• صارفین کی تعداد :
  • 3085
  • 4/25/2011
  • تاريخ :

زبردستی پردہ  کروانے کی وضاحت

پرده

غلط سوال کا بیان:

آپ کا یہ سوال ” کیا آپ زبردستی پردے کے موافق ہیں یا مخالف ؟ “صحیح سوال نہیں ہے۔ اگر سوال کی حدیں واضح ہو جائیں کہ زبردستی پردہ کسے کہتے ہیں ؟ اور زبردستی کی جگہ کیا ہے؟ سوال اپنے غلط ہونے کا خود اعلان کریگا ۔

کبھی پردے کو ایک عقلی یا دینی امر کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے ، یعنی پردے کو ایک جدید اور اعلی فکر کے عنوان کے مد مقابل پیش کیا جاتا ہے، تاکہ مقابل بھی اس بات کو قبول کر لے، کبھی ایک ایمانی، اور حکم الھی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے ، تاکہ اس پر ایمان لایا جائے ۔ یہ بات واضح ہے کہ لفظ ”زبردستی “ ان دونوں عناوین میں بے معنی ہے ،اس لئے کہ زبردستی نہ ہی فکر میں ممکن ہے اور نہ ایمان و یقین میں۔ لہذا یہ کہنا کہ کیا آپ زبردستی پردے کے قائل ہیں یا مخالف ؟ یہ سوال بنیادی طور پر غلط ہے ۔

کبھی پردہ معاشرے میں پائے جانے والے قانون کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، یعنی ایک فکر ی اور ایمانی بحث سے الگ جب انسان ایک معاشرے سے وابسطہ ہوتا ہے جو خاص قوانین کے زیر نظر چلتا ہے کہ جس میں پردے کی رعایت کرنا معاشرے کے قوانین( جن کو باقاعدہ مقرر کیا گیا ہو) کی رعایت کرنا ہے ۔ ا س مقام پر بھی یہ سوال کہ ” کیا آپ زبردستی پردے کے قائل ہیں یا مخالف“ صحیح نہیں ہے، اس لئے کہ” زبردستی “یہاں پابندی اور اصرار کے معنی اس لئے دیتی تاکہ قانون کااجراء ہو سکے اور قانون کے اجراء کی مخالفت کوئی بھی صاحب فہم و عقل نہیں کر سکتا ۔

ظاہر ہے کہ قوانین وہ راستے ہیں جن کو حکومتیں تشکیل دیتی ہیں اور شہر میں رہنے والے افرادکو بتائے جاتے ہیں، شہر کے ہر باشندے کو اس پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے ۔ اور جوبھی ان قوانین کی مخالفت کرتا ہے اس کو مجرم سمجھا جاتا ہے ۔ اور جو ان قوانین کی پیروی نہیں کرتا حکومت اس کے خلاف رسمی عہدنامہ کے دستور کے مطابق عمل کرتی ہے ۔

اس کی عام فہم مثال یہ ہے جس کو ہر انسان قبول کرتا ہے وہ ٹریفک اور ڈرائیونگ کے قوانین میں مشاہدہ کر سکتے ہیں، مثلا ایران میں اس طرح قانون بنایا گیا ہے کہ تمام گاڑیاں داہنی طرف چلتی ہیں ، چاہے وہ کسی بھی دلیل کی بنیاد پر ہو ( چاہے غلط ہو یا صحیح) لیکن قانون بنانے والے نے یہ سسٹم بنایا، اور اس کا اجراء کیا ،اور پلیس کو اس کے اجراء کا ذمہ دار قرار دیا کہ جو بھی اس کی مخالفت کرے اس کو روکا جائے ۔

اب فرض کریں کہ کچھ لوگ آئیں اور کہیں کہ ہم نے انگلینڈ میں دیکھا کہ گاڑیاں بائیں طرف چلتی ہیں، اور یہ بہت عمدہ ہے، ہم بھی چاہتے ہیں کہ آزادانا طریقه سے ان کی طرح عمل کریں ہم کو کیوں (بائیں طرف چلنے پر ) مجبور کرتے ہیں ؟ اگر ہم معاشرے کی اس مشکل کو حل کرنے کے لئے اور شہرکے باشندوں کے حقوق کی رعایت کے لئے اس سوال کو پیش کریں کہ کیا آپ جبرا بائیں طرف چلنے کے موافق ہیں یا مخالف ؟ اور اس کے بعد نتیجہ میں یہ فرض کریں کہ ہر آدمی کو آزاد ہونا چاہیے، چاہے وہ داہنی طرف چلے یا بائیں طرف ! تو یقینا نتیجہ میں مطلوب حاصل نہیں ہوگا، لہذا اس طرح بنیادی طور پر اس سوال کی پیش کش غلط ہے جب تک اس ملک کا قانون داہنی طرف چلنے کا ہے، اور قانون کے اجراء کرنے میں زبردستی کرنا صحیح ہے، اور معاشرے کے کچھ افراد کا موافقت یا مخالفت کرنا کوئی حیثیت نہیں رکھتا ہے، اگر ہزار دلیل بھی کوئی پیش کرے کہ بائیں طرف چلنا بہتر ہے اور وہ اس کو قبول اور پسند کرے (تو بھی اس کی کوئی قیمت نہیں ہے) اگر و ہ اپنی پسند اور رائے پر عمل کرے تو یقینا پکڑا جائے گا اور ایک مجر م کے مانند سزا یا جرمانے سے دو چار ہوگا، اگر پھر بھی اس سے بغاوت کرے تو معاشرے کی متعدد بدنصیبی سے دوچار ہو جائیگا ۔

 جاری ہے

 تالیف :حجة الاسلام سید محمد جواد بنی سعید ۔


متعلقہ تحریریں :

بيوي پر شوہر کي اطاعت?!

شوہر کا انتخاب

معاشرتي زندگي ميں حجاب کے فوائد

معاشرتي زندگي ميں خواتين کي فعاليت کي اساسي شرط

اجتماعي فعاليت اورحجاب و حدود کي رعايت