• صارفین کی تعداد :
  • 2770
  • 9/12/2011
  • تاريخ :

شوہر کروں يا خود مختار رہوں ؟

شادی بیاه

 نوکري ہے ، درآمد بھي اچھي ہے ، تعليم يافتہ ہے ، بہت مقامات کي سير بھي کر چکي  ہے  اور خود کو بڑي چيز سمجھتي ہے   ليکن رات جب گھر آتي ہے تو شوہر کي کوئي خبر ہوتي ہے اور  نہ بيٹے کے ہسنے کي آواز - وہ خود ہي اپني غذا کو گرم کرتي ہے اور ٹيلي ويژن چلا کر بيٹھ جاتي  ہے -

آج رات رابعہ ، صبا  اور دوسري خودمختار  کنواري لڑکياں کسي کام کي وجہ سے يہاں نہيں ہيں - ليلا اور مھتاب بھي اپنے شوہروں کے ساتھ ہيں - وہ  اکيلي ہے اور ٹي وي پر خبريں پڑھنے والے کي آواز - وہ ٹي وي سکرين پر خوش وضع فلمي اداکاروں کے ساتھ تنہا ہے جو اس کي آنکھوں کے سامنے ادارکاري کر رہے ہيں -

جي ہاں ايسي خواتين کے متعلق بات ہو رہي ہے جو ظاہرا خود کو کامياب تصوّر کرتي ہيں - ايسي خواتين  کہ جن کي عمريں تين سال کے نزديک ہيں مگر ابھي تک وہ رشتۂ ازدواج ميں منسلک ہونے کي بجاۓ دوسرے اھداف کے پيچھے سرگرداں   ہيں -

اگرچہ  تاريخي لحاظ سے ہماري  ثقافت ميں يہ پديدہ  بہت ناياب تھا  ليکن مغربي ماڈرن ثقافتي  تبديليوں کے اثرات ہماري ثقافت پر بھي پڑ رہے ہيں اور  خاص طور پر بڑے شہروں ميں اس طرح کے خيالات کي حامل خواتين ديکھنے کو ملتي ہيں -

اب سوال يہ ہے کہ بالآخر ايسا کيوں ہے ؟ بحث بہت لمبي ہے - شايد قوانين ، ثقافت اور ماں باپ کي ذمہ داريوں ميں پائي جانے والي کوتاہيوں نے ايسي خواتين کو شادي سے راہ فرار اختيار کرنے کا موقع فراہم کيا ہے - اس کي ايک وجہ بعض خودخواہ اور بےوفا مرد بھي ہو سکتے ہيں يا بعض معاشي اور معاشرتي وجوھات - شايد ايک کامياب اور خودمختار زندگي بسر کرنے کے تصّور اور گمان نے انہيں شادي نہ کرنے کے فيصلے کي طرف راغب کر ديا ہو -

  خواتين کي اس طرح کي نارضايت، ماڈرن مغربي دنيا سے لے کر مشرقي ممالک تک ايک جہاني مسئلہ ہے - آج کي دنيا کي خواتين کم و بيش ہر جگہ اس طرح کي کشمکش ميں مبتلا نظر آتي ہيں کہ شادي کرکے اپني شخصي زندگي کو محدود کر ليں يا پھر شادي کي رسم کو پس پشت ڈال کر اپني پڑھائي اور نوکري کے پيچھے بھاگيں  تاکہ ان کے ليۓ  مادي زندگي ميں کاميابي کا حصول ممکن ہو  -

بہت سي خواتين يہ کوشش کرتي ہيں کہ کوئي درمياني راہ تلاش کر لي جاۓ اور کام کے ساتھ ساتھ گھر کے باہر کہيں گھر جيسا ماحول بھي اپنا ليا جاۓ - يہ بالکل واضح ہے کہ ايسا ممکن نہيں - ايسا ممکن ہي نہيں کہ ايک ہاتھ سے ہم چند ہندوانے اٹھا ليں - اس ليۓ دير يا زود يہ سوال سامنے آ ہي جاتا ہے کہ مجھے تمام اوقات ميں ايک ماں بن کر رہنا چاہيۓ يا تمام اوقات ميں کوئي   نوکري کرني چاہيۓ ؟

کيا درمياني راہ کي تلاش شکست کي علامت نہيں ہے ؟  يہ مسئلہ بالآخر کيسے حل ہو گا - معاشرے ميں کيسے تعادل ايجاد کيا جا سکتا ہے ؟ اس طرح سے تعادل کہ خواتين کو يہ احساس ہرگز نہ ہو کہ شادي کرنے اور بچوں کي ديکھ بھال کرنے سے وہ نقصان ميں جا رہي ہيں - ؟ اور ايسا تعادل کس طريقے سے ايجاد کيا جاۓ جس ميں ايک نوکري کرنے والي خاتون کو يہ احساس نہ ہو کہ شوہر کي خدمت اور بچے کي ديکھ بھال کرنا عمر کو تباہ کرنے کے مترادف ہے ؟  کيا ہمارے معاشرے کي خواتين کے ذہنوں ميں  زندگي کے متعلق  ترجيحات اور خواہشات حقيقي اور صحيح ہيں ؟

تحرير : سيد اسداللہ ارسلان


متعلقہ تحريريں :

ايران کي تاريخ ميں عورت ( حصّہ دوّم )

اسلام ميں تعليم نسوان پر تاکيد

اسلام ميں عورت کا حق وراثت ( حصّہ چہارم )

اسلام ميں عورت کا حق وراثت ( حصّہ سوّم )

اسلام ميں عورت کا حق وراثت ( حصّہ دوّم )