• صارفین کی تعداد :
  • 4409
  • 5/9/2011
  • تاريخ :

دعا کرنے کے آداب اور استجابت دعا کے شرایط

بسم الله الرحمن الرحیم

دعا کرنے اور دوست کے حضور میں شرفیاب ہونے اور خدا کے فیض اور رحمت سے فائدہ اٹھانے کیلئے کچھ آداب ذکر ہوئے ہیں جو یقینا دعا کے مستجاب ہونے میں موٴثر ہیں یہاں پر ہم ان میں سے کچھ مہم ترین آداب کو(روایات سے استفادہ کرتے ہوئے) ذکر کرتے ہیں:

الف : معرفت الہی

دعا کرنے والا خدا کو صحیح طریقہ سے پہچانے اور اس کی مالکیت، قدرت، عظمت، علم و آگاہی اور لطف و کرم پر ایمان رکھے۔

ب : خدا وند عالم پر حسن ظن رکھنا۔

روایات میں آیا ہے کہ دعا کے وقت خدا وند عالم اوراس کے ذریعہ دعا کے مستجاب ہونے پر اطمینان و یقین رکھنا چاہئے اورعقیدیہ ہونا چاہئے کہ خداوند عالم دعا کو مستجاب کرے گا (۱) ۔

ج : عاجزی او رانکساری کے احساس کے ساتھ دعا کرنا

شدید عاجزی اور انکساری کے احساس کے ساتھ دعا کی جائے اس طرح سے کہ انسان کو یقین رکھنا چاہئے کہ خدا وند عالم کے علاوہ کوئی اور پناہ دینے والا نہیں ہے (۲) ۔

د : پوری توجہ کے ساتھ دعا کرنا

دعا کرتے وقت ، دعا کرنے والے کے تمام ہوش وحواس خدا وند عالم کی طرف ہوں اور اپنے قلب کو غیر خدا سے دور کرے(3) ۔

ھ : خضوع و خشوع اور ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ دعا کرنا

دعا کرنے والے کو نہایت خضوع و خشوع ، رقت قلب اور انکساری کے ساتھ پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہونا چاہئے(۲) اس وقت اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف (تسلیم و تعظیم کے ساتھ) بلند کرے (۳) اور آنسوؤں سے بھری ہوئی آنکھوں اور ڈرے ہوئے قلب کے ساتھ اپنی حاجت کو بیان کرے (۴)۔

و : استغفار اور صلوات کے ساتھ دعا

دعا کے شروع میں، حمد و ثناء الہی، توبہ اور محمد و آل محمد پر صلوات، استجابت دعا کے لئے بہت زیادہ موٴثر ہے ۔ (۵) ز : اصرار اور استقامت کے ساتھ دعا کرنا

دعا میں استقامت اور اصرار کرنے کی معصومین (علیہم السلام) نے تاکید فرمائی ہے (۶) اس طرح کہ دعا کرنے والے کو نہ تو نا امید ہونا چاہئے اور نہ ہی کرنے سے دست بردار ہونا چاہئے۔

مندرجہ بالا نکات کے علاوہ ، بہت سے اوقات ایسے ہیں جن میں دعا کا زیادہ اثر ہوتا ہے جیسے شب و روز جمعہ، نصف شب، سحر اور ماہ رمضان خصوصا شبہائے قدر اور اسی طرح بہت سے مقامات بھی دعا کے لئے موٴثر ثابت ہوتے ہیں جیسے مسجد الحرام، مسجد نبوی(صلی اللہ علیہ و آلہ)مشاہدمشرفہ اور ان کے جیسے دیگر مقامات (۷)۔

ہم اس حصہ کو عارف کامل، عالم ربانی، علم و عمل کے مرد مجاہد مرحوم ”سید بن طاووس“ کے کلمات پر ختم کرتے ہیں، آپ کہتے ہیں : ”جب بھی خدا وند عالم سے کوئی حاجت ہو تو کم سے کم اس کے سامنے اس طرح خضوع و خشوع کے ساتھ پیش آؤ جس طرح دنیا کے حاکموں کے سامنے عرض نیاز کرتے ہو ، جس طرح ان کی نظر کو جلب کرنے میں کسی قسم کا دریغ نہیں کرتے ہو اور ہر طرح سے ان کی خوشنودی حاصل کرنے میں مشغول رہتے ہو اسی طرح خدا وند عالم سے جب کوئی حاجت طلب کرو تو اس کی مرضی حاصل کرنے کی پوری کوشش کرو ، ایسا نہ ہو کہ تمہاری توجہ خدا وند عالم کی طرف ،دنیا کے با اقتدار افراد سے کم ہوجائے ! اگر ایسا ہو اور خدا کی شان ومنزلت تمہاری نظر میں ان کی شان ومنزلت سے کم ہوجاٴے(حالانکہ وہ سب بھی خدا کے بندے ہیں)تو ایسا کرنے سے تم نے عظیم خدا کو چھوٹا سمجھا اور اس کی عظمت و جلالت کا خیال نہیں کیا۔

دیگر یہ کہ : جس نماز یا روزہ کو اپنی حاجت کیلئے انجام دے رہے ہو وہ خدا وندعالم کے امتحان اور آزمائش کیلئے نہ ہو! کیونکہ انسان اس کو آزماتا ہے جس سے بد گمان ہوتا ہے اور خدا وند عالم نے اپنے بارے میں بدگمانی کرنے والوں کی مذمت کرتے ہوٴے فرمایا ہے : ”الظانین باللہ ظن السوء علیھم دائرة السوء“۔ جو لوگ خدا وند عالم کے متعلق بدگمانی کرتے ہیں ان کو ناگوار حوادث پیش آتے ہیں (4) ۔

بلکہ خدا وند عالم پر کامل طور سے اعتقاد اور اطمینان رکھنا چاہئے اور اس کے وعدوں پر ایک سخی با اختیارانسان سے زیادہ امید رکھنی چاہئے !۔

بہتر ہے کہ جب حاجت کیلئے نماز پڑھے یا روزہ رکھے تو سب سے پہلے اپنی دینی حاجتوں کو ان کی اہمیت کے اعتبار سے خدا سے طلب کرے ، البتہ تمہاری سب سے مہم حاجت ، اس مولا اور ا مام کے لئے ہونی چاہئے جس کی ہدایت اور حمایت کے سایہ میں تم زندگی بسر کررہے ہو یعنی تمہاری سب سے پہلی حاجت ، امام زمانہ(عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف)کے لئے دعا کرنی چاہئے ، اس کے بعد دینی حاجتیں اور ضرورتیں، اس کے بعد اپنی ان دینوی حاجتوں کو خدا کے سامنے پیش کرناچاہئے جو تمہارے دل میں ہیں (5) ۔

حوالہ جات :

۱۔ کافی جلد ۲، ص ۴۷۳، ح۱۔

۲۔ وسائل الشیعہ، ج۴ ص ۱۱۷۴، حدیث ۱۔

3۔ کافی جلد ۲ ص ۴۷۳، حدیث ۲۔

4۔ سورہ فتح، آیت ۶۔

5۔ جمال الاسبوع، ص ۳۲۶(خلاصہ کے ساتھ)۔

اردو مکارم ڈاٹ آئی آڑ


متعلقہ تحریریں:

سورہ بقرہ میں دعا

رَبَّنَا

پریشانی کے وقت کفالت اور کام میں آسانی کی دعا

 قرآن پڑھنے والے فلاح پانے والے ہیں

اسلام پر موت کی دعا