• صارفین کی تعداد :
  • 833
  • 8/21/2011
  • تاريخ :

اقبال کي اُردو غزلوں ميں رديف کا استعمال کي اہميت (حصّہ سوّم)

علامہ اقبال

بانگ درا ميں شامل کلام کا يہ حصہ اقبال کے قيام يورپ کے زمانے 1905- 1908 تک کا ہے اس دوران ميں اقبال کي توجہ زيادہ تر نظموں کي طرف رہي- يہ سات غزليں اس قيام کي يادگار ہيں ان کے فکري و فني اوصاف سے قطع نظر رديفوں کے حوالے سے اس حصہ غزل ميں ايک پانچ لفظي رديف قابل توجہ ہے- پورا مطلع يوں ہے

زندگي انساں کي اک دم کے سوا کچھ بھي نہيں

دم ہوا کي موج ہے، رم  کے سوا کچھ بھي نہيں

* اس طويل رديف کا قبال نے غم، محرم اور زمزم کے قوافي کے ساتھ خوبصورتي سے نبھايا ہے "بانگِ درا" کے تيسرے حصہ ميں غزليات کي تعداد 8 ہے جس ميں رديفوں کا نقشہ يوں ہے-

يہ سرود قُمري و بلبل فريب گوش ہے

*

رديف: ہے

نالہ ہے بلبلِ شوريدہ ترا خام ابھي

*

رديف: ابھي

پردہ چہرے سے اُٹھا، انجمن آرائي کر

*

رديف: کر

پھر باد بہار آئي، اقبال غزل خواں ہو

*

رديف: ہو

کبھي اے حقيقتِ منتظر! آ لباسِ مجاز ميں

*

رديف: ميں

جو فغاں دلوں ميں تڑپ رہي تھي، نوائے زير لب رہي

*

رديف: رہي

قلب کو ليکن ذرا آزاد رکھ

*

رديف: رکھ

دو لفظي رديف

قبضے سے امت بے چاري کے ديں بھي گيا، دنيا بھي گئي

*

رديف: بھي گئي

جاری ہے

تحریر: رابعہ سرفراز


 متعلقہ تحريريں :

مياں محمد بخش، صوفي شاعر

ستارہ

پيار کا پہلا شہر (حصّہ ششم) 

منير نيازي

تلفظ اور املا