• صارفین کی تعداد :
  • 3045
  • 8/5/2011
  • تاريخ :

تلفظ اور املا

دفتر

تلفّظ : تلفظ کے معني ہيں الفاظ کو حرکات و سکنات کے مطابق زبان سے صحيح ادا کرنا- نئے شعرا کا سب سے بڑا مسئلہ يہ ہے کہ وہ تلفظ پر توجہ نہيں ديتے اور غلط تلفظ سے لفظ کو شعر ميں باندھتے ہيں -ايسے شعرا کي تحريريں کچھ عرصہ بعد ہي دم توڑ دیتي ہيں -لہٰذا مبتدي شعرا کو چاہيے کہ وہ تلفظ پر خصوصاً زور ديں- جتنا زيادہ اساتذہ کے کلام کا مطالعہ کريں گے تلفظ ٹھيک ہوتا جائے گا- تلفظ کي اغلاط کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم چند الفاظ کا تلفظ درج کرتے ہيں،ہم ان الفاظ کا بھي ذ کر کريں گے جنہيں اکثر غلط تلفظ کے ساتھ ادا کيا جاتا ہے-

(1) پہلے دونوں حروف مفتوح اور تيسراحرف ساکن : (مَ رَض)

مثل غرض غلط شرف سکت

(2) پہلا حرف مفتوح باقي دو ساکن : (اَ ص ل)

اصل امن امر صدر فرض

عرض عدل دخل ختم جذب

(3) پہلا حرف مکسورباقي دو ساکن : (عِ ط ر)

عطر ذ کر عشق

(4) پہلا حرف مضموم باقي دو ساکن : (شُ ک ر)

شُکر حسن عذر بغض

(5) پہلا اور تيسراحرف مفتوح باقي تين ساکن : (اَ خ لَ ا ق )

اَخلَاق اخبار اعمال الطاف احوال

(6) پہلا حرف مضموم دوسرا اور تيسرا مفتوح باقي ساکن : (غُ رَ بَ ا)

غربا ادبا عقلا امرا

(7) پہلے دو حرف مضموم باقي ساکن : (جُ لُ وس)

جُلُوس خلوص وصول عيوب حدود

رسوم فنون شکوک

(8) پہلا حرف مکسور دوسرا مفتوح باقي دونوں ساکن : (فِ رَاق ):

فِراق نکات قيام عظام (عظم کي جمع)

(9) پہلا حرف مفتوح تيسرا حرف مضموم باقي ساکن : (مَ ح بُ و ب)

محبوب محسوس موجود

(01) پہلا حرف مکسور تيسرا مفتوح باقي ساکن : (اِ غ لَ ا ت)

اغلاط احساس اثبات احيا ارسال اعلان

(11) پہلا حرف مفتوح تيسرا حرف مکسور باقي ساکن : (تَ ح رِ ي ر)

تحرير تحريک تحقير تہذيب

(21) پہلا اور تيسرا حرف مکسور پانچواں مفتوح باقي ساکن : (اِ س تِ ق بَ ا ل)

استقبال استقلال استبداد استغفار

ان الفاظ کے علاوہ درج ذيل الفاظ کا تلفظ عموماً غلط ادا کيا جاتا ہے-

چہلم ل مضموم ہے

يوسف س مضموم ہے

يونس ن مضموم ہے

يکم ک مضموم ہے

بے وقوف پہلا وائو مضموم ہے

محبت م مفتوح ہے

مسرت م مفتوح ہے

غلط ل مفتوح ہے

شجاعت ش مفتوح ہے

خود کشي ک مفتوح ہے

املا : املا لکھنے سے متعلق ہے يعني کون سا لفظ کيسے اور کس طرح لکھا جائے-لفظ کو اگر صحيح ہجوں کے ساتھ لکھا جائے تو نہ صرف املا درست ہوگا بلکہ اس کا تلفظ بھي صحيح ہوگا -املا اور تلفظ لازم و ملزوم ہيں - ڈاکٹر عبدالستار صديقي اپنے مقالہ "اردو املا " ميں يوں رقم طراز ہيں "ہر زبان کے لئے ضروري ہے کہ اس کے املا کے قواعد منضبط ہوں اور ان قواعد کي بنےاد صحيح اصولوں پر ہو"-اگر تمام امور کا خيال نہ رکھا جائے تو جملہ ہا تو محمل ہوگا یا سرے سے اس لفظ کا کوئي مطلب ہي نہ ہوگا- ہم نے مبتدي شعرا کے لئے چند اہم نکات جمع کئے ہيں تا کہ املا کے بارے ميں جانکاري ہو-

* اردو الفاظ کے آخر ميں ہائے مختفي کا استعمال بہت کم ہے يہ فارسي زبان کے لئے خاص ہے -اکثر اردو اور ہندي الفاظ کے آخر ميں بجائے الف ہائے مختفي استعمال کي جاتي ہے جو کہ غلط ہے-

