• صارفین کی تعداد :
  • 3935
  • 10/10/2011
  • تاريخ :

اہم خلائي مشن کي روانگي کي تيارياں مکمل

چین

چين کے سائنس دان جمعرات کي شام روانہ کيے جانے والے ايک خلائي مشن کي تياريوں کو حتمي شکل دينے ميں مصروف ہيں جسے چين کي جانب سے خلا ميں اپنا عليحدہ اسٹيشن تعمير کرنے کے پرعزم منصوبے کي جانب پہلا قدم قرار ديا جا رہا ہے-

چين کے اخبارات اور ٹيلي ويژن چينلز ساڑھے آٹھ ٹن وزني اس خلائي مشين کي طے شدہ روانگي کو انتہائي اہميت دے رہے ہيں اور ذرائع ابلاغ ميں اس کے متعلق مفصل رپورٹيں شائع اور نشر کي جا رہي ہيں-

خلائي مشن کو 'ٹيان گونگ-1' يعني 'جنت کا محل' کا نام ديا گيا ہے- يکم نومبر کو روانہ کيے جانے والا ايک دوسرا مشن  خلا ميں پہنچنے کے بعد 'ٹيان گونگ-1' سے جا ملے گا- چين کے خلائي سائنس کے ميدان ميں قدم رکھنے کے بعد ايسا پہلي بار ہو رہا ہے کہ اس کے دو مشنز خلا ميں باہم منسلک ہوں گے-

مذکورہ مرحلے کي خوش اسلوبي سے تکميل کے بعد چين آئندہ برس کے اختتام تک ايسے مزيد تين مشنز خلا ميں بھيجے گا جو وہاں پہلے سے موجود تنصيب سے جا مليں گے- ان تين مجوزہ خلائي مشن ميں سے کم از کم ايک ميں خلاباز سوار ہوں گے-

اس عمل کے ذريعے چين 2016ء تک خلا ميں اپني عليحدہ  ليبارٹري  اور 2020ء تک 60 ٹن وزني خلائي اسٹيشن کي تعمير کا منصوبہ رکھتا ہے-

آسٹريليا سے تعلق رکھنے والے خلا باز مورس جونز نے وائس آف امريکہ کو بتايا کہ جمعرات کو بھيجے جانے والے خلائي مشن کے نتيجے ميں چيني سائنس دان بعض ايسي ٹيکنالوجيز کو جانچنے کے قابل ہو جائيں گے جن کي انھيں خلائي اسٹيشن کي تعمير کے آغاز پر ضرورت پڑے گي-

اخبار 'چائنا ڈيلي' نے جمعرات کو شائع کي گئي اپني ايک رپورٹ ميں چين کے خلائي پروگرام کي خاتون ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کا ملک چاند پر انساني مشن بھيجنے اور خلائے بسيط کي جانب مشن کي روانگي ميں اسي ٹيکنالوجي کا استعمال کرسکتا ہے-

تاہم چاند پر انساني مشن بھيجنے کے حوالے سے چين نے تاحال کوئي تاريخ مقرر نہيں کي ہے-

مورس جونز کے مطابق مبصرين کو يقين ہے کہ چين کے خلائي پروگرام کا اصل مقصد چاند پر انسان کو اتارنا ہے-

جمعرات کو بھيجے جانے والے مشن کو اس سے قبل 18 اگست  کو روانہ ہونا تھا تاہم اسے لے جانے والے 'لانگ مارچ 2-سي' نامي راکٹ ميں فني خرابي کے باعث اس کي روانگي موخر کردي گئي تھي-

چيني سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ خرابي کے بعد سے وہ 'ٹيانگ گونگ -1' کو خلا ميں لے جانے والے اس راکٹ ميں 170 سے زائد بڑھوترياں کر چکے ہيں-

چين نے خلاء ميں اپنا پہلا انسان بردار مشن 2003ء ميں روانہ کيا تھا جب کہ امريکہ اور روس چار دہائياں قبل ہي ايسا کرنے ميں کامياب ہو گئے تھے-


متعلقہ تحريريں:

مريخ پر پاني نمکين ہوگا

انساني ذہن سے قريب ترين مائيکرو چپ

ايک گھر کو شمسي بجلي فراہم کرنے کي لاگت تقريباً چاليس ہزار روپے

ستاروں سے آگے جہاں اور بھي ہيں

ستارے کھانے والي کہکشاں دريافت