• صارفین کی تعداد :
  • 5851
  • 9/10/2011
  • تاريخ :

فالج کا علاج چمگادڑ سے

چمگادڑ

چمگادڑوں کي ايک قسم صرف خون پي کر زندہ رہتي ہے- يہ چمگادڑيں رات کي تاريکي ميں اپنے شکار پر نکلتي ہيں اور مچھروں اور جونکوں کي طرح اپنے شکار پر حملہ کرکے بڑي مقدار ميں خون چوس ليتي ہيں- چمگادڑوں کي اس قسم کو عموماً خوف اور دہشت کي علامت سمجھا جاتا ہے- مگر حال ہي ميں ايک سائنسي تحقيق سے معلوم ہوا ہے کہ ان کے لعاب ميں ايک ايسا جزو موجود ہے جو فالج کے علاج ميں انتہائي مؤثر ہے-

تاريک راتوں ميں   اکثر اوقات چمگادڑوں کي پھڑپھراہٹ انسان کو خوف زدہ کرديتي ہے-شايد اسي ليے کئي فلمي مناظر ميں، خاص طورپر جادو اور آسيب پر مبني فلموں ميں  خوف کے تاثر کوابھارنے کے ليے چمگادڑوں سے کام لياجاتاہے-اور يہ تصور تو دل دل دہلا دينے کے ليے ہي  کافي ہے کہ  چمگادڑوں کي ايک قسم ايسي بھي ہے جو صرف خون پي کر زندہ رہتي ہے-

خون پينے والي چمگادڑيں زيادہ تر امريکہ، ميکسيکو، برازيل، چلي اور ارجنٹائن ميں پائي جاتي ہيں اور وہ صرف جانوروں کا ہي خون نہيں چوستيں بلکہ سوتے ہوئے انسانوں پر بھي حملہ کرتي ہيں- رات کي تاريکي  ميں اپنے شکار کي تلاش ميں نکلنے والي ان چمگادڑوں کا وزن تقريباً 40 گرام  ہوتا ہے اور وہ ايک وقت ميں لگ بھگ 20 گرام تک خون چوس ليتي ہيں-

خون چوسنے والي چمگادڑسے اب زيادہ خوف کھانے کي بھي ضرورت نہيں ہے کيونکہ  حال ہي ميں سائنس دانوں کو  معلوم ہوا ہے کہ  وہ  انساني جان بچانے کے بھي کام آسکتي ہيں ، خاص طورپر اسٹروک يا فالج کے حملے  کي صورت ميں-

چمگادڑ

انسان پر فالج کا حملہ اس وقت ہوتا ہے جب دماغ کے کسي حصے ميں خون کي فراہمي رک جاتي ہے- دماغ کو زندہ رہنے اور اپنے افعال ادا کرنے کے ليے آکسيجن اور گلوکوز کي ضرورت ہوتي ہے جو اسے خون پہنچاتا ہے- ہرحصے تک خون کي بلاروک ٹوک اور فوري فراہمي کے ليے دماغ کے اندر بڑي اور چھوٹي رگوں کا بہت بڑا جال بچھا ہوا ہے-

دماغ کے کسي حصے ميں خون کي فراہمي صرف دو صورتوں ميں رک سکتي ہے- اول يہ کہ وہاں  کسي رگ ميں خون کا لوتھڑا پھنس جائے يا کسي وجہ سے اس ميں خون جم جائے ،يا پھر کوئي رگ پھٹ جائے اور خون دماغ کے خليوں تک پہنچنے کي بجائے   بہنا شروع ہوجائے- اسٹروک کے تقريباً 80 في صد مريضوں کا تعلق پہلي قسم سے ہوتا ہے-

دماغ کے خليوں تک جب آکسيجن کي فراہمي گھٹتي ہے تو اس کي کاکردگي متاثر ہونا شروع ہوجاتي ہے اور آکسيجن کي مکمل بندش  کے بعد متاثرہ حصے کے خليے صرف چار منٹ تک زندہ رہتے ہيں -

انساني جسم کے ہر عمل کو دماغ کا کوئي مخصوص حصہ کنٹرول کرتا ہے- کسي  حصے کے خليے مردہ ہونے سے اس سے منسلک جسماني  حصے تک دماغ سے پيغامات کي ترسيل رک جاتي  ہے اور وہ اپنا کام بند کرديتا ہے- اس کيفيت کو فالج کہتے ہيں-

چمگادڑ

اسٹروک کے مريض کو جتني جلدي اسپتال پہنچا ديا جائے ، فالج کے حملے ميں کمي اور مريض کے صحت مند زندگي کي جانب لوٹنے کے امکانات اتنے ہي زيادہ ہوتے ہيں-

اگر اسٹروک کے حملے کي وجہ، دماغ کي رگ ميں خون کا انجماد ہوتو اس کا علاج عموماً خون پگھلانے والے انجکشن سے کيا جاتا ہے-ان دنوں جو دوائيں استعمال کي جارہي ہيں، وہ حملے کے چار گھنٹوں کے اندر بہتر نتائج دکھانے کي صلاحيت رکھتي ہے- ليکن اگر فالج کے حملے کو اس سے زيادہ دير ہوچکي ہو تو پھر اس کے استعمال سے کوئي خاص آفاقہ نہيں ہوتا-

تحریر: جميل اختر


متعلقہ تحريريں :

وٹامن اے بچوں کي اموات روکنے ميں مددگار

خون کے روايتي ٹيسٹ سے ٹي بي کي درست تشخيص ممکن نہيں

پندرہ منٹ کي روزانہ ورزش ضروري

 صرف تين گرام نمک کم کرکے دل کو صحت مند رکھيئے

ايم چِپ: خون کا تجزيہ کہيں بھي کبھي بھي