• صارفین کی تعداد :
  • 626
  • 5/14/2012
  • تاريخ :

 کيپچوليش کي نئي شکل،پانچ کروڑڈالر کا ايک امريکي

 کيپچوليش کي نئي شکل،پانچ کروڑڈالر کا ايک امريکي

ماضي ميں طاقتور اقوام کمزور اقوام پر چڑھائي کرکے ان کو اپنا محکوم بنا ليتي تھيں، اور پھر ان کے ساتھ اپني مرضي کا رويہ اختيار کرتي تھيں جو زيادہ تر جبر اور ظلم و بے انصافي پر مبني ہوا کرتا تھا- حاکم اقوام محکوم اقوام کے ساہ سفيد کي مالک ہوا کرتي تھيں، سراٹھانے، زبان کھولنے اور کسي قسم کا اعتراض کرنے پر کم ترين سزا، سر اور تن ميں جدائي ہوا کرتي تھي-

ابنا: حاکم اور طاقتور اقوام اپنے لاؤ لشکر کے ذريعے اپنے سے کمزور اقوام پر چڑھائي کرکے ہي ان کو محکوم بنايا کرتي تھيں اور اس کام پر انہيں بعض اوقات برسوں محنت کرنا پڑتي تھي اور سينکڑوں افراد کي قرباني کے بعد انہيں اپنے مد مقابل اقوام کو محکوم بنانے کا موقع نصيب ہوتا تھا جس کے بعد ہي ان کے اور فريق مقابل کے درميان حاکم اور محکوم کا رشتہ قائم ہوتا تھا-

قرون وسطي کا يہ قانون جيسے عرف عام ميں کيچوليشن کہتے ہيں آج بھي کسي نہ کسي شکل ميں موجود ہے اور ان اقوام کي طرف سے قوموں پر مسلط کيا جاتا ہے جو دنيا کي مہذب ترين اقوام کہلاتي ہيں- البتہ ماضي کے برخلاف اس قانون پر عمل درآمد کے لئے حملہ کرنے کي ضرورت نہيں ہوتي بلکہ کمزور اقوام خود آگے بڑھ کر طاقتور اقوام سے تمنا کرتي ہيں کہ ان کو اس قانون کا اہل سمجھا جائے- فوجي سازو سامان، فوجي مشاورين، اور اہلکاروں کو باقاعدہ دعوت ديکر بلايا جاتا ہے، ان کے لئے شاندار رہائش اور بھاري تنخواہوں اور ديگر مراعات کا انتظام کيا جاتا ہے اور اداروں کو اس بات کا پابند کيا جاتا کہ کوئي بھي ان کے کاموں ميں مخل نہ ہو، ان کي کسي غلطي کو غلطي نہ سمجھا جائے اور کسي جرم و زيادتي کي صورت ميں مکمل پردہ پوشي کي جائے اور ضرورت پڑنے اس کو پورا پورا تحفظ فراہم کيا جائے-

کيچوليشن مزيد وضاحت کرديں کہ حاکم اقوام کا ہر شہري محکوم اقوام کي سرزمين پر ہر قسم کے جرم و زيادتي کا ارتکاب کرسکتا ہے اور محکوم ملک يا قوم کي بڑي سے بڑي عدالت اسے سزا دينے کا حق نہيں رکھتي- ليکن محکوم قوم کا کوئي شہري حادثاتي طور پر بھي حاکم قوم کے کسي فرد کے حق ميں چھوٹي سي بھي زيادتي کا مرتکب ہوجائے تو اسے دنيا کي کوئي طاقت سزا سے نہيں بچاسکتي-

محکوم اقوام ہر مطلوب شخص کو حاکم اقوام کے سپرد کرنے پابند ہيں، اسے اصطلاحا مجرموں کي حوالگي کا معاہدہ قرار ديا جاتا ہے تاہم يہ حوالگي کا يہ معاہدہ يک طرفہ ہوتا ہے- ليکن جيسا کہ عرض کيا گيا اس قسم کے غير منصفانہ قوانين زور زبردستي نہيں بلکہ خود محکوم اقوام کہ کہنے پر ان پر مسلط کئے جاتے ہيں-ماضي ميں ايران ميں شاہ کي حکومت نے ايسا ہے ايک معاہدہ رضا و رغبت امريکہ کے ساتھ کياتھا کہ جسے ملت ايران نے ايک دن بھي قبول نہيں کيا اور اس سلسلے ميں امام خميني رحمتہ اللہ عليہ کا تاريخي خطاب اسلامي انقلاب کا سر چشمہ قرار پايا جس نے نہ صرف شاہي استبداد کي بساط ہميشہ ہميشہ کے لئے لپيٹ دي بلکہ، حاکم اقوام کے سرغنہ، امريکہ کے منہ پر اتنا زور دار طمانچہ رسيد کيا کہ وہ آج تک بلبلا رہا ہے-اگر محروم اور کمزور اقوام امام خميني کے بتائے ہوئے راستے کو اپناليں تو يقينا اس ذلت آميز زندگي سے نجات پاسکتے ہيں-

