• صارفین کی تعداد :
  • 2256
  • 5/14/2011
  • تاريخ :

صفات شيعه ( حصّہ ششم )

بسم الله الرحمن الرحیم

 سمعت ابا عبد اللہ (ع) یقول : ان احق الناس بالورع آل محمد (ص) وشیعتہم کی تقتدی الرعیة بہم

امام صادق (ع) فرماتے ہیں کہ ورع و تقویٰ میںسب سے بہتر آل محمد(ص) اور ان کے شیعہ ہیں تاکہ دیگر تمام افراد ان کی اقتدا کریں ۔

حدیث کی شرح :

شیعہ ہونا، امام کا جز ہونا ہے۔ معصوم امام و پیغمبران تمام لوگوں کے لئے امام ہیں،لہذا شیعوں کو بھی چاہئے کہ وہ لوگوں کے ایک گروہ کے امام ہوں ۔واقعیت یہ ہے کہ اسلامی سماج میں شیعوں کو پیش رو ہونا چاہئے تاکہ دوسرے ان کی اقتدا کریں ،جس طرح جنوبی لبنان میں شیعہ مجاہدوںکی صفوں میں سب سے آگے ہیں اور سب لوگ ان کو مضبوط ،فداکار اور ایثارگروں کی شکل میں پہچانتے ہیں ۔شیعوںکو چاہئے کہ صرف جہاد میں ہی نہیں بلکہ زندگی کے ہر میدان میں پوری دنیا کے لئے پیشوا و نمونہ بنیں۔ ورع تقوے سے بھی بلند چیز ہے ۔ کچھ بزرگوں نے ورع کو چار مرحلوں میں تقسیم کیا ہے :

1. توبہ کرنے والوں کے ورع کا مرحلہ :

ورع کا یہ مرحلہ انسان کو فسق سے بچاتا ہے یہ ورع کا سب سے نیچے کا مرتبہ ہے اور عدالت کے برابر ہے یعنی انسان گناہ سے توبہ کرکے عادلوں کی صف میں آجاتا ہے ۔

2.صالحین کے ورع کا مرحلہ :

ورع کے اس مرحلہ میں انسان شبہات سے بھی پرہیز کرتا ہے یعنی وہ چیزیں جو ظاہرا حلال ہیں لیکن ان میں شبہ پایا جاتا ہے ان سے بھی بچتاہے ۔

3. متقین کے ورع کا مرحلہ :

ورع کے اس مرحلہ میں انسان گناہ اور شبہات سے تو پرہیز کرتا ہی ہے مگر ان کے علاوہ  ان حلال چیزوں سے بھی بچتا ہے جن کے سبب کسی حرام میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو جیسے کم بولتا ہے کیونکہ وہ ڈرتا ہے کہ اگر زیادہ بولا تو کہیں کسی کی غیبت نہ ہو جائے جو واقعا اس عنوان میں داخل ہے کہ” اترک ما لا باس بہ حذرا مماباس بہ “

4. صدیقین کی ورع کا مرحلہ :

اس مرحلہ میں عمر کے ایک لمحے کے برباد ہونے کے ڈر سے غیر خدا سے بچا جاتا ہے یعنی غیر خدا سے بچنا اور اللہ سے لو لگانا اس لئے ہے کہ کہیں عمر کاایک لمہ برباد نہ ہو جائے ۔ ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہماری عمر ہے جس کو ہم تدریجا اپنے ہاتھ سے گنواتے رہتے ہیں اور اس بات سے غافل ہیں کہ یہ ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہے ۔

امام صادق (ع) نے فرمایا کہ ورع میں سب سے بہتر آل محمد (ص) اور ان کے شیعہ ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ورع کے مراتب میں سے کم سے کم پہلا مرتبہ تو ہم کو اختیار کرہی لینا چاہئے یعنی شیعہ کو چاہئے کہ وہ عادل اور عوام کا پیشوا ہووہ فقط خود ہی کو نہ بچائے بلکہ دوسروں کو بھی نجات دے۔ سورہ فرقان کے آخر میں اللہ کے بندوں کی بارہ خصوصیات بیان کی گئیں ہیں اور ان میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ <والذین یقولون ربنا ہب لنا من ازواجنا وذریاتنا قرة عین وجعلنا للمتقین اماما یہ  وہ لوگ ہیں جو اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ہم کو متقین کا امام بنا دے کیا یہ چاہنا کہ ہم میں سے ہر ایک امام ہو طلب برتری ہے؟ نہیں یہ ہمت کی بلندی ہے بس اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو شیعہ کہنا اور شیعوں کی صف میں کھڑا ہونا آسان ہے لیکن واقعی شیعہ ہونا بڑا مشکل ہے ۔ امام زمانہ (عج)  اور دیگر ائمہ ہدیٰ کو اہل علم حضرات اور اس مکتب کے شاگردوں سے بہت زیادہ توقع ہے ۔  لہذا ہم کو چاہئے کہ لوگوں کے لئے نمونہ بنیں تاکہ لوگ ہماری اقتدا کریں اور تبلیغ کا سب سے بہترین طریقہ بھی یہی ہے، کہ انسان کے پاس اتنا ورع و تقویٰ ہو کہ لوگ اس کے ذریعہ سے اللہ کو  پہچانیں۔ جان لو کہ حقیقی شیعہ وہ افراد ہیں جو شجاع، صبور، محبت سے لبریز، پرہیزگار اور حرام سے بچنے  والے ہیں اور جنھیں مقام و منزلت سے لگاؤ نہیں ہے ۔

الشیعہ ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

شيعوں کے صفات (حصّہ دوّم)

شيعوں کے صفات

شیعہ، اہل بیت کی نظر میں

اہل بیت کے شیعہ کون ہیں

شیعوں کی نسبت موٴسسِ وھابیت کی تھمتیں