• صارفین کی تعداد :
  • 2488
  • 8/27/2011
  • تاريخ :

اسلام ميں تعليم نسوان پر تاکيد (حصّہ دوّم)

حجاب والی خاتون

اسلامي شريعت کا ايک بنيادي قائدہ ہے کہ جب بھي کوئي حکم نازل ہوتا ہے تو اس کے ليے صيغہ مذکر استعمال ہوتا ہے ليکن اس ميں صنف نازک بھي شامل ہوتي ہے- اگر اس حکم و اصول کو ترک کر دياجائے تو نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ جيسے بنيادي ارکان سميت بے شمار احکام شريعت کي پابندي خواتين پر نہيں رہتي- چونکہ ان احکام کے بيان کے وقت عموماً مذکر کا صيغہ ہي استعمال کيا گيا ہے، لہٰذا يہ بات واضح ہو جاتي ہے کہ جن آيات و احاديث کے ذريعے فرضيت و اہميت علم مردوں کے ليے ثابت ہے، انہي کے ذريعے يہ حکم خواتين کے ليے بھي من و عن ثابت شدہ ہے-

فرضيت علم کا براہ راست بيان بے شمار احاديث ميں بھي آيا ہے- حضور نبي اکرم نے ارشاد فرمايا: ’’حصول علم تمام مسلمانوں پر (بلا تفريق مرد و زن) فرض ہے-‘‘ (سنن ابن ماجہ، المقدمہ، 1:81، رقم: 224)

اسي طرح ايک دوسرے موقع پرحضور نبي اکرم  نے فرمايا: ’’علم حاصل کرو خواہ تمہيں چين ہي کيوں نہ جانا پڑے، بے شک علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے-‘‘ (ابن عبد البر، جامع بيان العلم، 1: 24، رقم: 15) ايک اور مقام پر آپ ا فرمايا: ’’جو شخص طلب علم کے لئے کسي راستہ پر چلا، تعاليٰ اس کے ليے جنت کا راستہ آسان کر ديتا ہے-‘‘ (صحيح مسلم، کتاب الذکر، 4: 2074، رقم: 2699)

لہٰذا جب يہ بات واضح ہوگئي کہ قرآن سے حصول علم خواتين کے ليے بھي اسي طرح فرض ہے جيسے مردوں کے ليے تو اب اسوۂ رسول ا اور سيرت نبوي ا کي روشني ميں جائزہ ليں تو معلوم ہو گا کہ حضور ا نے خود خواتين کي تعليم و تربيت کا خصوصي اہتمام فرمايا:

’’حضرت ابو سعيد خدري ص سے روايت ہے کہ عورتيں حضور نبي اکرم ا کي بارگاہ ميں عرض گزار ہوئيں: آپ کي جانب مرد ہم سے آگے نکل گئے، لہٰذا ہمارے استفادہ کے ليے بھي ايک دن مقرر فرما ديجيے- آپ ا نے ان کے لئے ايک دن مقرر فرما ديا- اس دن آپ ا ان سے ملتے انہيں نصيحت فرماتے اور انہيں الله تعاليٰ کے احکام بتاتے-‘‘ (صحيح بخاري، کتاب العلم، 1: 50، رقم: 101)

ام المومنين سيّدہ عائشہ صديقہ عالمہ، محدثہ اور فقيہہ تھيں- آپ سے کتب احاديث ميں مروي احاديث ملتي ہيں- مردوں ميں صرف حضرت ابو ہريرہ، حضرت عبد الله ابن عمر اور حضرت انس بن مالک ہي تعداد ميں آپ سے زيادہ احاديث روايت کرنے والوں ميں سے ہيں- اس سے يہ امر واضح ہوتا ہے کہ ضروري تقاضے پورے کرنے کي صورت ميں عورتيں نہ صرف عورتوں بلکہ مردوں کو بھي پڑھا سکتي ہيں-

