• صارفین کی تعداد :
  • 1261
  • 5/2/2011
  • تاريخ :

صوبہ سرحد میں بچوں کا ادب (چوتها حصّہ)

کتاب

آزاد وطن" قومی یک جہتی کے فروغ اور لسانی و صوبائی تعصب کا شکار ہونے والے نوجوانوں کے لئے صاف و شفاف آئینہ ہے جس میں سندھی، پنجابی، پختون اور بلوچی کو بھائی بھائی بناکر ملک و قوم کی ترقی کی امانت سونپی گئی ہے۔ یہ کہانی ماہنامہ "چندا" کراچی میں مارچ ۱۹۹۷ء میں شائع ہوئی۔ پیغام ڈائجسٹ میں ان کی کہانی "فرض" کے عنوان سے چھپی۔ اس کہانی میں وردگ نے ان نام نہاد ڈاکٹروں کو بے نقاب کیا ہے جو صرف شہرت اور ناموری کی خاطر بچوں کے لئے ٹرسٹ قائم کرتے ہیں اور بچوں کا مسیحا جیسے القابات سے نوازے جاتے ہیں۔ لیکن اسی طرح کے ڈاکٹر سے جب اس کا اسسٹنٹ پردہ ہٹاتا ہے تو اس کا مکروہ اور بھیانک چہرہ سامنے آجاتا ہے اور وہ رسوائی کے بدترین درجے پر پہنچ جاتا ہے۔ "تم کون بنو" پاکستان کے حال سے مایوس اور مستقبل سے نا امید نوجوانوں کی کہانی ہے۔ جن کے سامنے حصول روزگار کے دروازے مقفل ہیں اور ٹیلنٹ رکھنے کے باوجود وہ بے روزگاری کا عذاب سہنے پر مجبور ہیں ان کی مجبوریوں اور زہر سے بھرے ہوئے مکالمے کو جب پروفیسر باباسن لیتا ہے اور پھر ان کو سمجھاتا ہے۔ تو نوجوانوں کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور ان کی یاس آس میں بدل جاتی ہے۔

"پروفیسر بابا کہتا ہے۔ بچو شاید تمہیں شعور نہ ہو لیکن پاکستان اس لئے نہیں بنایا گیا تھا کہ اسے دنیا کا ایک کرپٹ ملک قرار دیا جائے۔ بابا کہتے گئے بلکہ اس کا ایک مقصد تھا۔ لیکن ملک بننے کے بعد ہم اس مقصد کی تکمیل نہ کرسکے اور انفرادی مقاصد کے لئے ہم پاکستان کے مقصد کو قربان کرتے گئے۔ ہمارے بزرگوں کو احساس تھا کہ آج اگر ہم نے قربانیاں نہ دیں اور ملک نہ بن سکا تو شاید آئیندہ نسلیں ہمیں معاف نہ کرسکیں۔ انہوں نے بلکہ مقصد کے حصول کا ذریعہ تھا۔ لیکن ۔ ۔ ۔ آزادی کے بعد ملک کے رکھوالے انجانے بنتے گئے۔ ان پچاس سالوں میں ہر کسی نے اپنے بہتر مستقبل کے لئے سوچا۔ کسی کو پاکستان کے بہتر مستقبل کا احساس تھا اور نہ ہے"۔

 پروفیسر بابا کی اس طرح کی نصیحت آموز اور شہد آمیز باتوں سے وہ تینوں نوجوان مایوسی کے تنگ و تاریک غاروں سے نکل کر شاہراہ حیات پر دوبارہ گامزن ہوکر ملی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔ ان کی دیگر لاجواب کہانیوں میں "وہ دیوانہ تھا، میں تمہارے ساتھ ہوں، جنت سے جہنم تک، بلاعنوان اور ایک تھے ننھے میاں" شامل ہیں۔

اسحاق وردگ نے نثر کے علاوہ بچوں کے لیے نظم بھی لکھی ہے۔ لیکن ان کے اصل جو ہر نثر کے میدان میں ہی کھلتے ہیں۔

فیاض اختر فیضی (۱۶ اپریل ۱۹۷۴) نے جس تیزی سے بچوں کے لئے لکھنا شروع کیا تھا۔ اتنی ہی تیزی سے چھوڑ بھی دیا۔ صوبہ سرحد کے اطفال ادب میں انہوں نے اہم کاوشیں کی ہیں۔ ان کے نہ لکھنے کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کیونکہ وہ غم یار کا مارا ہوا ہے نہ غم روزگار نے ان کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔

ان کی پہلی تحریر "دولت کی ہوس" مارچ ۱۹۹۳ء میں بچوں کی دنیا لاہور میں شائع ہوئی۔ پھر وہ متواتر بچوں کے دیگر پرچوں میں چھپتے رہے۔ ان کی زیادہ تر کہانیاں لاہور سے شائع ہونے والے۔ بچوں کے ماہنامے "ذہین" میں شائع ہوئیں لیکن اس کے علاوہ بچوں کی دنیا، دوست، شاہین ڈائجیسٹ اور چھوٹی دنیا کے صفحات بھی ان کی عبرت آموز کہانیوں سے مزین رہے۔ ماہنامہ دوست میں ان کی جو کہانی شائع ہوئی اس کا نام ہے "ضرورت ایجا کی ماں ہے"۔ مصنف نے ایک نئے انداز میں پرانے پیاسا کوا کی کہانی پیش کرکے ایک سال کے لئے ماہنامہ دوست مفت حاصل کرنے کا انعام حاصل کیا۔ "گھناونا کاروبار" میں ہمارے معاشرے کے ان ذلیل لوگوں کو بے نقاب کیا گیا ہے جو معصوم بچوں کو اغوا کرکے ان سے بھیک مانگنے اور اسمگلنگ جیسے مکر وہ دھندے کراتے ہیں۔ "خزانے کا راز" میں جب دو لڑکے اور ان کے والدین خزانے کو پالیتے ہیں تو اس گھر لانے کی بجائے حکومت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرلیتے ہیں۔

"واہ کتنی آسانی سے دولت ہاتھ آگئی۔ اب ہم ساری زندگی عیش و عشرت سے گزاریں گے" ندیم نے خوشی سے اُچھلتے ہوئے کہا۔ اب تو ہماری زندگی بدل جائے گی" نائلہ نے بھی ندیم کی تائید کرتے ہوئے کہا۔ نہیں بچو! اس پر ہمارا کوئی حق نہیں یہ خزانہ تو ہم حکومت کے حوالے کریں گے جو ملک و قوم کے مفاد پر خرچ ہوگا۔ خالد کے ابا نے بچوں کو سمجھاتے ہوئے کہا۔ ہاں ہم اسے حکومت کے حوالے کریں گے" ندیم کے ابا نے بھی اس کی تائید کی۔ 

"ایک خط" میں ایک رشوت خور افسر کی کہانی بیان کی گئی ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ ہمارے ملک میں کس طرح رشوت کا سرطان پھیل گیا ہے۔ سکول، کالج، ہسپتال، پولیس اور سارے دفتر رشوت کے رنگ میں مکمل طور پر رنگ گئے ہیں۔ لیکن آخر میں ایک ایمان دار آدمی کا خط اس افسر کی آنکھیں کھول دیتا ہے۔ وہ افسر کو لکھتا ہے۔

"حضور کا ارشاد مبارک ہے کہ رشوت دینے اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں۔ جب حضور نے کہا ہے تو میں کس طرح اپنے آپ کو جہنمی بناوں۔ اصل زندگی تو یہ نہیں بلکہ موت کے بعد ہے۔ دیکھیے اگر آپ مجھ سے رشوت لیں گے تو دوسرا تم سے لے گا اور دوسرے سے کوئی تیسرا لے گا۔ اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ کیا ہم خود کو آگ میں نہیں ڈال رہے ہیں؟ ہم اپنے پاوں پر خود کلہاڑی مار رہے ہیں۔ دنیا اور آخرت دونوں تباہ کر رہے ہیں"۔

انھوں نے بچوں کے مجموعی مزاج کے مطابق اپنے قلم سے کام لیا ہے اور کوئی پیچیدگی پیدا کیئے بغیر لکھا ہے۔ ان کی کہانیاں چھوٹے ذہن کے چھوٹے بچوں کے لئے مشغل راہ ہیں۔ جن میں نصیحت کے ساتھ ساتھ لطف بھی موجود ہے۔

