• صارفین کی تعداد :
  • 2193
  • 7/26/2011
  • تاريخ :

قيام پاکستان کے کا خواب اور حقيقت

قیام پاکستان

برصغير  پر مسلمانوں نے ايک لمبے عرصے تک حکومت کي مگر جب ان کو زوال آيا تو  ہندو اور انگريز نے انہيں اس طريقے سے کچلنا شروع کرديا کہ ان کو اپنا وجود اور مЪبي تشخص برقرار رکھنا بھي مشکل نظر آ رہا تھا - ايسے حالات ميں مسلمانوں کے ليڈروں نے اپنے قومي تشخص کو بچانے کے ليۓ کوششيں شروع کيں اور سب سے پہلے حضرت علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ عليہ  نے  متحدہ ہندوستان ميں  مسلمانوں کے ليۓ ايک  الگ وطن کا خواب ديکھا - اس خواب کي تعبير کے ليۓ مسلمانوں نے انتھک محنت  اور کوشش کي -

قيام پاکستان کے مقاصد کو حاصل کرنے کے ليۓ باني پاکستان  قائد اعظم محمد علي جناح نے بہت جدو جہد کي - ان سے بڑھ کر  ان مقاصد سے کون آگاہ ہو سکتا ہے؟ آيئے سب سے پہلے ديکھتے ہيں کہ قائد اعظم کس قسم کا پاکستان چاہتے تھے اور کن مقاصد کے لئے الگ وطن کا مطالبہ کر رہے تھے؟- پاکستان کو بنانے کا اصل مقصد يہ تھا کہ  ہندوستان کے مسلمانوں کو  ايک ايسا خطہ حاصل ہو جاۓ جہاں  وہ اللہ اور اس کے رسول صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے  بتاۓ ہوۓ اصولوں کے مطابق زندگي گزار سکيں 

 قائد اعظم نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کي حيثيت سے اکتوبر 1947ء ميں حلف اٹھايا- اس موقع پر انہوں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے فرمايا !

’’پاکستان کا قيام جس کے لئے ہم گذشتہ دس سال سے مسلسل کوشش کر رہے تھے اب خدا کے فضل سے ايک حقيقت بن کر سامنے آ چکا ہے ليکن ہمارے لئے اس آزاد مملکت کا قيام ہي مقصود نہ تھا بلکہ يہ ايک عظيم مقصد کے حصول کا ذريعہ تھا- ہمارا مقصد يہ تھا کہ ہميں ايسي مملکت مل جائے جس ميں ہم آزاد انسانوں کي طرح رہ سکيں اور جس ميں ہم اپني اسلامي روش اور ثقافت کے مطابق نشو و نما پا سکيں اور اسلام کے عدل عمراني کے اصول پر آزادانہ طور پر عمل کر سکيں‘‘-

(اکتوبر 1947ء، پہلے گورنر جنرل کي حيثيت سے کراچي ميں خطاب)

اگر ہم قائد کے اس فرمان پر ذرا غور سے نظر ڈاليں تو ہميں پتہ چلتا ہے کہ وہ ايک ايسا پاکستان چاہتے تھے جو آزاد ہو ، جہاں اسلامي اقدار کا تحفظ اور ترويج ممکن ہو ، جس ميں معاشي اور معاشرتي اصولوں کو اسلام کے مطابق ڈھالا جا سکے ،جہاں پر عدل و انصاف کا بول بالا ہو -

مگر  جب ہم آج کے پاکستان پر نظر ڈالتے ہيں تو ہمارے دل دکھ جاتے ہيں - آنکھوں سے آنسو  نکل آتے ہيں کہ قيام پاکستان  کے  خواب کو حقيقت کا رنگ دينے ميں ہم سے کتني کوتاہياں ہوئي ہيں -

" خواب تھا جو کچھ کہ ديکھا جو سنا افسانہ تھا "

تحرير : سيد اسداللہ ارسلان


متعلقہ تحريريں:

پاکستان قدرت کا ايک انمول عطيہ

يوم آزادي کے روز

بابري مسجد کا فيصلہ

بابري مسجد بنام رام جنم بھومي

بابري مسجد اراضي ملکيت  کے حقائق اور ہماري ذمہ دارياں