• صارفین کی تعداد :
  • 1829
  • 5/9/2011
  • تاريخ :

شيعوں کے صفات ( حصّہ پنجم )

بسم الله الرحمن الرحیم

مقدمہ :

آج کی اخلاق کی بحث” فضائل و صفات شیعہ “کی بحث کا ادامہ ہے ۔مرحوم علامہ مجلسیۺ نے شیعوں کے فضائل و صفات کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے اور  بہت سی روایتیں نقل کی ہیں ۔بہتر  آج اس  بات کی ضرورت ہے کہ ہم  ان بحثوں کو خود بھی پڑھیں و سمجھیں اور دوسروں کو بھی ان کے بارے میں بتائیں، تاکہ وہ افراد جو اپنے آپ کو شیعہ کہہ کر اپنے دل کو خوش کرلیتے ہیں وہ جان لیں کہ اہل بیت کا شیعہ ہونا کوئی آسان کام نہیں ہے۔

آج کی بحث میں ہم ایک ایسی حدیث بیان کریں گے جو شیعوں کی فضیلت کے ساتھ ساتھ شیعوں کی ذمہ داریوں کو بھی بیان کرتی ہے۔ یہ امام صادق علیہ السلام کی حدیث ہے جو آپ نے ابوبصیر سے بیان کی تھی۔آج اس حدیث کے فقط چند جملے عرض کرنے ہیں ۔

حدیث :

عن محمد بن اسماعیل عن ابیہ قال:کنت عند ابی عبد اللہ علیہ السلام اذا دخل علیہ ابوبصیر  فقال یا ابا محمد لقد ذکر کم اللہ فی کتابہ فقال :”ان عبادی لیس لک علیہم ا لسلطان “ [1]  واللہ ما اراد بہذا الا الائمة علیہم السلام شیعتہم فہل سررتک یا ابا محمد ؟ قال :قلت:جعلت فداک زدنی [2]

ترجمہ :

ابوبصیر امام صادق علیہ السلام کی مجلس میں داخل ہوئے اور بیٹھ کر تیز سانس لینے لگے ۔امام نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا کیا کچھ پریشانی ہے ؟ ابوبصیر نے عرض کیا میں بوڑھا اور کمزور ہو گیا ہوں ،اب میرے لئے سانس لینا دشوار ہے، موت کے دروازہ پر کھڑا ہوں ،لیکن ان سب سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ میں موت کے بعد کے حالات سے پریشان ہوں ، نہیں جانتا کہ میری تقدیر میں کیا ہے ؟ امام نے فرمایا تم ایسی باتیں کیوں کر رہے ہو؟ تم تو شیعوں کا افتخار ہو اس کے بعد امام نے شیعوں کے فضائل بیان فرمانے شرو ع کئے  امام شیعوں کے فضائل بیان فرما تے رہے  اور ہر فصل بیان کرنے کے بعد پوچھتے رہے کہ کیا تم اس مطلب سے خوش ہوئے ؟ اور ابوبصیر کہتے تھے کہ جی ہاںمیں آپ پر فدا اور بیان فرمائیے ۔

آخر میں امام نے فرمایا اے ابوبصیر اللہ نے قرآن میں تم شیعوں کی طرف اشارہ کیا ہے  اور فرمایا ہے کہ شیطان میرے بندوں پر تسلط قائم نہیں کرسکتا اور اللہ کی قسم یہاں پر بندوں سے اللہ کی مراد ائمہ اور ان کے شیعہ ہیںان کے علاوہ اور کوئی بھی نہیں ہے ۔

حدیث کی شرح :

  اکثر جوانوں کی طرف سے شیطان کے بارے میں چند سوالات کئے جاتے ہیں، ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ان کے بارے میں چھان بین کریں ۔

  سوال : اللہ نے اغواکار خبیث وجود شیطان کو (جو ہمارے اندر وسوسہ پیدا کرتا ہے  اور ہم کو نیکی سے روکتا ہے) کیوں پیدا کیا؟ جبکہ ہم نیکی کے راستے طے کرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں ۔

جواب : اللہ نے شیطان کو شیطان پیدا نہیں کیا بلکہ اس کو پاک پیدا کیا تھا اور وہ فرشتوں کی صفوں میں تھا وہ برا نہیں بلکہ ایک نیک وجود تھا جو عابد وں اور زاہد وں کا جز تھا اور  اس کو اللہ کی بارگاہ  میںتقرب  حاصل تھا مگر بعد میں اپنے اختیار سے منحرف ہوگیا ۔تکبر ،خودپسندی،حسد،نفس پرستی اور جاہ و جلال کا لالچ اس کی تنزلی کا سبب بنے ۔ہوائے نفس اصلی عامل ہے  اگر یہ نہ ہو تو شیطان کا نفوز بھی نہ ہو ۔<ابیٰ واستکبر و کان من الکافرین [3]  اللہ نے اس کو ان تمام مقامات سے نیچے  اتارا بس شیطان شروع سے ہی شیطان نہیں تھا ۔

اشکال :

اگر شیطان فرشتوںمیں سے تھا تو فرشتے اپنے اوپر کوئی اختیار نہیں رکھتے اور سب کے سب اللہ کے زیر فرمان ہیں تو پھر اس نے اللہ کی نافرمانی کیو ں کی؟