اصغر علی خان ساگر (اپریل ۱۹۷۴) مردان کے ادبی ورثے کے ایک اچھے امین ہیں۔ ابتدا میں انہوں نے بچوں کے لیے نہایت اعلٰی ادب تخلیق کیا اور دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد سے بچوں کے بہترین لکھاری کا انعام بھی حاصل کیا۔ لیکن عدیم الفرصتی کی وجہ سے ان کی توجہ لکھنے لکھانے کی طرف اب زیادہ نیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادیبوں کے بائیں بازو سے ذہنی و فکری وابستگی رکھنے والا یہ نوجوان ادیب جس تیزی سے افق ادب پر نمودار ہوتا تھا اس سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ قصر گمنامی میں گم ہوگیا ہے اور اعلٰی پس منظر رکھنے کے باوجود وہ بچوں کے ادب کے موجودہ پیش منظر میں کہیں بھی نظر نہیں آتے۔

اصغر علی کی کہانیاں اپنی ٹریٹمنٹ اور اسلوب کی وجہ سے افنرادیت کی حامل ہیں۔ ان کی ابتدائی تحریریں اس زمانے میں "بچوں کا رسالہ" جیسے عمدہ معیار کے پرچے میں شائع ہوئیں جب وہ جماعت ہشتم کے طالب علم تھے۔ اس کے بعد آنکھ مچولی، بچوں کا رسالہ، انوکھی کہانیاں اور مجاہد وغیرہ میں ان کی کہانیاں تو اتر کے ساتھ شائع ہوتی رہیں۔ انھوں نے بچوں کو درپیش مسائل اور دورِ حاضر کے چیلنجوں کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا اور پھر اُنہیں کبھی سنجیدہ اور کبھی ہلکے پھلکے انداز میں بیان کیا۔ اُنھوں نے اپنی ہر تحریر میں ڈرامائی عناصر کا شعوری طور پر استعمال کیا۔ کہانی کو مختلف مناظر میں تقسیم کرکے وہ آخر میں اس کا تانا اس مہارت سے بنتے ہیں کہ قاری کو ایک خوشگوار تحیر سے سابقہ پڑتا ہے۔ ان کے چھوٹے چھوٹے جملے اور ننھے منے مکالمے بھی ان کی قوت اختراع کا پتا دیتے ہیں۔ "پاگل کون؟" ان کی ایک نمایاں کہانی ہے جس میں ایک نوجوان طالب علم کی کہانی بیان کی گئی ہے جو معاشرے کی اصلاح کرنا چاہتا ہے لیکن دوستوں، کالج کے پرنسپل اور معاشرے کے دیگر افراد کے علاوہ جب اپنے والد اور بڑے بھائی کی طرف سے اسے سچ بولنے اور صداقت کا پرچم بلند کرنے پر پاگل کہا جاتا ہے تو وہ بہت مایوس ہو جاتا ہے لیکن عین اسی لمحے کیا ہوتا ہے مصنف کی زبانی سنیئے۔

"عادل انتہائی بے قراری کے عالم میں کمرے میں ٹہلنے لگتا ہے۔ اچانک اس کی نظر اپنے اسٹڈی ٹیبل کے ساتھ والی دیوار پر نصب قائداعظم کی تصویر پر پڑتی ہے۔ وہ آگے بڑھ کر قائداعظم کی تصویر کے عین سامنے کھڑا ہوجاتا ہے اور تصویر کو اس طرح دیکھتا ہے جیسے پوچھ رہا ہو" 

قائداعظم میں نے ٹھیک کہا نا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

تب اسے ایسا لگتا ہے جیسے قائداعظم کی تصویر مسکرا رہی ہو۔ ایک فخریہ مسکراہٹ یہ کہتی ہوئی:۔

"جب تم جیسے نوجوان ہوں تو مجھے پاکستان کے مستقبل کی طرف سے کیا تشویش ہوسکتی ہے"۔

"شامت کا مارا" ایک طنزیہ و مزاحیہ کہانی ہے جو ماہنامہ "بچوں کا رسالہ" میں شائع ہوئی۔ اسی طرح "انسانی خلیے" بھی مصنف کی ایک عمدہ کاوش ہے۔

انہوں نے بھی شاید لکھنے کا شغل ترک کردیا ہے جس کی وجہ سے ملک بھر کے نونہال عموماً اور نونہالان سرحد خصوصاً کئی اچھی تحریروں سے محروم ہوگئے ہیں۔ "

گوہر رحمان نوید


متعلقہ تحریریں :

صوبہ سرحد میں بچوں کا ادب

بلاد اسلامیہ

بانگ درا کے حصّہ دوم کی غزل نمبر (7)

بانگ درا کے حصّہ دوم کی غزل نمبر (6)

بانگ درا کے حصّہ دوم کی غزل نمبر (5)