• صارفین کی تعداد :
  • 2252
  • 6/19/2011
  • تاريخ :

حضرت امام علي ابن موسي الرضا عليہ السلام کي شخصيت اور عہد امامت

امام علي ابن موسي? الرضا عليہ السلام

اعلان امامت :

شيعہ عقيدہ کے بموجب امامت ايک وہبي وصف ہے يعني اس کا تعين خود  تعالي کرتا ہے اور ايک امام (ع) آنے والے کي نشان دہي کرتا ہے۔ اس عمل کو نص کہتے ہيں يعني منشائے الہي کا اظہار، امام موسي کاظم (ع) نے اپني زندگي ميں ہي اہلبيت کي ممتاز شخصيتوں کے سامنے اپنے فرزند علي کي جانشيني کا اعلان فرمايا تھا ( حسن امداد ترجمہ بحارالانوار5)۔ 183ھ ميں اپنے والد کي شہادت پر امام رضا (ع) نے اپني امامت کا اعلان کيا۔  آپ (ع) کے اصحاب کو اس دور کے حالات اور بالخصوص امام موسي کاظم (ع) کي شہادت کے واقعات کے بعد يہ ڈر تھا کہ کہيں ہارون آپ (ع) کو گزند نہ پہونچائے۔  آپ نے فرمايا کہ پيغمبر اسلام کا قول ہے کہ"" اگر ابو جہل ميرا ايک بال بھي بيکا کر سکے تو گواہ رہنا ميں پيغمبر نہيں ہوں۔ "" اس طرح ""اگر ہارون مجھے نقصان پہونچا سکے تو ميں امام (ع) نہيں ہوں۔""( سيد محمد صادق عارف )

امام علي رضا (ع) نے اپنے 55 سالہ دور زندگي ميں چھ خلفا بني عباس يعني، منصور، مہدي، ہادي، ہارون، امين اور مامون کا دور حکومت ديکھا، آپ (ع) کي امامت کے ابتدائي دس سال کے دوران ہارون رشيد کي خلافت تھي اس دور ان بغداد ميں ہارون کے ظلم وستم کا بازار گرم تھا، ہارون کا 193ھ ( م 809ء) ميں انتقال ہوا اس کے بعد 10 سال ہارون کے بيٹوں امين اور مامون کا دور خلافت تھا۔

امام کا ابتدائي دور ہارون کے زوال کے آثار:

ہارون رشيد کي خلافت کے آخري ايام انتہائي کشمکش اور اندروني سازشوں کي دفاع ميں گزرے۔ عوام اس کے ظلم و ستم سے بيزار اور باالخصوص دوستداران اہلبيت امام موسي کاظم (ع) کي شہادت کے بعد حکومت سے بدظن تھے۔ اس کوشش ميں کہ عوام کو خوش رکھا جائے اور ان کے اعتماد حاصل کرنے کي خاطر ہارون کبھي مولائے کائنات (ع) کي فضيلت اور برتري کي باتيں کرتا اور بعد پيغمبر خلافت پر ان کے حق کو ثابت کرنے کي کوشش کرتا، معاويہ پر لعنت کو اس نے رسمي شکل ديدي تھي اور فدک کو علويوں کو واپس کرنے کي کوشش بھي کي۔ ليکن ان اقدامات سے يہ نہ سمجھا جائے کہ امام موسي کاظم (ع) کي شہادت کے بعد اس کا رويہ بدل گيا تھا عيسي جلودي کے ذريعہ سادات مدينہ کي اور اہلبيت کے مال و اسباب کي لوٹ مار کے واقعات اس کے شاہد ہيں ( صادق عارف ) ايک اہم عنصر جو ہارون کي پريشاني کا باعث تھا وہ اہل خراسان کا رويہ تھا۔  اس کا پس منظر يہ ہے کہ جب بني اميہ کے مظالم اپني انتہاء کو پہونچ گئے تو ابو مسلم خراساني نے ""دعوت رضائے آلِ محمد (ع) "" کے نام سے ايک تحريک شروع کي جس نے بالآخر بني ہاشم کے طرفداروں کي جدوجہد کے نتيجہ ميں بني اميہ کي حکومت کو درہم و برہم کرديا۔ مگر جب عنانِ حکومت بني عباس کے ہاتھ ميں آنے کے بعد بھي اہل خراسان کو مايوسي رہي اور ""حق بحقدار"" نہيں ملا تو انہوں نے حکومت بغداد کو چين سے نہيں بيٹھنے ديا۔ ان حالات کے نتيجہ ميں ہارون نے محسوس کيا کہ بغداد ميں بيٹھ کر خراسان کا انتظام نہيں چلا يا جاسکتا( علامہ ابن حسن جارچوي)۔