جواب:    شیطان فرشتہ نہیں تھا کہ اختیار نہ رکھتا ہو، وہ تو جن تھا ۔

سوال :    ہم نیکی و سعادت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں <و ما خلقت الجن والانس الا لیعبدون>بس یہ زحمت دینے والا شیطان کا وجود کس لئے ہے وہ بھی ایک ایسی  وجود جو  دکھائی نہیں دیتا، نہ اس سے اپنا دفاع کیا جا سکتا  اور نہ ہی اس پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔ یہ بات تو خلقت کے مقصد سے سازگار نہیں ہے ۔

جواب:  قرآن کا بیان ہے کہ شیطان تمھارے اختیار کے بغیر تمھارے اندر نفوذ پیدا نہیں کرتا ،تمھارے دلوں کے دروازے اس کے لئے بند ہیں ،تم خود اس کے لئے دروازوں کو کھولتے ہو ۔واقعیت یہ ہے کہ کوئی خبیث وجود انسان کے تن و روح میں داخل نہیں ہو سکتا <انما سلطانہ علی الذین یتولونہ والذین ہم بہ مشرکون [4] وہ لوگ جو اس کو اللہ کاشریک قراردیتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں قیامت کے دن شیطان ان سے کہے گا کہ :<وما کان لی علیکم من سلطان الا ان دعوتکم فاستجبتم فلا تلو موننی ولو مواانفسکم >یعنی میں تمھارے اوپر مسلط نہیں ہوں میں نے تمھیں فقط دعوت دی اور تم نے میری دعوت کو قبول کیا بس مجھے ملامت نہ کرو بلکہ خوداپنے نفسوں کو ملامت کرو ۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جولوگ تکامل کی منزل میں ہیں ان کے لئے خود شیطان تکامل کا سبب ہے ۔کیونکہ اس سے ٹکرانا اور اس سے مقابلہ کرنا ایمان کے پختہ ہونے کا سبب بنتا ہے ۔مشہور مغربی تاریخ داں ٹی،این،بی اپنی کتاب ”فلسفہ تاریخ“ میں لکھتا ہے کہ:” میں نے اس دنیا میں وجود میں آنے والے تمام تمدنوں پر غور کیا تو پایا کہ ہر تمدن طاقتو ر دشمن کے حملے کا نشانہ بنا اور پھر اس نے اپنی پوری طاقت سے دفاع کرکے اپنے پھولنے پھلنے کی راہ ہموار کی “بس اسی طرح شیطان کے وجود میں بھی حکمت ہے جیسے اگر ہوائے نفس نہ ہوتی تو عارفان قوی نہ بنتے ۔

قرآن کہتا ہے <ان عبادی لیس لک علیہم سلطان >اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شیطا شیعوں سے نہیں ٹکراتا بلکہ اللہ یہ فرما رہا ہے کہ میں ان کا حامی اور مدد گار ہوں وہ میری طرف آئے اور میرے بندے ہوگئے  تو میں بھی ان کا حامی ہوں۔ بس یہ بلند مرتبہ ہے  اور شیطان کے نفوذسے باہر ہونا شیعوں کا افتخار ہے۔ لیکن اس کا مفہوم یہ ہے کہ جن پر شیطان اپنا تسلط جما لیتا ہے وہ حقیقی شیعہ نہیں ہےں۔بس یہ جملہ ہماری ذمہ داریوں کو بڑھاتا ہے شیعہ معصوم نہیں ہیں اور یہ ممکن ہے کہ شیطان ان کو بہکانے کے لئے آئے لیکن قرآن کہتا ہے <ان الذین اتقو ااذا مسہم طائفة من الشیطان تذکروافاذاہم مبصرون > پرہیزگار لوگوں کو جب کوئی شیطانی وسوسہ چھو جاتا ہے تو وہ اللہ کو یاد کرتے ہیں (اس کے انعام اور سزا کو یاد کرتے ہیں )اور اس کی یاد کے پرتو میں حقائق کو دیکھنے لگتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ شیطان آئے مگر تسلط نہ جما سکے۔ لہٰذا  ذمہ داری بہت زیادہ ہے۔  اسلامی سماج میں کسی فرد ،معاشرہ،مطبوعات ، بازار اور مادی و معنوی زندگی پر شیطان کا تسلط نہیں ہونا یہ چاہئے کیوں کہ اگر شیطان کا تسلط ہو گیا تو پھر وہ حقیقی شیعہ نہیں ہے ۔ میں اس بات کا امیدوار ہوں کہ اللہ ہم کو توفیق دے  تاکہ ہمیں بھی شیعیت کا افتخار حاصل ہو جائے ۔

الشیعہ ڈاٹ کام

حوالہ جات:

[1] سورہ فجر آیہ/ ۴۲

[2] بحار الانوار ج/ ۶۵ ،ص/ ۵۱

[3] سورہ بقرہ،آیہ/ ۳۴

[4] سورہ اعراف،آیہ/ ۲۰۱


متعلقہ تحریریں:

شيعوں کے صفات

شیعہ، اہل بیت کی نظر میں

اہل بیت کے شیعہ کون ہیں

شیعوں کی نسبت موٴسسِ وھابیت کی تھمتیں

وھابیوں کے اعتقادی اصولوں پرتحقیق و تنقید