• صارفین کی تعداد :
  • 2463
  • 8/13/2011
  • تاريخ :

''محمد امين (ص)''

بسم الله الرحمن الرحیم

رسول اعظم (ص) کي امانتداري کا ايسا شہرہ تھا کہ اسلام سے قبل کا لقب ہي ''امين'' پڑ گيا- لوگ اپني گران قيمت اشياء انتہائي آسودہ خاطر کے ساتھ حضور (ص)  کے سپرد کرديتے تھے اور مکمل يقين رکھتے تھے کہ وہ امانت ہر صورت ميں انہيں صحيح و سالم واپس ہوجائے گي- يہاں تک کہ جب آپ (ص) نے لوگوں کو اسلام کي طرف دعوت دينا شروع کي اور آپ (ص) کي نسبت قريش کي دشمني اپنے اوج پر پہنچ گئي تب بھي وہي دشمن جب اپني کوئي قيمتي چيز محفوظ رکھنا چاہتے تھے تو درِ رسول اکرم (ص) پر ہي دستک ديتے تھے- يہي وجہ ہے کہ جب حضور (ص) نے مدينہ کي طرف ہجرت کرنا چاہي تو حضرت امير المؤمنين علي بن ابي طالب عليہما السلام کو اس بات پر مامور کيا کہ وہ مکہ ميں رہ کر تمام امانتوں کو ان کے مالکوں کے سپرد کرديں- اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس وقت بھي آپ کفار قريش کي امانتوں کے امين تھے-

ولي امر مسلمين حضرت آيت اللہ سيد علي خامنہ اي کے خطاب سے اقتباس

(خطبات نماز جمعہ، تہران، 1379-2-23)


متعلقہ تحريريں:

 دلوں پر حکمراني

 گريہ شب

نظم و انتظام، حساب و کتاب اور بردباري

 ميري عبا تو مجھے واپس دے دو

 کسي حالت ميں يارب چھين مت رنگ عوامانہ