• صارفین کی تعداد :
  • 3184
  • 6/25/2011
  • تاريخ :

بے پردہ معاشرے میں عورتوں کی مشکلات ( حصّہ دوّم )

حجاب والی خاتون

آٓخری چند سالوں میں عورتوں کی تحریک نے جنسی تجاوز کے بارے میں اس عمومی اور قانونی فکر کو بدلنے کے بارے میں بہت اصرار کیا ہے ، اور انہوں نے تاکید کی ہے کہ جنسی تجاوز کو تنھا جنسی مخالفت کا عنوان نہ دیا جائے، بلکہ ایک درد ناک تباہ کاری کا نام دیا جائے اس لئے کہ جنسی تجاوز صرف ایک فیزیکی حملہ نہیں ہے بلکہ تمام انسانوں کی عظمت اورعزت پر حملہ کرناہے ۔ یہ ہی وجہ ہے آج عام طور پر جنسی تجاوزایک قسم کی تباہ کاری جانی جاتی ہے ۔

براون میلر کی نگاہ میں ایک عنوان سے تمام عورتیں جنسی مشکلات سے دو چار ہیں، اس لئے کہ اس طرح کے معاشرے میں وہ عورتیں جو جنسی تجاوز کا شکار نہیں ہیں وہ ان عورتوں کی طرح جو اس مشکل سے دوچار ہوئی ہیں(اس کے خوف و وحشت سے ) مضطرب رہتی ہیں، یہ عورتیں ممکن ہے رات میں اکیلی باہر چلی جائیں، سڑکوں پر گھومتی ہوئی نظر آئیں، یا کسی گھر یا فلیٹ میں اکیلی رہتی ہوں، لیکن ممکن ہے کہ انہیں عورتوں کی طرح تنھائی سے وحشت زدہ رہتی ہوں ۔

سوزان براون میلر کا کہنا ہے کہ

مردوں کا عام طور سے ان کی خواہشات کے علاوہ ان کا جنسی تجاوز کرنا ایک مردانہ چیلنج ہے جس سے تمام عورتیں خائف رہتی ہیں، جو عورتیں تجاوز جنسی کا شکار نہیں ہوئی ہیں، وہ ایک بے چینی اور اضطراب کا شکار رہتی ہیں، ان کو چاہیے کہ اس طرح کی زندگی میں مردوں سے زیادہ محتاط رہیں ۔

مندرجہ ذیل ایک فہرست ذکر کی جا رہی ہے جس میں ضروری اور غیر ضروری باتیں جنسی تجاوز کے خطرے سے بچنے کے لئے ذکر کی گئی ہیں،یہ فہرست امریکا میں عورتوں کی ایک انجمن کے ذریعے نشر کی گئی ہے ، یہ فہرست اس بات کی تاکید کرتی ہے کہ جنسی تجاوز ایک ایسا جرم ہے جو تمام عورتوں کی زندگی پر اثرانداز ہوتاہے ۔

۱۔ اپنے گھر کو جتنا ممکن ہو محفوظ کیا جائے ۔

۲۔اگر گھر میں اکیلی رہتی ہوں تو گھر کی لائٹوں کو جلا رہنے دیں تاکہ دوسرے کو یہ محسوس ہو کہ گھر میں ایک سے زیادہ افراد رہتے ہیں ۔

۳۔ جس وقت گھر کی گھنٹی پر جواب دو تو ایسا ظاہر کریں کہ گھر میں کوئی مرد موجود ہے ۔

۴۔اپنا نام دروازے پر یا ٹلفون بل پر نہ لکھیں ۔

۵۔ اگر کسی ایک اپارٹمینٹ میں رہتی ہوں تو اکیلے تہ خانے ، پارکنگ ، یا کپڑے دھونے والے روم میں نہ جائیں یا وہاں اکیلے نہ رکیں ۔

اس میں اس مقام پر تجاوز جنسی سے محفوظ رہنے کے لئے ۱۳ نکات ذکر کئے گئے ہیں ۔

لیکن جو نکتہ ان نکات میں فراموش کردیا گیا ہے جس کی رعایت سے معاشرے کے بہت سے مفاسد اور برائیوں کو نابود کیا جا سکتا ہے اور عورتوں کے لئے معاشرے میں امن کا سامان فراہم کرسکتا ہے وہ پردے کی رعایت کرنا ہے ۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ پردے کے حوالے سے تنھا لا پرواہی سے کام نہیں لیا گیا ، بلکہ بہت سے حکمرانوں اور سیاست مداروںشیطانی سیاست کے ذریعے اس کے مقابلہ میں محاذ قائم کیااورانہوں نے پردے کو معاشرے سے بالکل ختم کرنے کے لئے قدم اٹھائے ہیں ۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ازمائے ہوئے کو ازمانا ایک غلطی ہے، اگر آپ اس تیز رفتار معاشرے اور اس میں پائی جانی والی مشکلات جو ایک دوسرے کے دست و گریباں ہیں جن کا ذکر ہم نے کیا ہے ، اس سے کہیں زیادہ ہیں،کا مطالعہ کریں تو ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے ،کہ کم از کم ہم پردے کے مسئلے کو اس معاشرے کے لئے ایک نمونہ قرار دیں، اور معاشرے میں اس کا اجراء کریں، تاکہ اس کے وجود کا ہر درخت ثمرآور ثابت ہو سکے، اور معاشرے میں پردے کے ذریعے امن کی فضا قائم ہو سکے ۔

تالیف :حجة الاسلام سید محمد جواد بنی سعید ۔ 


متعلقہ تحریریں :

عورت گھر کی اہم ہستی اور کنبے کا مہکتا پھول

پردے کی ضرورت پر عقلی دلیل ( حصّہ دوّم )

پردے کی ضرورت پر عقلی دلیل

زبردستی پردہ کروانے کی وضاحت ( حصّہ چہارم )

زبردستی پردہ کروانے کی وضاحت ( حصّہ سوّم )