• صارفین کی تعداد :
  • 2535
  • 8/6/2011
  • تاريخ :

امام رضا (ع) کي شخصيت علمي

امام رضا (ع)

امام رضا (ع) کے عہد کو ہم علمي عزوات (Academic crusades) آپ جب ظاہري امامت پر فائز ہوئے تو اسلام پر علوم باطلہ کي يلغار تھي اور ہر جانب سے اسلام کي حقانيت اور صداقت کو علمي حيثيت سے زير کرنے کي کوشش جاري تھي-

امام جعفر صادق (ع) کے بعد امام رضا (ع) کو ترويج علم و دانش کا سب سے زيادہ مواقع ملا- امام موسيٰ کاظم (ع) اپنے اہل خاندان اور فرزندوں کو فرماتے تھے کہ'' تمہارے بھائي علي رضا (ع) عالم آل محمد ہيں'' احاديث ميں ہر 3 سال بعد ايک مجدد اسلام کے نمود و شہود کا نشانہ ملتا ہے علامہ ابن اثير جندي اپني کتاب جامع الاصول ميں لکھتے ہيں کہ حضرت امام رضا (ع) تيسري صدي ہجري ميں مجدد تھے اور حضرت يعقوب کليني چوتھي صدي ہجري ميں مجدد تھے- شاہ عبدالعزيزي محدث دہلوي نے ''تحفہ اثنا عشري'' ميں ابن اثير کا قول نقل کيا ہے-

امام علي رضا (ع) اہلبيت کے ان اماموں ميں سے ہيں جنہوں نے عمومي طور پر اپني دانش اور علم اور اپنے شاگردوں کي تعليم و تربيت اور مختلف موقعوں پر کئے جانے والے سوالات اور جوابات ، مباحثات اور علمي مناظروں کے ذريعہ اسلامي فکر کو مالا مال کيا- تاريخ ميں کوئي مثال نہيں ملتي کہ ان ائمہ نے کسي دانشمند سے سبق ليا ہو بلکہ ان کي دانش کا سэشمہ ان کے جد بزرگوار حضرت آنحضرت تھے جن سے انہوں نے ور اثتاً علم حاصل کيا-

عيسيٰ يقطيني کا بيان ہے کہ ميں نے امام کے تحريري مسائل کے جوابات کو اکٹھا کيا تو ان کي تعداد تقريباً 18000 تھي-

مامون رشيد کا يہ دستور تھاکہ مختلف مذاہب کے علما کو دربار ميں امام (ع) کے رو برو بحث کي دعوت ديتا- محد ثيں و مفسرين اور علما جو آپ (ع) کي برابري کا دعويٰ رکھتے تھے وہ بھي ان علمي مباحث ميں آپ کے سامنے ادب سے بيٹھتے تھے- زہري ، ابن قتيبہ، سفيانِ ثوري، عبدالرحمن اور عکرمہ نے آپ سے فيض حاصل کيا ان مناظروں کے پيچھے مامون کے سياسي مقاصد بھي تھے- علمي مباحث سے طبعادلچسپي کے باوجود مامون يہ نہيں چاہتا تھا کہ ان مناظروں کے ذريعہ امام کي شخصيت ، علويوں اور انقلابيوں کي توجہ کا مرکز بن جائے بلکہ اس موقع کي تلاش ميں تھا کہ کسي وقت امام (ع) جواب دينے سے عاجز ہو جائيں جو ناممکن تھا بلکہ مامون کي خواہش کے برعکس يہ مناظرات امام (ع) کے علمي شکوہ وشائستگي اور شيعہ عقيدہ کي برتري منوانے کا ذريعہ بن گئے- (جواد معيني)

امام (ع) کے مناظروں ميں ايک قابل Иر مجلس ميں جاثليق، مسيحي پادريوں کا رئيس، راس الجالوت يہودي دانشمند، ہندو دانشور، پارسي، مجوسي، بدھ اور ديگر مذاہب کے علما بہ يک ساتھ موجود تھے- امام (ع) نے ہر عالم سے اس کي اپني مقدس کتاب کے حوالوں سے اس کي مروجہ زبان ميں بحث کي- ايک اور مناظرہ خراساني عالم سليمان مروزي کے ساتھ ہوا جس ميں مسئلہ بداء موضوع بحث تھا- علي بن جھم سے مناظرہ ميں عصمت پيغمبران پر بحث ہوئي جس ميں امام (ع) نے حضرت يوسف، ذالنون اور داؤد عليہ السلام کے واقعات سے اپني دلائل کو مستحکم کيا- المختصر ان مناظروں کے ذريعہ امام (ع) کو جيد علما اور فقہا کي موجودگي ميں اپنے علم و فضيلت کے اظہار کا موقع ملا جو ان کي حکمت عملي کا ايک جزو تھا-

محقق: ڈاکٹر مير محمد علي


متعلقہ تحريريں:

امام رضا (ع) کي شخصيت معنوي

حضرت امام علي ابن موسي الرضا عليہ السلام کي شخصيت اور عہد امامت

حضرت علي رضا عليہ السلام

سجدہِ شکر ميں امام رضا عليہ السلام کي دعا

امام رضا (ع) کي شخصيت معنوي