’’حضرت عائشہ بنت طلحہ روايت کرتي ہيں: ميں عائشہ کے پاس رہتي تھيں، ميرے پاس ہر شہر سے لوگ آتے (جو بغرض تعليم سوالات کرتے تھے) اور بوڑھے لوگ بھي آتے تھے کيونکہ انہيں معلوم تھا کہ ميں ان کي خادمہ ہوں- اور جو طالب علم نوجوان تھے وہ ميرے ساتھ بہنوں جيسا برتاؤ کرتے تھے اور (ميرے واسطہ سے عائشہ کي خدمت ميں) ہدايا پيش کرتے تھے- بہت سے مختلف شہروں سے مجھے بھي خط لکھتے تھے (تاکہ ميں عائشہ سے معلوم کر کے جواب لکھ دوں)- ميں عرض کرتي تھي: اے خالہ! فلاں کا خط آيا ہے اور اس کا ہديہ ہے تو اس پر حضرت عائشہ فرماتي تھيں کہ اے بيٹا! اس کو جواب دے دو اور اس کے ہديہ کا بدلہ بھي دے دو- اگر تمہارے پاس دينے کو کچھ نہيں تو مجھے بتا دينا ميں دے دوں گي- چنانچہ وہ دے ديا کرتي تھيں (اور ميں خط کے ساتھ بھيج ديتي تھي)-‘‘ (بخاري، الادب المفرد، 1:382، رقم: 1118)

ايک مغالطہ يہ بھي پايا جاتا ہے کہ عورتوں اور بچيوں کا مردوں سے پڑھنا ناجائز ہے- بہتر يہي ہے کہ بچيوں کے ليے خواتين اساتذہ کاہي انتظام ہو مگر ايسا نظام نہ ہونے کي صورت ميں مردوں کا باپردہ ماحول ميں عورتوں کو پڑھانا بھي از روئے شرع منع نہيں ہے- چونکہ حضور (ص) خواتين کي تعليم و تربيت کا اہتمام فرماتے تھے، مسجد نبوي ميں ہفتے کا ايک دن خواتين کے لئے مخصوص کرنے کا ذکر بھي ملتاہے- (صحيح بخاري، کتاب العلم، 1: 50، رقم: 101)

بعض لوگ احکام پردہ کا بہانہ بنا کر عورتوں اور بچيوں کي تعليم کے مخالفت کرتے ہيں- ان کا کہنا ہے کہ چونکہ گھر سے باہر ہر طرف مرد ہوتے ہيں، لہٰذا پردہ قائم نہيں رہتا- سب سے پہلے تو يہ عذر انتہائي مضحکہ خيز ہے- اگر بچياں تعليم کے ليے باہر نہيں نکل سکتيں تو ان کا کسي مقصد کے ليے بھي باہر نکلنا جائز نہ ہوا- ايسے لوگوں کي نظر ميں خواتين کا گھروں سے باہر نکلنا ہي ممنوع ہے- حالاں کہ اسلامي شريعت و تاريخ ميں اس کے اثبات ميں کوئي حکم نہيں ملتا- خود آيت پردہ ہي اس بات پر دليل ہے کہ اسلامي پردہ گھر سے باہر نکلنے کے ليے ہي ہے- گھروں ميں بيٹھے رہنے سے احکام پردہ لاگو نہيں ہوتے کيونکہ پردہ غير محرموں سے ہوتاہے اور گھر ميں تو عموماً محرم ہي ہوتے ہيں-

تحرير: ڈاکٹر رحيق عباسي


متعلقہ تحريريں :

اسلام ميں عورت کا حق وراثت ( حصّہ سوّم )

اسلام ميں عورت کا حق وراثت ( حصّہ دوّم )

شريک حيات کے حقوق ( حصّہ دوّم )

خواتين کا اسلامي تشخص اور اُس کے تقاضے

خواتين پر مغرب کا ظلم اور خيانت