• صارفین کی تعداد :
  • 1525
  • 9/4/2011
  • تاريخ :

قرآن مجيد اور اخلاقي تربيت ( حصّہ ہشتم )

قرآن حکیم

ادبي جرأت وشجاعت کے بہترين مناظر ميں جنکا تذکرہ کر کے قرآن مجيد مسلمان کي ذہني اور نفسياتي تربيت کرنا چاہتا ہے- --”‌وجاء من اقصي المدينةرجل يسعيٰ قال يٰقوم اتبعواالمرسلين اتبعوا من لايسئلکم أجراوہم مہتدون# ومالي لااعبدالذي فطرني واليہ ترجعون أاتخذمن دونہ آلہةأن يردن الرحمٰن بضرلاتغن عنّي شفاعتہم شيئاًولاينقذون اني اذا لفي ضلال مبين اني آمنت بربکم فاسمعون-”(يس20)

”‌اور شہرکے آخر سے ايک شخص دوڑتا ہوا آيا اور اسنے کہا کہ اے قوم!مرسلين کا اتباع کرو،اس شخص کا اتباع کروجوتم سے کوئي اجر بھي نہيں مانگتا ہے اور وہ سب ہدايت يافتہ بھي ہيں،اور مجھے کيا ہو گيا ہے کہ ميں اس خدا کي عبادت نہ کروں جس نے مجھے پيدا کيا ہے اور تم سب اسي کي طرف پلٹ کر جانے والے ہو-کيا ميں اس کے علاوہ دوسرے خداوں کو اختيار کر لوں جب کہ رحمٰن کوئي نقصان پہونچانا چاہے توان کي سفارش کسي کام نہيں آسکتي ہے اور نہ يہ بچا سکتے ہيں،ميں تو کھلي گمراہي ميں مبتلا ہو جاؤ ں گا- بے شک ميں تمہارے خدا پر ايمان لا چکا ہوں لھذا تم لوگ بھي ميري بات سنو-” !

آيت کريمہ ميں اس مرد مومن کے جن فقرات کا تذکرہ کيا گيا ہے وہ ادبي شجاعت کا شاہکار ہيں - اس نے ايک طرف داعي حق کي بے نيازي کا اعلان کيا کہ وہ زحمت ہدايت بھي برداشت کرتا ہے اور اجرت کا طلبگار بھي نہيں ہے - پھر اس کے خدا کو اپنا خالق کہہ کر متوجہ کيا کہ تم سب بھي اسي کي بارگاہ ميں جانے والے ہو تو ابھي سے سوچ لو کہ وہاں جا کر اپني ان حرکتوں کا کيا جواز پيش کروگے - پھر قوم کے خداوں کي بے بسي اور بے کسي کا اظہار کيا کہ يہ سفارش تک کرنے کے قابل نہيں ہيں ، ذاتي طور پر کونسا کام انجام دے سکتے ہيں- پھر قوم کے ساتھ رہنے کو ضلال مبين اور کھلي ہوئي گمراہي سے تعبير کر کے يہ بھي واضح کرديا کہ ميں جس پر ايمان لايا ہوں وہ تمہارا بھي پروردگار ہے - لہذا مناسب يہ ہے کہ اپنے پروردگار پر تم بھي ايمان لے آو اور مخلوقات کے چکر ميں نہ پڑو- ”‌ان قارون کان من قوم موسيٰ فبغيٰ عليہم و آتينٰہ من الکنوز ما ان مفاتحہ لتنوء بالعصبة اوليٰ القوةاذا قال لہ قومہ لا تفرح ان اللہ لا يحب الفرحين ابتغ فيما آتٰک اللہ الدار الآخرة ولا تبغ الفساد في الارض ان اللہ لا يحب المفسدين-” (قصص 76-77)

”‌بے شک قارون موسيٰ ہي کي قوم ميں سے تھا ليکن اس نے قوم پر زيادتي کي اور ہم نے اسے اس قدر خزانے عطا کئے کہ بڑي جماعت بھي اس کا بار اٹھا نے سے عاجز تھي تو قوم نے اس سے کہا کہ غرور مت کر کہ خدا غرور کرنے والوں کو دوست نہيں رکھتا ہے-

آيت سے صاف واضح ہوتا ہے کہ قارون کے بے تحاشہ صاحب دولت ہونے کے باوجود قوم ميں اس قدر ادبي جرأت موجود تھي کہ اسے مغرور اور مفسد قرار دے ديا ، اور يہ واضح کر ديا کہ خدا مغرور اور مفسد کو نہيں پسند کرتا ہے اور يہ بھي واضح کر ديا کہ دولت کا بہترين مصرف آخرت کا گھر حاصل کر لينا ہے ورنہ دنيا چند روزہ ہے اور فنا ہو جانے والي ہے-

بشکريہ رضويہ اسلامک ريسرچ سنٹر


متعلقہ تحريريں:

فرشتوں کے ہم نشين بن جاؤ ( حصّہ  سوّم)

قرآن مجيد اور اخلاقي تربيت ( حصّہ چہارم )

قرآن مجيد اور اخلاقي تربيت ( حصّہ سوّم )

قرآن مجيد اور اخلاقي تربيت ( حصّہ دوّم )

فرشتوں کے ہم نشين بن جاؤ ( حصّہ دوّم )