• صارفین کی تعداد :
  • 1484
  • 8/30/2011
  • تاريخ :

محاورہ، روزمرہ، ضرب المثل اور تلميح ميں فکري اور معنوي ربط

محاورہ، روزمرہ، ضرب المثل اور تلمیح میں فکری اور معنوی ربط

محاورہ اپنے معنوي اور فکري خدوخال ميں زبان اور لسان کي مختلف اصطلاحوں کے معنوي پيکروں سے ہم آہنگ تو ہوتا ہے، ليکن ان کے مابين معنوي نظام کا بنيادي اخلاقي پہلو بہر حال موجود رہتا ہے-  مثال کے طور پر محاورے، روز مرے، ضرب الامثال، تلميحات اور تراکيب سازي کے عمل ميں بعض رويے مشترک تو ہوسکتے ہيں، ليکن معنوي سطح پر اِن کے اندر باريک نکتے پنہاں ہوتے ہيں- يہ نکتے اِن کے معنوي مفہوم کے بنيادي اختلافي ڈھانچے کو رونما کرتے ہيں، جو اِن اصطلاحوں کے مابين معنوي سطح پر موجود ہوتا ہے- بہت سے لوگ روزمرے، محاورے، تلميح، تراکيب، ضرب الامثال وغيرہ کے مابين موجود اس باريک اور مہين فرق کو اجاگر نہيں کرتے اور ان تمام اصطلاحوں کو قريبي مفاہم ميں استعمال کرتے ہيں-

محاورہ کيا ہے؟ اور اِس کا روزمرے کے ساتھ کہاں تک معنوي تعلق، ربط اور رشتہ موجود ہے اور کہاں سے دونوں کے مابين اختلافي سرحديں آغاز ہوتي ہيں، اُن کي نشاندہي دونوں کي تعريفوں کو اُن کے بنيادي مظاہر ميں ديکھے بِنا ممکن نہيں ہوسکتي- محاورہ دو يا دو سے زيادہ الفاظ کا وہ مجموعہ ہے جو اہلِ زبان کي رومرہ بول چال اور اُن کے مُرتّبہ يا ان کے مجوزہ قواعد  کے مطابق ہوتا ہے- الفاظ کا يہ مجموعہ  معني ميں استعمال ہوتا  Special اپنے حقيقي، لغوي اور بنيادي معنوں کے بجائے صطلاحي، غير و ضعي اور ہے اور اس ميں مصدر کا ہونا لازم قرار ديا گيا ہے-

دوسري طرف روزمرہ الفاظ کي ايک ايسي ترکيب کا نام ہے، جو دو يا دو سے زائد الفاظ پر مشتمل ہوتي ہے- روزمرہ اپنے حقيقي اور لغوي مفہوم ميں استعمال ہوتا ہے اور اس ميں مصدر کا ہونا لازمي نہيں ہے- اس کي ترکيب بھي اہلِ زبان کي بول چال اور ان کے قواعد کے مطابق مرتب ہوتي ہے، ليکن يہ اپنے لغوي معني کے پسِ منظر سے جدا نہيں ہوتا- اِس پر کسي طرح کے اصطلاحي يا غير حقيقي يا غير وضعي مفہوم کا سايہ نہيں پڑتا- لہٰذا اِس کے اندر اپنے لغت اور بنيادي تھيم کے ساتھ ايک ايسا معنوي ارتباط پايا جاتا ہے، جو اِس کي فکر کو محاورے کي فکري حدود سے عليحدہ رکھتا ہے اور جہاں اِس کي شناخت محاورے کے معنوي منظر نامے سے عليحدہ سطح پر ممکن ہوسکتي ہے-

