• صارفین کی تعداد :
  • 3402
  • 8/28/2011
  • تاريخ :

وٹامن اے بچوں کي اموات روکنے ميں مددگار

وٹامن اے
ايک حاليہ بين الاقوامي تحقيق ميں دعويٰ کيا گيا ہے کہ کم اور درمياني آمدني والے ممالک ميں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو وٹامن اے سپليمنٹ دينے سے ان ميں اندھے پن، بيماريوں اور اموات کي شرح کو قابل ذکر حد تک کم کيا جا سکتا ہے-

يہ تحقيق يونيورسٹي آف آکسفورڈ اور آغا خان يورنيورسٹي پاکستان نے کي ہے، جس ميں کہا گيا ہے کہ کم اور درمياني آمدني والے ممالک ميں بچوں کو وٹامن اے سپليمنٹ دينے سے ان ميں اموات کي شرح پچيس فيصد کم ہو جاتي ہے-

برٹش ميڈيکل جرنل ميں شائع ہونے والي تحقيق کے مطابق يہ سپليمنٹ خسرہ اور ہيضے کي شرح ميں بھي کمي کا باعث بنتا ہے-

تحقيق کاروں نے تجويز دي ہے کہ ايسے تمام بچوں کو يہ سپليمنٹ دينا چاہيے جن کي خوراک ميں وٹامن اے کي مناسب مقدار شامل نہيں- اس سپليمنٹ کے فوائد اتنے واضح ہيں کہ ان کي موجودگي ميں وٹامن اے اور نقلي دوا کے تقابلي جائزے کي ضرورت باقي نہيں رہتي-

اس مطالعے کے نتائج 43 آزمائشي تجربات پر مبني ہيں جن ميں کچھ بچوں کو وٹامن اے اور ديگر کو نقلي دوا يا کوئي بھي دوا نہيں دي گئي- تحقيقاتي نمونے ميں چھ ماہ سے پانچ سال کي عمر کے دو لاکھ صحت مند بچے شامل تھے جنہيں تقريباً ايک سال تک زير مطالعہ رکھا گيا-

يہ تحقيق انيس ممالک ميں کئي گئي اور اکثر ممالک کا تعلق ايشيا سے تھا- اس تحقيق کے سربراہ ڈاکٹر ايوان ميو ولسن ہيں جو يونيورسٹي آف اوکسفرڈ کے ڈيپارٹمنٹ آف سوشل پاليسي اينڈ انٹروينشن سے منسلک ہيں-

ڈاکٹر ايوان ميو ولسن کا کہنا ہے کہ تحقيق سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب تک وٹامن اے کے ديگر ذرائع موجود نہ ہوں، متاثرہ بچوں کو وٹامن اے کے سپليمنٹ دينے چاہييں-’وٹامن اے کي کمي کا شکار تمام بچوں کو يہ سپليمنٹ دينے سے ہم سالانہ چھ لاکھ بچوں کو موت سے بچا سکتے ہيں اور جراثيمي بيماريوں کے بے شمار واقعات کي روک تھام کر سکتے ہيں- وٹامن اے سپليمنٹس کي تياري اور ان کا استعمال بہت موثر اور سستا ہے-‘

ہميں اس بات کي يقين دہاني کرني ہو گي کہ اس کے فوائد ديرپا ہوں اور يہ پروگرام ديگر قومي پروگراموں کي نگراني ميں ہو-

پروفيسر ذو الفقار بھٹہ : آغا خان يونيورسٹي پاکستان کے ڈويژن آف ويمن اينڈ چائلڈ ہيلتھ کے چئيرمين پروفيسر ذو الفقار بھٹہ اس مطالعے کے سينئراعزازي مصنف ہيں- ان کا کہنا ہے کہ يہ تحقيق اس بات کي اہميت کو ظاہر کرتي ہے کہ وٹامن اے سپليمنٹ پروگرام ميں مؤثر اضافے کي ضرورت ہے-

’ہميں اس بات کي يقين دہاني کرني ہو گي کہ اس کے فوائد ديرپا ہوں اور يہ پروگرام ديگر قومي پروگراموں کي نگراني ميں ہو-‘

تحقيق ميں بتايا گيا ہے کہ بصري اور مدافعتي نظاموں کو فعال اور معمول کے مطابق رکھنے کے ليے وٹامن اے ضروري ہے- يہ ايک ايسا غذائي جزو ہے جو جسم خود پيدا نہيں کرتا لہٰذا غذا کے ذريعے اس کا حصول لازمي ہے-

ماہرين کے مطابق وٹامن اے کي کمي کئي اقسام کے انفيکشنز کا باعث بنتي ہے جن ميں ہيضہ، خسرہ، مليريا اور نظام تنفس کے انفيکشنز شامل ہيں- يہ بيمارياں بچوں ميں اموات کا اہم سبب ہيں- عالمي ادارہ صحت کے ايک حاليہ تخمينے کے مطابق پانچ سال سے کم عمر کے ايک ارب نوے لاکھ بچے وٹامن اے کي کمي کا شکار ہيں-


متعلقہ تحريريں :

ايم چِپ: خون کا تجزيہ کہيں بھي کبھي بھي

افطار ميں خوراک کے استعمال ميں احتياط ضروري

صبح سگريٹ نوشي سے کينسر کا خطرہ زيادہ

دل کے مريضوں کے ليے قديم چيني ورزش

فالج کا مرض ’سائلنٹ اسٹروکس