ديتي ہے -

عام طور پر ناراضگي  ضد  کے باعث مکمل ہوتي ہے - ناراض ہونے والا شخص اپني ناراضگي سے کوئي پيغام منتقل کرنا چاہتا ہے  تاکہ کسي مقصد کو حاصل کر  لے اور جب اس کا مطلوبہ مقصد اسے حاصل  نہيں ہوتا  تو وہ  اس ناراضگي اور لج بازي کو جاري رکھتا ہے جس سے حالات مزيد بگڑ جاتے ہيں - بعض اوقات يہ ضد ايک خطرناک بيماري کي شکل  اختيار کر جاتي ہے - ايسي حالت ميں مدمقابل فرد کا کوئي بھي عمل اس کے ليۓ قابل قبول نہيں ہوتا -

اس ليۓ ناراضگي اور ضد اگرچہ  دو مختلف قسم کے برتاۆ ہيں ليکن ان کي جڑ ايک ہي ہے  اور ايک ہي طرح کي اخلاقي خصوصيات  اس سے ظاہر  ہوتي  ہيں  - غصہ اور ضد کلي طور پر ايک باطني کمزور  اور کم ہمت  انسان ميں پايا جاتا ہے اور اس کے  غصے  کے اثرات کسي بھي شخص پر ظاہر ہو سکتے ہيں -  اوپر بيان کي گئي خاميوں کے حامل شوہر  زيادہ غصے کا شکار ہوتے نظر آتے ہيں -  ايسے شوہر  کسي بھي عمل کو اس ليۓ  سرانجام نہيں ديتے کہ  کہيں کوئي ان کے کام ميں خامياں تلاش کرکے ان کي مذمت نہ کرے - غصے کا اظہار بھي شايد اسي وجہ سے ہے -

غصہ  کسي خاص قسم کے ماحول  ميں زندگي بسر کرنے سے بھي آ سکتا ہے - مثال کے طور پر جب انسان ايسي جگہ پر زندگي بسر کر رہا ہو جہاں اس کے سرپرست جابر اور  زبردستي کرنے والے ہوں اور اس شخص کو اس  کي خواہشات کے برعکس  نامساعد حالات ميں زندگي بسر کرنے پر مجبور کريں - اس کي ايک مثال  بچپن ميں بڑے بہن بھائيوں اور ماں باپ کي سختي کي صورت ميں بھي ديکھي جا سکتي  ہے –

تحریر و پیشکش: سیّد اسد الله ارسلان


متعلقہ تحريريں :

شريعت النساء

اسلام ميں تعليم نسوان پرتاکيد (حصّہ سوّم)

اسلام ميں تعليم نسوان پر تاکيد (حصّہ دوّم)

ايران کي تاريخ ميں عورت ( حصّہ دوّم )

اسلام ميں تعليم نسوان پر تاکيد