اکا: بقول ڈاکٹر عبدالستارصديقي اکا کو يکہ سے کوئي علاقہ نہيں ہے يکہ کو اکا کے معنوں ميں لکھنا يا بولنا غلط ہے - يہ لفظ گاڑي کے معنوں ميں مستعمل ہے نہ کہ ايک کے- اسي طرح پتہ، پنجرہ، بلبلہ، بنجارہ ، پٹاخہ، تازہ، دھوکہ ، دھماکہ، مہينہ، ناتہ و غيرہ جيسے الفاظ کا املا الف سے لکھنا چاہيے جيسے ناتا ،بلبلا ،پتا وغيرہ-

* اگر صفت مذ کر ہو تو اسے بھي الف سے لکھنا چاہيے-

* وہ الفاظ جو کسي اور زبان سے متعلق ہوں اور اردو ميں مستعمل ہوں توايسے لفاظ کا املا بھي ہائے مختفي کے بجائے الف سے ہي کرنا درست ہوگا مثلاً امريکہ، ڈرامہ ، کيمرہ و غيرہ ان کو امريکا ، ڈراما اور کيمرا لکھنا درست ہے-

* ايسے فارسي الفاظ جن کا املا الف سے ہو انہيں بھي بعض اوقات اردو ميں ہائے مختفي سے لکھا جاتا ہے مثلاً آشکارا ، ناشتا و غيرہ کو آشکارہ اور ناشتہ لکھنا درست نہيں ہے-

* ايسے عربي الفاظ جن کے آخر پر کھڑا زبر آئے انہيں بھي الف کے ساتھ لکھنا چاہيے جيسے تقوا ، دعوا و غيرہ-

* بعض الفاظ کا تلفظ عام بول چال ميں ے سے ہوتا ہے ايسے الفاظ کا املا ے سے ہي کرنا درست ہے مثلاً" ïس بچے نے اس معمے کو حل کر ليا" سے " اس بچہ نے اس معمہ کو حل کر ليا " لکھنا غلط ہے-

* عدد چھَے (6) کو چھ لکھنا اور بولنا درست نہيں-

* گائوں اور پائوں جيسے الفاظ کا املا گانو اور پانو ہے-

* ھمزہ الف کا قائم مقام ہے ايسے عربي الفاظ جن کے آخر ميں الف کے بعد ء  آتا ہو انہيں اردو املا لکھتے وقت بلا ھمزہ لکھنا درست ہے- جيسے اقرا، ضيا، شعرا، و غيرہ-

* ديجيے ، کيجيے اور چاہيے جيسے الفاظ بلا ھمزہ لکھے جاتے ہيں -

* مصدر سے فعل بننے والے الفاظ کے اوپر ھمزہ لکھنا چاہيے مثلاًگانا سے گائے اسے جانور گاے سے کوئي علاقہ نہيں جو کہ بلا ھمزہے-

* ايسے الفاظ جو فاعل یا فواعل کے وزن پر ہوں ان کے نيچے نقطے نہيں ڈالے جاتے- مثلاً گھائل، مائل ، فوائد و غيرہ-

* فارسي ميں نون کا اعلان بہت کم ہے لہٰذا تراکيب ميں ايسے الفاظ جن کے آخر پر نون ہو انہيں نون غنہ سے لکھنا فصيح ہے- مثلاًرگِ جاں وغيرہ-

اب ہم چند ايسے الفاظ کا ذ کر کريں گے جن کا املا عموماً غلط ہوتا ہے-

 

غلط   درست غلط درست
اژدہام ازدحام حلوه حاوا
طریاق تریاق خوردونوش خورونوش
معہ مع عجوبہ اعجوبہ
مصرعہ مصرع قوس و قزح قوسِ قزح
آسامی اسامی ناطہ ناتا
انکساری انکسار  طلبائ طلبا
عاجزی عجز پڑتال پرتال
برائے کرم براه کرم شائد شاید
 بھگدڑ بھگدر  بگولہ بگولا
درستگي  درستي نقص امن نقض امن
پرواہ  پروا  ذات  زات
پسينہ  پسينا عليحدہ علاحدہ
تمغہ تمغا  عليحدگي  علا حدگي
جمائي  جماہي کيونکہ  کيوں کہ
بارات برات بوقت بہ وقت

                               

تحریر: عقيل ملک


 متعلقہ تحريريں :

پيار کا پہلا شہر (حصّہ سوّم)

مولانا محمد علي جوہر

پيار کا پہلا شہر (حصّہ دوّم)

صوبہ سرحد ميں بچوں کا ادب (چھٹا حصّہ)

پيار کا پہلا شہر