روزمرہ محاورہ دونوں زبان کے ايسے اساليب ہيں، جن ميں زبان سانس ليتي ہے- زبان اور اس کي زندگي کا دارومدار جہاں ديگر تکنيکي اور فني مظاہر سے وابستہ ہوتا ہے، وہاں زبان کي معنوي توسيع روزمرے اور محاورے کے بغير، نہ تو ٹھوس تہذيبي اور فکري بنيادوں پر استوار رہ سکتي ہے اور نہ ہي زبان کا لساني ارتقا ممکن ہوسکتا ہے- يہ دونوں اصطلاحيں اور اساليب کسي بھي زبان ميں اِسي نوعيت کا مفہوم رکھتے ہيں، جيسے جسم انساني ميں روح کي حيثيت ہوتي ہے- روح کے بغير کوئي جسم اپني زندگي کا تصور نہيں کرسکتا- اِسي طرح کسي زبان کے ارتقا، اُس کي اشاعت اور ترويج کے ضمن ميں روزمرے اور محاورے کي اہميت اور افاديت سے انکار ممکن نہيں ہوتا، جب روزمرے کے اسلوب ميں دو يا دو سے ذائد الفا1 جاوداني سطح پر ہم رشتہ ہو جائيں اور معاني کا ايک ايسا تنا ظر مرتب کريں، جہاں پر زندگي کي حقيقي رعنائياں لفظوں کي اُس ترکيب يا مجموعے سے عکس انداز ہوں اور اِن کے مابين ايک فکري اشتراک اور ارتباط لغت کي معنويت کے ساتھ وابستہ ہو، تو روزمرہ اپنے مجموعي معنوي تناظر ميں متشکل ہوتا ہے-

محاورے کي طرح روزمرے کے اندر بھي کسي نوع کي معنوي يا لفظي تبديلي ممکن نہيں ہوتي- اہلِ زبان کسي لفظ کو روزمرہ بول چال ميں جس طرح سے بولتے ہيں، اُس لفظ يا لفظوں کے مجموعے کے ہم معني يا مترادف الفاظ کو اُس مجموعے کے اندر رکھنے سے اس کے معني کا وہ مروجہ نظام اور تسلسل ممکن نہيں رہ پاتا- مثال کے طور پر "انيس بيس" روزمرہ ہے- ہم اِسي پيٹرن پر، اسي انداز سے "بيس اکيس" کہہ کر روزمرے کا خون کرديتے ہيں يا "اٹھارہ انيس" کا فرق ہے- يہ "انيس بيس" کے فرق کو ہم "اٹھارہ اور بيس" يا "اٹھارہ اور انيس" يا "بيس اور ايکس" کے فرق سے نماياں نہيں کر سکتے، کيونکہ شروع ہي سے اہلِ زبان اپنے قواعد کے مطابق اپني روزمرہ بول چال ميں، اِن الفاظ کے مجموعے کو اِس فکري رشتے اور ارتباط کے ساتھ بولتے چلے آ رہے ہيں- "پانچ سات" اردو کا روزمرہ ہے- اب يہ "پانچ سات"،"سات نو" نہيں ہو سکتا- اس ليے کہ اس کے اندر صديوں کے تسلسل اور لساني عمل کے بعد جو ربط پيدا ہوا ہے، وہ ربط اہلِ زبان کے قواعد اور اُن کے روزمرہ استعمال کے مطابق ہے- اِس استعمال اور قواعد کے اندر تبديلي کا درآنا، اِس اصطلاح اور اسلوب کي معنويت کو متاثر کرتا ہے- لہٰذا محاورے کي طرح روزمرے کے اندر بھي کسي نوعيت کي لفظي تبديلي يا تغير کو روا رکھنا جائز تصور کيا جاتا ہے- اس ضمن ميں غلام رباني رقم طراز ہيں: "روزمرہ ميں اہلِ زبان کي پابندي کي جاتي ہے- اس کے خلاف بولنا فصاحت کے خلاف سمجھا جاتا ہے-"

تحریر: عبداللہ جان عابد


 متعلقہ تحريريں :

اقبال کي اُردو غزلوں ميں رديف کا استعمال کي اہميت (حصّہ دوّم)

اقبال کي اُردو غزلوں ميں رديف کا استعمال کي اہميت

 بانگِ درا (حصہ اول ... 1905 تک)

مياں محمد بخش، صوفي شاعر

ستارہ