• صارفین کی تعداد :
  • 3269
  • 9/19/2011
  • تاريخ :

آيات کي تقسيم كے قاعدے

قرآن حکیم

اس منزل ميں تين قاعدے بيان كئے جا سكتے ہيں ديگر قواعد بھي ممكن ہيں ليكن ہم نمونہ كے طور پر يہاں قرآني معارف كي تقسيم بندي كے جو اہم قاعدے پيش كئے جاتے ہيں بيان كررہے ہيں تاكہ ان كے درميان سے ايك قاعدہ اپنے لئے منتخب كرسكيں -

پہلا قاعدہ

شايد ذہن اس تقسيم بندي سے زيادہ آشنا ہوں كہ تمام ديني مطالب تين قسموں ميں تقسيم ہوتے ہيں…

1 عقائد

2 اخلاق

3 اور احكام

تفسير الميزان ميں بھي بہت سے مقامات پر اس روش كا ذكر كيا گيا ہے اس طرح تقسيم بندي كا ايك طريقہ تو يہ ہوا كہ تمام قرآني معارف كو تين حصوں ميں تقسيم كرديا جائے كہ ايك حصہ اصول عقائد (توحيد، نبوت، معاد، عدل اور امامت) نيز ان اصول دين كے جزئيات مثلاً عالم برزخ كے جزئيات كے باب ميں، دوسرا حصہ اخلاق كے باب ميں اور تيسرا حصہ احكام كے باب ميں ہو اور ہمارے فقہانے احكام كے باب ميں يہ كام كيا بھي ہے انہوں نے آيات الاحكام كے موضوع پر ”كنزالعرفان”‌ اور ”زبدة البيان”‌ جيسي مستقل كتابيں تحرير فرمائي ہيں -

يہ قاعدہ شايد ديكھنے ميں بہت اچھا محسوس ہو اور بظاہر ہے بھي بہت خوب، ليكن اس ميں معمولي طور پر سہي دشوارياں اور خرابياں بھي نكالي جا سكتي ہيں اوّلاً يہ كہ تمام مفاہيم قرآني كو ان تين حصوں ميں سمونا مشكل ہے  مثال كے طور پر قرآني آيات كا خاصا اہم حصہ تاريخ انبياء اور پيغمبروں كے واقعات پر مشتمل ہے اگر چہ ان داستانوں كے ضمن ميں بھي توحيدي، تشريعي اور اخلاقي نكتے موجود ہيں ليكن پوري كي پوري داستان اس فہرست ميں ركھي جا سكتي نہ اُس فہرست ميں بلكہ يہ خود ايك مخصوص حصہ اور مستقل عنوان ہے جن كو اگر جملوں اورٹكڑوں ميں تقسيم كرديا جائے تو داستان باقي نہ رہے گي اور اگر كوئي اصحاب كہف سے متعلق قرآني نقطہ نظر معلوم كرنا چاہے اس كو پتہ نہ ہوگا كہ يہ واقعہ كس باب ميں تلاش كرے ايك روشن و گويا باب جس كے ذيل ميں ہر انسان آساني سے تمام قرآني داستانيں مشخص طور پر جان لے اس تقسيم كے تحت ميسر نہ ہوگي -

اس ميں، جزئي طور پر، ايك قابل اعتراض پہلو يہ بھي ہے كہ خود يہ تينوں اقسام ايك دوسرے سے كوئي واضح رابطہ و تعلق نہيں ركھتيں اور بڑي دقت كے ساتھ ہي ان ميں رابطہ قائم كيا جا سكے گا، البتہ يہ اعتراضات بڑي ہي جزئي حيثيت ركھتے ہيں اور اس سے بہتر و مناسب كوئي دوسري راہ نہ ہونے كي صورت اس ہم اسي قاعدہ پر عمل كر سكتے ہيں

بشکريہ رضويہ اسلامک ريسرچ سينٹر


متعلقہ تحريريں:

قرآن مجيد اللہ تعالي کي طرف سے ايک عظيم تحفہ (حصّہ سوّم)

قرآن مجيد اللہ تعالي کي طرف سے ايک عظيم تحفہ (حصّہ دوّم)

کيا قرآن کا اعجاز صرف فصاحت و بلاغت ميں منحصر ہے؟ 

قرآن مجيد اللہ تعالي کي طرف سے ايک عظيم تحفہ

 قرآن کريم کس طرح معجزہ ہے؟ (حصّہ سوّم)