• صارفین کی تعداد :
  • 3140
  • 6/11/2011
  • تاريخ :

غزنوي دور حکومت

غزنوي دور حکومت

عباسي خلفاء کي طرح آخري ساماني بادشاه بهي اپني فوجوں ميں ترک سپاہي رکهنے پر مجبور ہوگئے تهے. الپ تگين سامانيوں کا ايک مقتدر جرنيل تها اور ان کي جانب سے حاکم خراسان مقرر ہوا تها. عبدالملک ساماني کے عہد ميں يہ ناراض ہوکر 351  ه ميں غزني آگيا اور وہاں اس نے اپني حکومت قائم کر لي.

اس کي وفات کے کچه عرصہ بعد 366 ه ميں اس کے غلام اور داماد سبک تگين نے اس کي جگہ لي اور فتوحات کرکے سلطنت غزنوي کو تقويت بخشي. 387 ه ميں سبک تگين فوت ہوا تو اس کا بيٹا اسماعيل تخت نشين ہوا. ليکن وه سات ماه سے زياده حکومت نہ کر سکا. اسے معزول کرکے محمود نے حکومت سنبهال لي. اس کا عہد غزنويوں کے عروج کا زمانہ ہے . اس عظيم فاتح کي تلوار کے سامنے ہندوستان اور ايران ميں کوئي نہ ٹهر سکا. ہندوستان کي اکثر دولت اور ايران کا بڑا حصہ اس کے قبضہ ميں آگيا. يہ پہلا مسلمان بادشاه ہے جس نے سلطان کا لقب اختيار کيا. سلطلن کي وفات کے بعد 421 ہ  ميں چند ماه اس کے بيٹے نے حکومت کي. ليکن سلطان کے دوسرے بيٹے مسعود نے محمد کو تخت سے الگ کرکے خود حکومت پر قبضہ کر ليا. اس کے زمانے ميں سلجوقيوں کي قوت ميں بہت زياده اضافہ ںوگيا تها. وه مرو ميں ان سے شکست کها کر 431 ہ  ميں غزني آگيا اور وہاں سے اسے ہندوستان کے غزنوي مقبوضات کا رخ کرنا پڑا 432  ه ميں اس کے قتل کے ساته ايران ميں غزنويوں کا ايک دور ختم ہوا. ليکن اس خاندان کي حکومت  432  ه تک قائم رہي. غوريوں نے انہيں غزني چهوڑنے پر مجبور کيا اور سلطان خسروشاه بن بہرام شاه  کے زمانے ميں غزنويوں کا پايہ تخت لاہور منتقل ہوگيا. آخري غزنوي بادشاه خسرو ملک 583 ه ميں غياث الدين کے ہاتهوں گرفتار ہوا.

پيشکش : شعبہ  تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

ايران کے نباتات ( حصہ دوّم)

ايران کے نباتات

ساماني دور حکومت

تاج کياني

اسلامي جمہوريہ ايران