• صارفین کی تعداد :
  • 4233
  • 6/19/2011
  • تاريخ :

حج کا نعرہ

بسم الله الرحمن الرحيم

حج کا نعرہ

قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ (ص): اٴَتَانِي جَبْرَئِیلُ(ع) فَقَالَ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَاٴْ مُرُکَ اَنْ تَاٴْمُرَ اٴَصْحَابَکَ اٴَنْ یَرْفَعُوا اٴَصْوَاتَھُمْ بِالتَّلْبِیَةِ فَإِنَّھَا شِعَارُ الْحَجِّ۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”جبرئیل میرے پاس آئے اور کھا کہ خدا وند عالم آپ کو حکم دیتا ھے کہ اپنے ساتھیوں اوراصحاب کو حکم دیں کہ بلند آواز سے لبیک کھیں کیونکہ یہ حج کا نعرہ ھے “۔

معرفت کے ساتھ واردهونا

قَالَ الْبَاقِرُ(ع): مَنْ دَخَلَ ھَذَا الْبَیْتَ عَارِفاً بِجَمیع ما اٴَوْجَبَہُ اللّٰہ عَلَیْہِ کٰانَ اٴَمِناً فِي الآخِرَةِ مِنَ الْعَذَابِ الدّٰائِمِ۔

امام محمد باقر (ع) فرماتے ھیں :

”جو شخص اس گھر میں اس عرفان کے ساتھ داخلهو کہ جو کچھ خداوند عالم نے اس پر واجب کیا ھے اس سے آگاہ رھے تو قیامت میں دائمی عذاب سے محفوظ رھے گا“۔

خدا کے غضب سے امان

عبد اللہ بن سنان کھتے ھیں کہ میں نے امام جعفر صادق ں سے پوچھا :”کہ خدا وند عالم کا ارشاد ”ومن دخلہ کان آمناً“

”یعنی جو شخص اس میں داخلهو وہ امان میں ھے اس سے مراد گھر ھے یا حرم ؟

قَالَ:مَنْ دَخَلَ الْحَرَمَ مِنَ النَّاسِ مُسْتَجِیراً بِہِ فَھُوَ آمِنٌ مِنْ سَخَطِ اللّٰہِ ۔۔۔ ۔

”امام (ع) نے فرمایا: جو شخص بھی حرم میں داخلهو اور وھاں پناہ حاصل کرے وہ خدا کے غضب سے امان میں رھے گا “۔

مکہ خدا و رسول کا حرم

عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰہِ (ع)قَالَ: مَکَّةُ حَرَمُ اللّٰہِ وَحَرَمُ رَسُولِہِ وَحَرَمَ اٴَمِیرِ الْمُوٴْمِنِینَ (ع)،الصَّلاٰةُ فِیھَابِمِائَةِ اٴَلْفِ صَلاٰةٍ، وَالدِّرْھَمُ فِیھَ ابِمِائَةِ اٴَلْفِ دِرْھَم،وَالْمَدِینَةُ حَرَمُ اللّٰہِ وَحَرَمُ رَسُولِہِ وَحَرَمُ اٴَمِیرِ الْمُوٴْمِنِینَ۔ صَلَوَاتُ اللّٰہِ عَلَیْھِمَا۔الصَّلاٰةُ فِیھَا بِعَشَرَةِ آلاٰف صَلاٰةٍ وَ الدِّرْھَمُ فِیھَا بِعَشَرَةِ آلاٰفِ دِرْھَمٍ۔

امام جعفر صادق(ع) فرماتے ھیں :

”مکہ خدا وندعالم ،اس کے رسول(ص) (پیغمبر اکرم (ص) اور امیر المومنین کا حرم ھے اس میں ایک رکعت نماز ادا کرنا ایک لاکھ رکعت کے برابر ھے۔ ایک درھم انفاق کرنا ایک لاکھ درھم خیرات کرنے کے برابر ھے۔ مدینہ (بھی)اللہ ،اس کے رسول اور امیر المومنین علی ابن ابی طالب (ع) کا حرم ھے اس میں پڑھی جانے والی نماز دس ہزار نماز کے برابر اور خیرات کیا جانے والا ایک درھم دس ہزار درھم کے برابر ھے “۔

مسجد الحرام میں داخل هونے کے آدا ب

عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰہِ (ع)قَالَ: إِذَا دَخَلْتَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ فَادْخُلْہُ حَافِیاً عَلَی السَّکِینَة ِوَالوَقَارِ وَالْخُشُوعِ۔۔۔ ۔

امام جعفر صادق (ع)فرماتے ھیں : ”جب تم مسجد الحرام میں داخلهوتو پابرہنہ اور سکون ووقار نیز خوف الٰھی کے ساتھ داخلهو “۔

جنت کے محل

قَالَ اٴَمِیرِ الْمُوٴْمِنِینَ (ع): اٴَرْبَعَةٌ مِنْ قُصُورِ الْجَنّةِ فِي الدُّنْیَا:الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ،وَمَسْجِدُ الرَّسُولِ (ص)، وَ مَسْجِدُ بَیْتِ الْمَقْدِسِ، وَمَسْجِدُ الْکُوفَةِ؛

حضرت علی ابن ابی طالب (ع)فرماتے ھیں :

”چار جگھیں دنیا میں جنت کے محل ھیں :

۱۔مسجد الحرام ، ۲۔مسجد النبی(ص) ، ۳۔مسجد الاقصیٰ، ۴۔مسجد کوفہ ،

حرمین میں نماز

عَنْ إِبْرَاھِیمَ بْنِ شَیْبَةَقَالَ: کَتَبْتُ إِلَی اٴَبِي جَعْفَرٍ(ع) اٴَسْاٴَلُہُ عَنْ إِتْمَامِ الصَّلاٰةِ فِي الْحَرَمَیْنِ،فَکَتَبَ إِلَیَّ:کَانَ رَسُولُ اللّٰہ یُحِبُّ إِکْثَارَالصَّلاٰةِ فِي الْحَرَمَیْنِ فَاٴَکْثِرْفِیھِمَا وَاٴَتِم َّ۔

ابراھیم بن شیبہ کھتے ھیں کہ:

میں نے امام محمد باقر(ع) کو خط لکھا اور اس میں مکہ اور مدینہ میں پوری نماز اداکرنے کے سلسلہ میں دریافت کیا امام (ع) نے جواب میں تحریر فرمایا:

” رسول خدا (ص) ھمیشہ مسجد الحرام اور مسجد النبی میں زیادہ نماز پڑھنا پسند کرتے تھے پس ان دو جگہوں پر نماز یں زیادہ پڑھو اور اپنی نماز بھی پوری ادا کرو“۔

بشکريہ : الحسنين ڈاٹ کام


متعلقہ تحريريں:

حج کي منتخب حديثيں (حصّہ پنجم)

حج کي منتخب حديثيں (حصّہ چهارم)

حج کي منتخب حديثيں (حصّہ سوّم)

حج کي منتخب حديثيں (حصّہ دوّم)

حج کي منتخب حديثيں