• صارفین کی تعداد :
  • 3236
  • 9/11/2011
  • تاريخ :

بچہ اور دينى تعليم

بچہ اور دینى تعلیم

الله اور دين کى طرف توجہ انسان کى فطرت ميں داخل ہے اس کا سرچشمہ انسان کى اپنى سرشت ہے  

الله تعالى قرآن حکيم ميں فرماتا ہے : فاقکم وجہک للدّين حنيفا فطرة الله التى فطر النّاس عليہا

اپنا رخ دين مستقيم کا طرف کرلو وہى دين کو جو فطرت الہى کا حامل ہے اور وہى فطرت کى جس کى بنياد پر اس نے انسان کو خلق فرمايا ہے (روم 30 )

ہر بچہ کى فطرى طور پر خدا پرست ہے ليکن خارجى عوامل اثر انداز ہوجائيں تو صورت بدل جاتى ہے جيسا کہ

رسول اسلام صلى الله عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا ہے : کل مّولد يولد على فطرة الاسلام...

ہر بچہ فطرت اسلام پر پيدا ہوتا ہے مگر بعدا ز اں اس کے ماں باپ اسے يہودى ، عيسائي يا مجوسى ، بنا ديتے ہيں ماں باپ کى ذمہ دارى ہے کہ وہ اپنے بچے کے ليے ايسا ماحول پيدا کريں کہ اس ميں فطرى طور پر وديعت کيے گئے عقائد نشو و نما پا سکيں انسان بچپن ہے سے ايک ايسى قدرت کى طرف متوجہ ہوتا ہے کہ جو اس کى ضروريات پورى کر سکے ليکن اس کا ادراک اسحد تک نہيں ہوتا کہ وہ اپنى مرتکز شدہ توجہ کو بيان کر سکے ليکن آہستہ آہستہ يہ توجہ ظاہر ہوجاتى ہے جو بچہ ايک مذہبى گھرانے ميں پرورش پاتا ہے وہ کوئي چار سال کى عمر ميں الله کى طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور يہى وہ عمر ہے جس ميں بچے کے ذہن ميں مختلف قسم کے سوالات ابھر نے لگتے ہيں کبھى کبھى وہ الله کا نام زبان پر لاتا ہے اس کے سوالوں اور باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کى فطت بيدا ہوچکى ہے اور وہ اسسلسلے ميں زيادہ معلومات حاصل کرنا چاہتے ہے

بچہ سوچتا ہے کہ :

سورج کسنے بنايا ہے ؟

چاندتارے کسنے پيدا کيے ہيں؟

کيا الله تعالى مجھ سے پيار کرتا ہے؟

کيا الله تعالى ميٹھى چيزيں پسند کرتا ہے؟

بارش کون برساتا ہے؟

ابو کو کسنے پيدا کيا ہے؟

کيا الله ہمارى باتيں سنتا ہے؟

کيا ٹيلى فون کے ذريعے الله سے باتيں کى جاسکتى ہيں؟

الله کہاں رہتا ہے ؟

اس کى شکل کس طرح کى ہے ؟

کيا خدا آسمان پر ہے؟

چار سال کے بعد بچے اس طرح کے ہزاروں سوال کرتے اور سوچتے ہيں ان سوالات سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس کى فطرت خداپرستى بيدار ہوچکى ہے اور وہ يہ باتيں پوچھ کر اپنى معلومات مکمل کرنا چاہتا ہے معلوم نہيں کہ ننّھا منّا بچہ خدا کے بارے ميں کيا تصور رکھتا ہے شايد وہ يہ سوچتا ہے کہ خدا اس کے ابّو کى طرح ہے ليکن اس سے بڑا اور زيادہ طاقتور ہے بچے کا شعور جسقدر ترقى کرتا جاتا ہے خدا کے بارے ميں اس کى شناختبرھتى جاتى ہے اس سلسلے ميں ماں باپ پر بھارى ذمہ دارى عائد ہوتى ہے وہ اپنے بچوں کے عقائد کى تکميل ميں بہت اہم خدمت انجام دے سکتے ہيں اس سلسلے ميں اگر انہوں نے کوتاہى کى تو روز قيامت ان سے بازپرس کى جائے گى ماں باپ کو چاہيے کہ بچے کے تمام سوالوں کا جواب ديں اگر انہوں نے ايسا نہ کيا تو بچے کى روح تحقيق مرجائے گى ليکن بچے کے سوالوں کا جواب دينا کوئي آسان کام نہيں جواب صحيح ، مختصر اور بچے کے ليے قابل فہم ہونا چاہيے بچے کا شعور جسقدر ترقى کرتا جائے جواب بھىاس قدر عميق ہونا چاہيے يہ کام ہر ماں باپ نہيں کرسکتے اس کے ليے ضرورى ہے کہ وہ پہلے سے اسکے ليے تيارى کريں زيادہ گہرے اور صبر آزما مطلب بيان نہ کريں کيونکہ يہ نہ فقط بچے کے ليے سودمند نہ ہوں گے بلکہ ناقابل فہم اور پريشان کن بھى ہوں گے چھوٹا بچہ مشکل مطالب نہيں سمجھ پاتا لہذا اس کى طبيعت ، فہم اور صلاحيت کے مطابق اسے دينى تعليم دى جانا چاہيے

