• صارفین کی تعداد :
  • 3452
  • 10/10/2011
  • تاريخ :

  سورۂ رعد کي آيت  نمبر  24-22  کي تفسير

قرآن حکیم

والّذين صبروا ابتغاء وجہ ربّہم و اقاموا الصّلوۃ و انفقوا ممّا رزقنہم سرّا و علانيۃ وّ يدرؤن با الحسنۃ السّيّئۃ اولئک لہم عقبي الدّار يعني وہ لوگ جنہوں نے اپنے پروردگار کي (نظر) توجہ کے لئے صبر ( و استقامت) سے کام ليا ہے اور نماز قائم کي ہے اور جو کچھ ہم نے ان کي روزي قرار دي ہے اس ميں سے چھپکر اور آشکارا طور پر انفاق و خيرات کيا ہے اور اپني اچھائي کے ذريعہ بدي کو برطرف کرتے ہيں ، يہي وہ لوگ ہيں جن کے لئے سرائے آخرت مہيا ہے - صاحبان ايمان کے درميان " اولوالالباب" يعني صاحبان عقل و خرد کي خصوصيات کا تذکرہ تھا کہ وہ عہدشکن نہيں ہوتے ، صلہ رحمي سے کام ليتے اور خشيت الہي کو وطيرہ قرار ديتے ہيں اب آيت ميں اسي گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے خدا نے مومنين عاقل کي کچھ اور خصوصيات بيان کي ہيں کہ اپنے پروردگار کي نظر توجہ اور خصوصي التفات حاصل کرنے کے لئے دين کي راہ ميں صبر و استقامت سے کام ليتے ہيں اور مشکلات کے باوجود الہي احکام و فرامين کي پابندي کرتے ہيں صرف اور صرف خدا کي رضا و خوشنودي کے لئے راہ حق ميں ثابت قدم رہتے ہيں ظاہر ہے آيت ميں صبر کي تمام قسميں منظور نظر ہيں مصيبتوں ميں صبر صرف ايک پہلو ہے ورنہ مقام بندگي و عبادت ميں صبر يعني حق کي اطاعت اور معصيت نے دوري، صبر کي بالاتر منزل ہے اور اسلامي روايات ميں روزے کو بھي صبر سے تعبير کيا گيا ہے اور مفسرين کے بقول : " واستعينوا بالصّبر و الصّلوۃ " ميں خدا نے روزہ اور نماز سے امداد و استعانت کا حکم ديا ہے اور مومنين يہ کام خدا کي رضا کے لئے انجام ديتے ہيں يعني دوسرے بھي ممکن ہے يہ اچھا کام کريں ليکن صرف خدا کي خوشنودي کے لئے اچھا کام کرنا اس سے بالاتر منزل ہے جو مومن سے مخصوص ہے ان کي ايک اور خصوصيت يہ ہے کہ خدا نے ان کو جو روزي روٹي دي ہے اس ميں سے غريبوں اور ضرورتمندوں کي خاموشي سے چھپا کر بھي مدد کرتے ہيں اور اس راہ ميں اعلانيہ طور پر بھي خرچ کرتے ہيں يعني جہاں جہاں اور جب جب بھي راہ خدا ميں انفاق و خيرات کي ضرورت پڑتي ہے وہ اپني ضروريات پر بندگان خدا کي ضروريات اور احتياجات کو ترجيح ديتے ہيں نہ تو شہرت اور رياکاري ( يا توہين و آبروريزي) سے کام ليتے اور نہ ہي جہاں تشويق و ترغيب کي ضرورت ہو راہ خدا ميں اعلانيہ خرچ کرتے وقت لوگوں کے کچھ کہنے سننے کي پروا کرتے يا ڈرتے ہيں -مخفيانہ اور اعلانيہ دونوں طرح خرچ کرتے ہيں - اس کے بعد قرآن نے مومنين کي ايک بڑي خوبي يہ بتائي ہے کہ وہ اپني اچھائيوں سے برائيوں کا خاتمہ کرتے ہيں - يہ چيز اخلاقي اور معاشرتي نقطۂ نگاہ سے خاص اہميت رکھتي ہے چنانچہ انفرادي زندگي ميں بھولے سے اگر کوئي گناہ سرزد ہوجائے تو تدارک کے لئے اچھے کام کرتے ہيں تا کہ ثواب ، عقاب پر غالب آجائے اور توبۂ و استغفار کارگر ثابت ہو کيونکہ روايات ميں بھي ہے کہ " حسنات ، گناہوں کو دھوديتے ہيں " اور " توبہ کرنے کے بعد بندہ ايسا ہوجاتا ہے کہ گويا اس نے گناہ نہ کيا ہو ، يا يہ کہ اجتماعي زندگي ميں دوسروں کے ساتھ کوئي بدي کي ہو تو اچھائي کرکے اس کي تلافي کي جا سکتي ہے ظلم اور جفا کو عفو و بخشش اور احسان کے ذريعہ دھويا جا سکتا ہے - بد خلقي کي خندہ روئي اور کشادہ قلبي کے ذريعہ تلافي کي جا سکتي ہے ( معاشرتي زندگي ميں اگر کسي نے آپ کے ساتھ برائي کي ہے تو عفو و بخشش اور اچھائي کے ذريعہ دشمن کو اپنا بنايا جا سکتا ہے سورۂ حم سجدہ کي 34 ويں آيت ميں خدا نے فرمايا ہے : ادفع بالّتي ہي احسن --- برائي کا جواب اچھے طريقے سے ديجئے اگر ايسا کيا تو جو شخص آپ کا دشمن ہے وہ بھي ايسا ہوجائے گا کہ گويا آپ کا بہت گہرا دوست ہو -اسي آيت کے پرتو ميں افسروں اور ماتحتوں کے تعلقات کے حوالے سے اميرالمؤمنين عليہ السلام کے اس قول کا بھي جائزہ ليا جا سکتا ہے جس ميں آپ نے فرمايا ہے " ازجوا المسيّ بثواب المحسن" يعني خطاکار کو نيکوکار کے ساتھ اچھائي کرکے جزا دينا چاہئے ، اچھے کام کي تشويق اور انعام غلط کام کرنے والوں کي سزا بن سکتي ہے بہرحال قرآن نے " اولوالالباب " کي چھ صفتيں صيغۂ مضارع ميں اور تين صفتيں صيغۂ ماضي ميں ذکر کي ہيں يوفون ، ولاينقضون، و يصلون ، يخشون ، يخافون ، يدرؤن، صبروا ، اقاموا ، انفقوا يعني وہ وفادار ہيں عہدشکني نہيں کرتے، صلہ رحمي سے کام ليتے ، خشيت خدا رکھتے ، يوم حساب سے ڈرتے، اچھائي سے برائي کو دور کرتے، صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے، نماز قائم کرتے اور خير و خيرات سے کام ليتے ہيں اور بظاہر ماضي اور مضارع کا فرق يہي ہے کہ فعل ماضي ايک کام زمانہ گزشتہ ميں محقق ہوجانے اور فعل مضارع اس کے آئندہ بھي جاري رہنے پر دلالت کرتا ہے -اور اب سورۂ رعد کي آيات تئيس و چوبيس ، ارشاد ہوتا ہے : " جنّات عدن يّدخلونہا و من صلح من ابائہم و ازواجہم و ذرّيتہم و الملائکۃ يدخلون عليہم من کلّ باب " وہ جاوداں باغات جہاں خود وہ لوگ اور ان کے باپ داداؤ ں، ان کي بيويوں اور ان کے بچوں ميں (بھي) جو نيکوکار ہيں ، سب ہميشہ کے لئے داخل ہوجائيں گے اور فرشتے ہر دروازے سے ( ان کے پاس ) آئيں گے - اور ( ان سے کہيں گے ) آپ سب پر سلام ہو اس صبر و استقامت کے باعث ( کہ جس سے آپ نے کام ليا ہے ) اور سرائے آخرت کتنا اچھا انجام ہے - اس آيت ميں بھي اچھے انجام کي تشريح ہے کہ يہ خوش انجام افراد قيامت کے دن راہ حق و حقيقت ميں اپني پائداري اور صلہ رحمي و غيرہ کے باعث بہشت ميں اپنے پچھلے اور اگلے تمام اہل خاندان اور پاکيزہ ؤ نيکوکار بيويوں کے ساتھ جائيں گے اور ملائکہ کے سلام احترام کا مرکز قرار پائيں گے -" آبائہم" ميں بظاہر باپ داداؤ ں کا ذکر ہے مگر ماں اور نانا و غيرہ بھي اس ميں شامل ہيں کيونکہ مائيں آباء کي ازواج ميں ہيں اور ان کا ذکر آيت ميں موجود ہے اسي طرح ذريت ميں بچوں کے ساتھ بھائي بھتيجے بھانجے اور چچا اور ماموں و غيرہ (باپ دادا کي ذريت کے طور پر ) شامل ہيں پس شرط نيکوکار ہونا ہے سورۂ طور کي اکيسويں آيت ميں بھي خدا نے فرمايا ہے " جولوگ ايمان لائے اور ان کي ذريت نے ايمان کے ساتھ ان کي پيروي کي تو ان کے ساتھ ہي ( جنت ميں ) ان کو ملا ديں گے يعني خدا صالح اور نيکوکار رشتہ داروں کو ايک دوسرے کے ساتھ جمع کردے گا اور روايات کي روشني ميں " صالح ہونے " کا ايک معيار يہ ہے کہ انسان، صالح قيادت کو قبول کرتا ہو جيسا کہ رسول اعظم (ص) نے فرمايا ہے : " علي (ع) اور ان کے بعد ان کے اوصياء کي اطاعت سے بہشت ميں داخلے کي راہ ہموار ہوجاتي ہے" اللہ کے فرشتے دنيا ميں بھي مومنين کے لئے دعا کرتے ہيں اور قيامت کے دن بھي ان کا استقبال کريں گے اور جنت ميں سلام کے ساتھ خوش انجام ہونے کي نويد اور مبارک باد پيش کريں گے -اور اب زير بحث آيات سے جو سبق ملتے ہيں ان کا ايک خلاصہ : اسلام ايک جامع و کامل دين ہے اور اس نے تمام انفرادي اور اجتماعي ، سياسي اقتصادي اور معاشرتي مسائل پر نظر رکھتے ہوئے الگ الگ احکامات بيان کئے ہيں - خدا کے ساتھ اپنا رشتہ مستحکم کرنے کے لئے اللہ کے بندوں خصوصا" محتاجوں اور ضرورتمندوں کے ساتھ رشتے ميں استحکام ضروري ہے - دنيا ؤ آخرت ميں وہي لوگ خوش انجام ہيں جو مومن ہيں اور مومنوں کي عاقلانہ خصوصيات کے حامل ہيں - بہشتي گھرانہ وہ گھرانہ ہے جس ميں تمام اہل خاندان خدا کي اطاعت اور حمايت کي راہ پر گامزن ہوں اور ايک دوسرے کي مدد بھي کريں - صبر و استقامت تمام خوبيوں کا سرچشمہ ہے مومن اللہ کي اطاعت، نافرماني سے اجتناب اور دشمنوں کي عائد کردہ بلاؤ مصيبت ميں صبر کرتے ہيں - 

بشکريہ آئي آر آئي بي


متعلقہ تحريريں:

سورۂ رعد کي آيت  نمبر  13-11 کي تفسير

سورۂ رعد کي آيت  نمبر  10-6 کي تفسير

سورۂ رعد کي آيت  نمبر 5-3 کي تفسير

سورۂ رعد کي آيت  نمبر 2-1 کي تفسير

سورۃ يوسف کي تفسير