اس وقت عالم اسلام کے بيشتر ممالک اپنے بے پناہ وسائل اور افرادي قوت رکھنے کے باوجود از خود اپنے گلے ميں کيپچو ليشن کا ذلت آميز طوق ڈالے ہوئے ہيں اور اس کي دليل يہ پيش کرتے ہيں کہ امريکہ ہماري 70 فيصد يا اس کچھ زيادہ اقتصادي مدد کرتا ہے جس کے بغير ہم ايک دن بھي زندہ نہيں رہ سکتے- جبکہ بعض اقتصادي ماہرين کا کہنا ہے کہ ايڈ کے نام پر امريکہ کي امداد کسي بھي ملک کے لئے 25 فيصد سے زيادہ نہيں ہے اور اگر ہے تو وہ حکام کي اپني جيبوں ميں جاتي ہے-

مبصرين کا يہ بھي ماننا ہے کہ اس وقت دنيا کا واحد اسلامي ملک جو کيپچوليشن کہ نہ نوشتہ قانون کي بھينٹ چڑھ رہا ہے وہ پاکستان ہے-اطلاعات کے مطابق امريکي ايوان نمائندگان ميں"پاکستان ٹيررازم اينڈ اکاونٹبيلٹي" بل سينيٹر ڈانا روہرا بيکر نے پيش کيا گيا ہےجس کے تحت پاکستان اور افغانستان ميں مرنے والے ہر امريکي کے بدلے، پاکستان کي امداد ميں 5 کروڑ ڈالر کي کٹوتي کي جائے گي- سينيٹر ڈانا روہرا بيکر ڈانا روہرا بيکر نےالزام لگايا ہے کہ امريکہ طويل عرصے سے پاکستان کي مدد کر رہا ہے- ڈانا روہرا بيکر کے مطابق پاکستاني فوج اور آئي ايس آئي کے کچھ عناصر شدت پسندوں کي مدد کرتے ہيں، اسامہ کو چھپنے ميں بھي پاکستان کے انٹيلي جنس اداروں نے مدد فراہم کي ہے-

سينٹ کي خارجہ امور کميٹي کے سربراہ جان کيري نے دھمکي آميز لہجے ميں کہا ہے کہ اگر پاکستان نے دہشت گردي کے خلاف جنگ ميں مزيد تعاون نہ کيا تو اسے نتائج بھگتنا پڑيں گے-کانگرس کے ايک پينل نے امريکي اقتصادي اور فوجي امداد کي وصولي کے لئے کڑي شرائط عائد کرنے کي متفقہ طور پر منظوري دي، اس ميں کہا گيا تھا کہ پاکستان کي امداد دہشت گردوں کے خلاف کارروائي، نيٹو سپلائي کي بحالي اور دھماکہ خيز مواد کے خاتمے کے لئے اقدامات سے مشروط کي جائے-

الميہ يہ کہ اپنے آپ کو محکوم قوم کے طور پر پيش کرنے والے پاکستان حکام امريکيوں سے يہ کہنے کے بھي جرات نہيں رکھتے کہ جس دہشت گردي کے خاتمے کے لئے وہ پاکستان پر دباؤ ڈال رہے ہيں وہ تو خود امريکيوں کي شروع کي ہوئي ہے- کہا جاتا ہے کہ امريکہ نے 9/11 کے مشکوک واقعات کے بعد پاکستان کو پتھر کے دور ميں لوٹانے کي دھمکي دي تھي، تو کيا امريکہ افغانستان کو پتھر کے دور ميں پہنچاديا؟ کيا عراق پر امريکہ دوبار کے تباہ کن حملوں کے بعد عراق ختم ہوگيا؟ عراق اور افغانستان آج بھي اپني جگہ موجود ہيں، البتہ اتنا ضرور ہوا کہ ان دونوں ملکوں ميں چونکہ حکومتوں کو اپنے عوام کي حمايت حاصل نہيں تھي لھذا امريکي جارحيت کے سبب حکام تبديل ہوگئے اور حکام بھي وہ جن کا اقتدار خود امريکيوں کي بلواسطہ يا بلا واسطہ حمايت اور تعاون کے بغير ممکن نہيں تھا- بہرحال سينيٹر روہرا بيکر ڈانا کے مجوزہ بل پر عمل درآمد ہو يا نہ ہو يہ بات معلوم ہوگئي کہ پاکستان يا افغانستان ميں مارے جانے والے ايک امريکي شہري کي جان کي قيمت پانچ کروڑ ڈالر ہے-