امام صادق عليہ السلام فرماتے ہيں:

بچہ تين سال کا ہوجائے تو اسے ''لا الہ الا الله '' سکھائيں پھر اسے چھوڑديں جب اس کى عمر تين سال ، سات ماہ اور بيسدن ہوجائے تو اسے'' محمد رسول الله'' ياد کروائيں پھر چار سال تک اسے چھوڑديں جب چار سال کا ہوجائے تو اسے پيغمبر خدا پر درود بھيجنا سکھائيں

بچوں کا چھوٹے چھوٹے اور سادہ دينى اشعار يادکروانا ان کے ليے مفيد اور لذت بخش ہوتا ہے اسى طرح انہيں آہستہ آہستہ نبوت اور امامت کے بارے پہلے رسول الله صلى الله عليہ و آلہ و سلم کے بارے ميں بتائيں کہ الله نے انہيں نبى بنا کر بھيجا تا کہ ہمارى ہدايت کريں پھر ان کى خصوصيات اور کچھ واقعات بتائيں پھر عمومى نبوت کا مفہوم بتائيں اور نبوت کى ضرورى ضرورى شرائط سے انہيں آگاہ کريں او ر يوں ہى امامت کے بارے ميں بھى سمجھائيں چھوٹے چھوٹے واقعات کے ذريعے کہانى کى صورت ميں پيار سے يہ باتيں کريں گے تو بہت مؤثر ہوں گے ہاں قيامت کے بارے ميں بچہ جلدى متوجہ نہيں ہوتا وہ سوچتا ہے کہ وہ اور اس کے ماں باپ ہميشہ يوں ہى رہيں گے مرنے کو وہ ايک لمبے سفر کى طرح خيال کرتا ہے جب تک بچہ موت کى طرف متوجہ نہ ہو تو ضرورى نہيں ہے بلکہ شايد مناسب بھى نہيں کہ اس سے اس سلسلے ميں بات چيت کى جائے البتہ نہ چاہتے ہوئے بھى ايسے واقعات پيش آجاتے ہيں کہ ماں باپ کو مجبوراً ان کے سامنے موت کى حقيقت کے بارے ميں کچھ اظہار کرنا پڑجاتا ہے ممکن ہے کسى رشتے دار، دوست يا جان پہچان والے شخص کى موت بچے کو سوچنے پر مجبور کردے مثلاً خدا نخواستہ بچے کے دادا وفات پاجائيں اور وہ پوچھے کہ : امّى دادا بّو کہاں چلے گئے ہيں؟

ايسے موقع پر بچے کو حقيقت بتادنى چاہيے جھوٹ نہيں بولنا چاہيے بچے سے يہ کہا جا سکتا ہےتمہارے دادا جان وفات پاگئے ہيں ، وہ دوسرے دنيا ميں چلے گئے ہيں ہر مرنے والا اس دنيا ميں چلا جاتا ہے اگر کوئي نيک ہوا تو جنت کے خوبصورت باغوں ميں خوشى رہے گا اور اگر کوئي برا ہوا تو جہنم کى آگ ميںوہ اپنى سزا بھگتے گا بچے کو موت کا يع معنى رفتہ رفتہ سمجھاياجائے کہ يہ ايک دنيا سے دوسرى دنياکى طرف انتقال ہے اسے جنت ، دوزخ ، حساب کتاب اور قيامت کے بارے ميں سادا سادا اور مختصر طور پر بتايا جانا چاہيے تربيت عقايد کا يہ سلسلہ پرائمرى ، مڈل ، ہائي اور پھر بالائي سطح تک جارى رہنا چاہيے -

بشکريہ : مکارم شيرازي ڈاٹ او آر جي


متعلقہ تحريريں:

نومولود اور اخلاقى تربيت

کتاب کا مطالعہ (حصّہ ششم)

کتاب کا مطالعہ (حصّہ پنجم)

کتاب کا مطالعہ (حصّہ چهارم)

کتاب کا مطالعہ (حصّہ سوّم)