• صارفین کی تعداد :
  • 1651
  • 9/6/2011
  • تاريخ :

اسلامي معاشرے ميں قرآن کريم کي اہميّت

قرآن حکیم

قرآن مجيد معارف کا سب سے بڑا خزانہ ، افضل ترين کلام اورمعاشرہ کي کج رويوں اورانحرافات کي اصلاح ميں عميق ترين بيان ہے- کمال اورجامعيت قرآن کريم اس کي ايسي منحصر بہ فرد خصوصيت ہے جو جوامع بشري کي تمام ضرورتوں اور نياز منديوں لے لئے جواب گو ہونے کي مکمل قدرت و صلاحيت رکھتي ہے اور دنيا و آخرت کي سعادت و خوش بختي اپنے دامن ميں لئے ہوئے ہے - درحقيقت تاريخِ بشر کے تمام اعصار و ادوار ميں دين مبين اسلام کي وسعت و جامعيت قرآن کريم سے ماخوذ ہے -

معاشرے کے مختلف فردي، اجتماعي، اور معاشرتي موضوعات سے لے کر فرد اور معاشرہ کي متقابل تاثيرات، اجتماعي دگرگونيوں، آئيڈئل معاشرہ، اجتماعي گروپ بنديوں، اجتماعي اہميتوں، معاشروں کي قوانين منديوں، معاشرے کي شکوفائي ميں مؤثر عوامل، اجتماعي طبقات، فردي اوراجتماعي ضرورتوں، الہٰي جہان بيني کے اعتبار سے مسلم معاشرہ کا مستقبل، اجتماعي تہذيب کي سلامتي، عمومي لغزشوں، معاشروں کي مديريت کي نئي تدابير، جوامع انساني کے بنيادي تفاوت اور اشترکات، معاشرے کے انحرافات کي شناخت کا قرآن بہترين جواب گو ہے- اس بنا پر تمام موارد خصوصاً اجتماعي انحرافات کے علاج ميں اصيل ترين، بہترين اور کامل ترين نظريات قرآن سے اخذ کئے جا سکتے ہيں

انسان کے اختيار ميں صرف قرآن آسماني کتاب ہے -  قرآن کے بارے ميں جو کچھ نہج البلاغہ ميں ذکر ہوا ہے، اگر اسے بيان کريں تو گفتگو کا سلسلہ طويل ہو جائے گا- کيونکہ امام علي (ع ) نے نہج البلاغہ کے بيس سے زيادہ خطبوں ميں قرآن اور اس کے مرتبہ کا تعارف کرايا ہے اور کبھي کبھي نصف خطبہ سے زيادہ قرآن کے مرتبہ، مسلمانوں کي زندگي ميں اس کے اثر اور اس آسماني کتاب کے بارے ميں مسلمانوں کے فريضہ سے مخصوص کيا ہے- ہم يہاں پر قرآن کريم سے متعلق نہج البلاغہ کي صرف بعض تعريفوں کي توضيح پر اکتفا کرتے ہيں-

امير المومنين حضرت علي  ـ 133 ويں خطبہ ميں ارشاد فرماتے ہيں:

''وَ کِتَابُ اللّٰہِ بَينَ اَظْہُرِکُمْ نَاطِق لايَعْييٰ لِسَانُہ''

يعني قرآن تمھارے سامنے اور تمھاري دسترس ميں ہے- دوسرے اديان کي آسماني کتابوں جيسے حضرت موسيٰ   اور حضرت عيسيٰ   کي کتابوں کے برخلاف، قرآن تمھارے اختيار ميں ہے- واضح رہے کہ گزشتہ امتوں ميں خصوصاً بني اسرائيل کے يہوديوں ميں مقدس کتاب عام لوگوں کے اختيار ميں نہيں تھي، بلکہ توريت کے صرف چند نسخے علماء يہود کے پاس تھے اور تمام لوگوں کے لئے توريت کي طرف رجوع کرنے کا امکان نہيں پايا جاتا تھا-

تحرير :  آية اللہ محمد تقي مصباح يزدي     

ترتيب و پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

قرآن مجيد اور اخلاقي تربيت ( حصّہ ششم )

قرآن مجيد اور اخلاقي تربيت ( حصّہ پنجم )

فرشتوں کے ہم نشين بن جاؤ ( حصّہ  سوّم)

قرآن مجيد اور اخلاقي تربيت ( حصّہ چہارم )

قرآن مجيد اور اخلاقي تربيت ( حصّہ سوّم )