• صارفین کی تعداد :
  • 2724
  • 9/6/2011
  • تاريخ :

ہمارے نوجوان ہدايت کي روشن قنديل بنيں ( حصّہ سوّم )

روشن قندیل

اس وقت پوري دنيا اخلاقي بحران سے گزر رہي ہے - آج کے نوجوان بھي اسي بحران کے شکار ہيں - آ ج کا نوجوان مادي اغراض کے حصول ميں ”‌ روبوٹ” بننے پر کمر بستہ  ہے ليکن اخلاقي قدروں کے تئيں اس قدر خاموش ہے کہ ”‌لاش ” کا گمان ہوتا ہے - اخلاقي قدريں انسان کو بعض اصولوں کا پابند بناتي ہيں اور يہ توقع کي جاتي ہے کہ وہ ان کي خلاف ورزي نہيں کرے گا - ليکن موجودہ دور کے انسان کے نزديک يہ اخلاقي قدريں قدامت پرستي اور جہالت کي دليل ہے - انسان جس اخلاقي قدر کو چاہئے اسے دورِ جاہليت کي يادگار کہہ کر پامال کرسکتا ہے -

اس وقت دنيا ميں ايسے لوگوں کي بھي کمي نہيں ہے جو زباني طور پر اخلاقي اقدار کي مستقل اہميت کے قائل ہيں ليکن عملاً ان کے نزديک ان کي اتني اہميت نہيں ہے کہ اخلاقي قدروں کي پاسداري کے لئے کوئي نقصان برداشت کيا جائے يا ان کے تحفظ کے لئے ہونے والے ذاتي فائدے کو چھوڑ ديا جائے - صداقت اور راست بازي ايک اعليٰ اخلاقي فريضہ ہے - لوگ اس کي اہميت تسليم کرتے ہيں ليکن کسي بھي چھوٹے سے چھوٹے فائدے کے لئے جھوٹ بول سکتے ہيں اور بہتان لگانے ميں چوک نہيں سکتے ہيں - غرض اس اخلاقي زوال کي وجہ سے کسي شخص کو کسي پراعتماد نہيں رہا -ہرشخص دوسرے سے خوف محسوس کرتا ہے - آ ج کے نوجواں بھي اسي بے اعتمادي کي فضاء ميں جي رہے ہيں - انہيں نہ تو کسي کي ديانت ،امانت ، عہد وپيمان اور خلوص پر اعتماد ہے اور نہ کوئي دوسرا ان پر اعتماد کرنے کے لئے تيار ہے -

 وہ سمجھتے ہيں کہ انہيں ايک ايسي دنيا ملي ہے جو بے اصول اور اخلاق اور اخلاص سے محروم ہے - وہ يہاں ہے اصولي اختيار کرکے ہي کامياب ہو سکتے ہيں ورنہ انہيں قدم قدم پر دھتکار ديا جائے گا اور نقصان اٹھانا پڑے گا -

آج کا ايک اور بڑا فتنہ جنسي آوارگي ہے - دورِ جديد کے فلسفوں نے انسان کو حيوان کي سطح پر پہنچا ديا ہے - وہ سگمنڈ فرائيڈ اور ڈارون جيسے فلسفيوں کے نقطہ نظر سے ہر مسئلے کو ديکھتا ہے اور اس حيواني اور جنسي نقطہ نظر سے ہر مسئلے کو حل کرنا چاہتا ہے - اسے فطري نقطہ نظر سمجھتا ہے - اس کا ايک نتيجہ جنسي اباحيت پسندي کي شکل ميں برآمد ہوا ہے - آج کا انسان حيوانوں کي طرح مکمل جنسي آزادي چاہتا ہے - مغرب کے نزديک جنسي جذبات کو مذہب اور اخلاق کے نام پر دباناغير فطري اور نقصان دہ ہے -

 مغرب نے جنسي جذبات ابھارنے کے لئے پورا ماحول تيار کر رکھا ہے - ريڈيو ، ٹيليويژن، اخبار و رسائل ، گندے اشتہارات اور گندي کتابيں ، غرض کہ نشر واشاعت کے تمام ذرائع اس اباحيت پسند ماحول کو بنانے اور ترقي دينے ميں لگے ہوئے ہيں -اس شيطاني ماحول سے آج کے نوجوانوں پر جنسي جنون سوار ہے اور کسي سنجيدہ کام اور اعليٰ قدروں کي پاسداري ميں انہيں کوئي دلچسپي نہيں ہے -

ترتيب و پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان

( بشکريہ کشمير عظمي )


متعلقہ تحريريں:

جوانوں کي کاميابي کا راز کس ميں پوشيدہ ہے ؟ ( حصّہ دوّم )

جوانوں کي کاميابي کا راز کس ميں پوشيدہ ہے ؟

زنا ايک حرام فعل  ہے ( حصّہ دوّم )

کامياب ازدواجي زندگي کے سنہرے اصول ( حصہ چہارم )

کامياب ازدواجي زندگي کے سنہرے اصول ( حصہ سوّم )