• صارفین کی تعداد :
  • 695
  • 6/14/2011
  • تاريخ :

يمن ميں بھي سعودي - امريکي مداخلت

يمن

آل سعود يمن ميں کٹھ پتلي حکومت قائم کرنا چاہتا ہے اور انقلاب کو منحرف کرنے کي فکر ميں ہے وہ سعودي اور امريکي کٹھ پتلي حکومت بنا کر انقلاب کو ہائي جيک کرنا چاہتے ہيں۔

ابنا  کي رپورٹ کے مطابق ايک يمني تجزيہ نگار نے آج العالم سے بات چيت کرتے ہوئے کہا کہ آل سعود امريکيوں کے کہنے پر بحريني انقلاب کا رخ تبديل کرکے اپني اور امريکي مرضي کي حکومت قائم کرنا چاہتا ہے اور وہ انقلاب کو منحرف اور ہائي جيک کرنے کي سازشيں کر رہا ہے۔

خالد المنصوب نے کہا: آل سعود خاندان اپنے باپ عبدالعزيز کي وصيت پر عمل کرنے کے درپے ہيں جس نے ان سے کہا تھا کہ "سعودي حکومت اگر طاقتور رہنا چاہتي ہے تو اسے يمن کو کمزور رکھنا پڑے گا" اسي بنا پر آل سعود خاندان يمن ميں ايک متزلزل حکومت کے قيام کا خواہاں ہے تا کہ وہ آل سعود کي خدمت کرنے پر مجبور ہو اور اپني مرضي سے اپنے ملک کے لئے کچہ بھي کرنے کي اہل نہ ہو۔

انھوں نے اميد ظاہر کي کہ يمن کي انقلابي قوتيں تمام سازشوں کے باوجود ايک قومي حکومت تشکيل ديں گي جو يمن کو ايک صحتمند معاشرے ميں تبديل کرديں۔

انھوں نے کہا کہ انقلابي قوتيں يمن ميں عبوري کونسل کي تشکيل کے خواہاں ہيں چنانچہ آل سعود حکومت اس کونسل کي تشکيل ميں روڑے اٹکا رہي ہے اور يمن پر مسلسل دباؤ ڈال رہي ہے۔

انھوں نے کہا کہ يمني عوام ايسي کونسل کي تشکيل کے خواہاں ہيں جو صدارتي اور پارليماني انتخابات کے لئے ماحول تيار کريں اسي لئے ہم سب کا مطالبہ يہ ہے کہ اپوزيشن کي تمام قوتيں متحد اور ہماہنگ ہوجائيں اور اس کونسل کي تشکيل کے لئے کوشش کريں۔

ادھر يمني سياسي جماعت حزب الحق کے سيکريٹري جنرل "حسن زيد" نے کہا ہے کہ امريکہ يمن کے انقلاب کو ناکام بنانے کے لئے ايڑي چوٹي کا زور لگارہا ہے اور بين الاقوامي سطح پر جمہوريت اور انساني حقوق کے دعوے کرنے کے باوجود يمن ميں آمريت کي بقاء کے لئے سازشيں کر رہا ہے۔

انھوں نے العالم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ :

اگرچہ يمن ميں انقلابيوں کا قتل عام ہوا اور "تعز" شہر کے ميدان الحريہ کو جلاديا گيا ليکن يمني نوجوان اپني مقصد پر ايمان رکھتے ہيں اور ان کا مقصد انقلاب کي کاميابي ہے اسي لئے وہ اپني پرامن تحريک جاري رکھي ہوئے ہيں۔ 

انھوں نے يمن کے عوام کے قتل عام اور يمن ميں انساني حقوق کي خلاف ورزي پر عالمي حلقے خاموش ہيں اور عالمي ضمير ايک نام نہاد اصطلاح ہے اور عالمي ضمير در حقيقت صہيوني رياست کے مفادات کے لئے ہے اس غاصب رياست کي سالميت اور ہتھياروں کے عالمي سوداگروں کے مفادت ميں ہي بولتا ہے لہذا يہ ايک جھوٹا مقولہ ہے۔ ہم نے آج تک ديکھا نہ سنا کہ عالمي سطح پر آمر علي عبداللہ صالح کے جرائم کي مذمت ہوئي ہو بلکہ يمني انقلاب کو خانداني جھگڑے سے تعبير کيا گيا اور قتل عام کو اسي خانداني چپقلش کا نتيجہ قرار ديا گيا۔ انھوں نے عالمي قوتوں کے موقف کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بڑي طاقتيں انساني اور اخلاقي اقدار کے لئے اہميت کے قائل نہيں ہيں اور ان کے لئے صرف ان کے مفادات اہم ہيں.

ادھر يمني عوام نے جمعہ کے روز وسيع ريليوں ميں امريکي اور سعودي سازشوں کي مذمت کي اور انہيں اپنا پيغام پہنچا ديا۔ ايک يمني سياستدان نے يمن ميں جمعہ کے روز ملينوں انسانوں کي احتجاجي ريليوں کي طرف اشارہ کرتے ہوئے انہيں يمن کے عوام ميں مداخلت کرنے والي قوتوں کے لئے يمني عوام کا پيغام قرار ديا۔ انھوں نے کہا يمني عوام نے جمعہ کے روز امريکہ اور خليج فارس تعاون کونسل خاص طور پر آل سعود کو اپني بنيادي رائے سے آگاہ کرديا ہے۔ شباب انقلاب کے رکن عبداللہ المحبار نے جمعہ کے روز العالم سے بات چيت کرتے ہوئے کہا کہ يمن کا انقلاب نوجوان بھي ہے، عوامي بھي ہے، پرامن بھي ہے اور اس کا مقصد آمريت کي مکمل سرنگوني اور اس کے اراکين کي مکمل نابودي ہے چنانچہ يہ انقلاب ان اہداف کے حصول تک جاري رہے گا۔

انھوں نے کہا:

ہم ملک ميں عبوري کونسل کي فوري تشکيل کے مطالبے پر اصرار کرتے ہيں اور يہ شوري ملک ميں قومي وحدت کي حکومت تشکيل دينے ميں مدد کرے گي اور ملک کو نيا آئين دے گي۔

انھوں نے علي عبداللہ صالح کي باقيات سے کہا: ہم پرامن ہيں ليکن انہيں بھي اپنے موقف سے ہٹ کر انقلابي نوجوانوں کا ساتھ دينا چاہئے۔ ياد رہے کہ آل سعود نے ايک سو سالہ معاہدے کے تحت مصر کے تين شمالي صوبوں کو اپني حدود ميں شامل کيا تھا اور اس معاہدے کي مدت 1990 کے عشرے ميں ختم ہوئي ہے جبکہ يمن کي انقلابي قوتيں ان تين صوبوں کي يمن ميں دوبارہ شموليت کي خواہاں ہيں اور يہ مسئلہ بھي آل سعود کي شديد تشويش کا باعث ہے اور پھر يمن سعودي عرب کے جنوب ميں واقع ہے اور بحرين اس کے شمال ميں واقع ہے اور ان دو انقلابات کي کاميابي سعودي عرب ميں موجود انقلاب قوتوں کي حوصلہ افزائي اور آل سعود کي اندروني لحاظ سے متزلزل بادشاہت کي مزيد کمزوري کا سبب بنے گي چنانچہ آل سعود کي حکومت يمن اور بحرين ميں مداخلت کررہي ہے اور ان انقلابات کو ناکام بنانے کے لئے کسي بھي سازش سے ہرگز ہرگز دريغ نہيں کرے گي جبکہ اللہ نے مستضعفين کو کاميابي کا وعدہ ديا ہے۔