بالآخر ہارون رشيد نے سلطنت بني عباس کے انتظام اپنے تينوں بيٹوں امين، مامون اور قاسم ميں تقسيم کرديا۔ امين کو جس کي ماں زبيدہ جو عربي نسل تھي منصور دوانيقي کے قبيلہ سے تھي اور مامون عيسي بن جعفر سياسي اہميت رکھتا تھا اس نے عراق اور شام کا علاقہ سپرد کرديا جس کا دار الخلافہ بغداد تھا? اس طرح سے وہ عباسيوں پر قابو پانا چاہتا تھا۔ مامون کو جس کي ماں عجمي کنيز تھي ہمدان سے آگے ايران کے تمام علاقوں کا انتظام سپرد کرديا تاکہ عجميوں کو زير قابو رکھ سکے اس کا صدر مقام مرو ( خراسان) تھا۔ باقي اطراف کے علاقے قاسم کے تسلط ميں ديئے گئے۔

اس تقسيم کے نتيجہ ميں بھائيوں کے درميان يہ بھي معاہدہ ہوا تھا کہ امين کے بعد خلافت مامون کو مليگي ۔ ليکن بعد کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ مملکت کي اس انتظامي تقسيم نے امين اور مامون کے درميان پہلے سے موجود نسلي تعصبات کو مزيد ہوا دي۔ ہارون رشيد کے انتقال ( 193ھ م 809 ء) کے بعد دونوں بھائيوں ميں تعلقات مزيد کشيدہ ہو گئے? امين نے تقسيم کے معاہدہ کي خلاف ورزي کرتے ہوئے اپنے بيٹے موسي کي بيعت کا حکم جاري کيا۔ حالات ميں مزيد سنگيني اس وقت پيدا ہوگئي جب محمد ابن ابراہيم طباطبا نے جو علويوں کي جاني شخصيت تھي بھائيوں ميں اس محاذ آرائي کے دوران کوفہ سے يمن تک قبضہ جماليا اور بغداد ميں جہاں بني عباس کا زور تھا علويوں کي شورش کا بھي خطرہ پيدا ہوگيا تھا۔ چار سال کي معرکہ آرائي کے بعد امين کو شکست ہوئي اور وہ 198ھ ميں قتل کرديا گيا اور مامون سلطنت بني عباس کا خليفہ بن گيا۔ ان تمام واقعات کے دوران امام رضا (ع) مدينہ ميں مقيم رہے اور ہدايت ورشد کے فرائض انجام ديتے رہے۔ ان کے اس طرز عمل پر حکومت کي جانب سے کوئي تعرض نہيں تھا کيونکہ اس دوران حکومت اپنے اندروني خلفشار سے نبرد آزما تھي۔

محقق: ڈاکٹر مير محمد علي


متعلقہ تحريريں:

واجب نمازوں کے بعد پيغمبر پر سلام کے متعلق امام رضا عليہ السلام کي دعا

حضرت امام رضا عليہ السلام کي زندگي کے اہم واقعت

 حضرت امام علي رضا عليہ السلام  (ع) کي  نصيحتيں

حضرت امام رضا عليہ السلام کے چند حسن اخلاق

حضرت امام رضا(ع) کا مجدد مذہب اماميہ ہونا