• صارفین کی تعداد :
  • 4247
  • 5/22/2011
  • تاريخ :

پردے کی ضرورت پر عقلی دلیل ( حصّہ دوّم )

پرده والی عورت

جنسی روابط کو نظم و ضبط دینا ہمیشہ اخلاق کے مہمترین فرائض میں شمار ہوتاہے ۔ اس لئے کہ بچہ پیدا کرنے کا غریزہ تنھا شادی کے موقع ہی پر ہی مشکل پیدا نہیں کرتا بلکہ شادی سے پہلے اور اس کے بعد بھی مشکلات کا سبب بنتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں میں اس غریزے میں شدت اور قانون کی نافرمانی اور طبیعی راستے سے انحراف، معاشرے میں بچے پیدا کرنے نظام میں بد نظمی اور اور سرکشی کا سبب بنتا ہے ۔ جبکہ جنسی زندگی جانوروں کے درمیان بھی آزاد اور بے لگام نہیں ہے، اس لئے کئے مادہ جانور بھی ایک معین وقت کے علاوہ کسی نر جانور کو قبول نہیں کرتا ہے ۔

انسانی معاشرہ اپنی تاریخ میں ہر قسم کے پردے یا برہنگی اور جنسی روابط کو ایک قانون کی حیثیت سے تجربہ کر چکا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی معاشرے میں پردے کا وجود عشق کے مفہوم پر مبنی تھا، اس بیان کے ساتھ کہ جب بھی میں کسی سے وابستہ ہوتا ہوں اور اس سے محبت کرتا ہوں، تو یہ احساس مجھ میں پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ مجھ سے تعلق رکھتا ہے اور کوئی دوسرا میرے عشق میں تصرف کا حق نہیں رکھتا، اگر کوئی دوسرا میرے عشق پر نظر ڈالے تو وہ میری نفرت کا شکار ہوجاتا ہے۔ دوسری جانب میرا اس سے عشق کرنا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ میں اس کی حمایت کروں، تاکہ دوسرا اس کی طرف نہ آسکے ، اور سب اس بات کو سمجھ لیں کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے لئے ہیں ۔ یہ وہ احساس ہے جو میرے عشق کے درمیان انے والے افراد کے ساتھ سخت برتاؤ پر مجبور کرتا ہے، اور یہ احساس تقاضا کرتا ہے کہ دوسرے لوگ ان دو عاشقوں کے رابطے کو رسمی سمجھیں، اور اس کی حدوں کی رعایت کریں، اور اسی مقام سے شادی کے مسئلے نے اپنی شکل اخیتار کی اور رسمیت حاصل کی، اس طرح ہر فرد اور معاشرہ، جنسی کمیونزم اور مرد و عورت کے غیر قانونی روابط سے الگ ہو جاتاہے ۔ اور اس طرح عشق کا خوبصورت مفہوم جو دو عاشقوں کے درمیان مشاہدے میں آتا ہے ، شادی کے مفہوم کو مزید حسین اور پسندیدہ بنا دیا ۔

اس بحث کے تسلل میں، جس وقت کوئی شخص یہ دیکھتا ہے کہ اس کا محبوب اس سے پہلے کسی دوسرے کے ساتھ وابسطہ تھا ، تو اس کے یہاں دلشکنی اور تردد کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، اور محبوب کا سابق رابطہ عشق اور خلوص میں کمی کا سبب بن جاتا ہے، اور یہ امر اس نئے عشق پر اثرانداز ہوتا ہے، اور انسان اس بات کا مشاہدہ کرتا ہے کہ جو عشق ماضی میں کسی سے وابسطہ نہیں ہوتا ہے وہی زیادہ خوبصورت اور دل آویز ہوتا ہے ۔ لہذا اس قسم کی عورتیں جب اپنے عشق کو خلوص سے خالی دیکھتی ہیں تو بکارت کے تصور کو اپنی ہم جنس عورتوں کے درمیان رائج کرتی ہیں تاکہ وہ اپنے شوہروں سے عشق کرنے سے پہلے اپنے جسم کو کسی دوسرے کے حوالے نہ کریں، اور یہ کام ان کو اپنے عشق کے سامنے حقیر اور رسوا نہ کر سکے ۔

اس طرح کی سازگاری کنوارے پن کے مفہوم کو گراں قدراوربے بہا بنا تی ہے، اس لئے کہ عشق اور شادی کی حسین صورت بھی کنوارپن تک سرایت کرتی ہے، اس راہ میں اگر کوئی لڑکی خالص عشق کے حصول کی خاطر باکرہ رہنا چاہے تو دوسروں کی نگاہوں سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں کر سکتی، اور سخت حالات کا سامنا کرتی ہے، لہذا سوائے اپنے آپ کو پردے میں چھپانے کے اس کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے، لہذا اپنی باطنی خوبصورتی اور اپنے کلام کی دلفریبی کو پردے میں رکھے تاکہ غیروں کی اس تک رسائی نہ ہونے پائے ۔ اس طرح پردہ معاشرے میں اپنا وجود پیدا کرتا ہے، عشق، شادی اور کنوارے پن کے حسن کا مالک بن جاتا ہے، اور کنوارے پن، شادی اور خالص عشق کے حصول کے لئے ایک صدف کی مانند ہو جاتا ہے ۔

اس طرح پاکیزہ عشق معاشرے میں عورت و مرد کے رابطہ کو محکم بناتا ہے اور اصول و قوانین پر اس کی بنیادیں رکھتا ہے جس کو ہر عقل سلیم دوسرے تمام طریقوں پر فوقیت دیتی ہے، یاد رہے اس قسم کا عشق ہمیشہ تھذیب و تمدن کی ترقی کا ثمرہ ہوتا ہے، جہاں انسانی شہوت کو اطمئنان بخشنے کے لئے اخلاقی تعلیمات کے مطابق کچھ حدیں بنائیں جاتی ہیں ۔

تالیف :حجة الاسلام سید محمد جواد بنی سعید ۔


متعلقہ تحریریں :

زبردستی پردہ  کروانے کی وضاحت (حصّہ دوّم)

زبردستی پردہ  کروانے کی وضاحت

مستحکم گھرانے کيلئے مياں بيوي کي صفات و عادات سے استفادہ

قرآنِ کریم اور عورت کا مقام

فیشن اور آپ کی شخصیت