• صارفین کی تعداد :
  • 2194
  • 9/4/2011
  • تاريخ :

 ضحّاک کي کہاني چوتھا نظارہ

ضحّاک کی کہانی

(پرويز_____مہرو)

مہرو- (کچھ ديرخاموشي سے پرويز کے چہرہ کي طرف ديکھنے کے بعدايک طرف آ کر اپنے آپ ) آہ! اگر آج ميرا لڑکا! زندہ ہوتا تووہ بھي ايساہي ہوتا! اُس وقت کو، 16سال ہونے آئے! جب وہ دو2 سال کا تھا! آج کوئي اٹھارہ سال کا ہوتا! ------ (پرويز سے ) کيوں بيٹا ! تمہاري کيا عمر ہو گي بھلا------!؟

پرويز- اٹھارہ سال!

مہرو - ( اپنے آپ) آہ! بالکل ميرے لڑکے کي عمر!! ميں نصيبوں جلي آج کو ايک ايسے ہي لڑکے کي ماں ہوتي !------ آہ ميں اپنے باپ سے محروم ہوگئي! اپنے شوہر سے محروم ہوگئي! اپنے نصيبوں سے محروم ہوگئي! ميں اپنے باپ اور شوہر کے قاتلوں کے ہاتھوں ميں گرفتارہوگئي! اللہ! کيسي کيسي مصيبتيں جھيليں! کيا کيا تکليفيں سہيں! مگر سب کوبُھلا چکي! مجھے کسي بات کا رنج نہيں! فقط اپني اولاد کا صدمہ ہے! ہائے! ميرا ہيرے موتي، سا لڑکا! کون جانے اُس پر کيا بيتي ؟ خدا نا کردہ ، کہيں دُشمنوں نے اُسےقتل تو نہيں کر ديا ------ نہيں! آہ نہيں!------ مگرشايد وہ بيچ ميں رہ گيا تھا! کہيں اُس ہنگامہ ميں، گھوڑوں کے پيروں تلے نہ آ گياہو؟ کسي نے اُسےگرفتار نہ کرليا ہو؟ آہ! کيا وہ وحشي عربوں اور شوريوں کے پنجہ ميں تو نہيں پھنس گيا! اُف! ضحاک کے بيرحم! ظالم آدميوں کے ہاتھوں ميں!------الہٰي! کسي نے پہچان لياتو کياہوگا------؟ آہ! ميري آنکھو ں کے سامنے اُس کا سرقلم------ ! ميں نہيں جانتي وہ زندہ ہے ياقتل ہو چکا------؟ ميري ظاہري آنکھيں اُسے نہيں ديکھ سکتيں! کاش کہ ميں اُس کو ايک دفعہ ديکھ لوں! پھرجوہوناہو، ہوجائے!------ ہاں! ہوجائے!------ ايک دفعہ ديکھنے کے بعد، چاہے ميري آنکھوں کے آگے ہي اُس کا سر قلم کرليں! ميں راضي ہوں!------ آہ ميرا لڑکا! ميرا پيارا لڑکا!!

(آنکھوں پر رومال رکھ کررونے لگتي ہے)

پرويز - ( دور سے مہرو کي طرف حيرت سے ديکھتےہوئے اپنے آپ ) کيسي عجيب بات ہے! يہ عورت ہميشہ اِسي طرح رنجيدہ اور غمگين رہتي ہے! ( غور سے ديکھ کر ) رو رہي ہے! آہ! وہ تو رو رہي ہے! عجيب بات ہے! ميں تو اِس جگہ ہر شخص کو خوش وخُرّم خيال کرتاتھا! اَب معلوم ہوا کہ دُنيا ميں کوئي جگہ ايسي نہيں جہاں رنج وغم نہ بستے ہوں!

(دائيں طرف سے دريچہ سے فرہاد داخل ہوتا ہے)

تحرير: اختر شيراني


متعلقہ تحريريں :

امانتداري کي رسم

جادو کي بوتل

دادا جان ، تسبيح اور چمگادڑ (دوسرا حصّہ)

دادا جان ، تسبيح اور چمگادڑ

ہائے ر ے تکيہ کلام (حصّہ دوّم)