• صارفین کی تعداد :
  • 1049
  • 4/24/2011
  • تاريخ :

صوبہ سرحد میں بچوں کا ادب (تیسرا حصّہ)

بچوں کا ادب
سرحد میں بچوں کا ادب تخلیق کرنے والے ادیبوں میں نوجوان کی جو نئی کھیپ آئی ہے۔ ان میں رئیس احمد مغل، اسحاق وردگ، فیاض اختر فیضی، اسغر علی خان، شاہد انور شیرازی،اختر منیر، احسان الحق حقانی، عمران یوسف زئی، ارشد سلیم، نجیب اللہ ہمدرد عبداللہ ادیب نام اور کام دونوں لحاظ سے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔

 ان نوجوانوں نے ملک بھر کے بچوں کے جرائد میں بہت لکھا اور خوب داد و تحسین پائی۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ صوبہ سرحد میں بچوں کے ادب کی طرف پہلی سنجیدہ توجہ انہی حضرات کی مرہون منت ہے۔

ذیل میں ان ادیبوں کی تخلیقات کا مختصر جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔

رئیس احمد مغل یکم اکتوبر ۱۹۷۴ء کو پشاور کے علاقے بھانہ ماڑی میں پیدا ہوئے۔ اردو ادب میں جامعہ پشاور سے ڈگری لینے کے بعد عالمی تعلقات عامہ (International Relations ) کی سند بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد سے حاصل کی۔ لیکن اتنی ڈگریوں کے حصول سے بہت پہلے ہی ان کے قلم سے بچوں کے لئے بہت سا ادب تخلیق ہوچکا تھا۔ اگرچہ انہوں نے عالمی سیاسیات اور خاص طور پر ریاست اسرائیل کے بارے میں نہایت اہم مضامین لکھے لیکن ان کی شہرت بچوں کے ایک نامور ادیب کے طور پر ہے۔

رئیس احمد کی شہرت بچوں کے لئے لکھی گئی اولین تحریر اشتیاق احمد کے جریدے "چاند ستارے" میں انسانی خون کی ساخت کے بارے میں چھپی۔ پھر یہ سلسلہ چل نکلا جو ہنوز جاری و ساری ہے۔ اس کے بعد بچوں کا مشرق ان کی کہانیوں سے مزین رہا اور پھر ٹوٹ بٹوٹ اور لوٹ پوٹ جیسے اعلٰی معیار کے بچوں کے رسالوں میں ان کی تحاریر شائع ہوئیں۔ دعوۃ اکیڈمی سے منسلک ہونے کے زمانے میں ان کی کہانیاں، گلدستہ، پھول اور تتلیاں، میں شائع ہوئیں۔ ان کی لکھی ہوئی کہانیوں "بڑا بچپن" بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اس میں انہوں نے ابوالکلام آزاد کے بچپن کا احوال لکھا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ عظیم لوگوں نے اپنا بچپن کس طرح گزارا ہوتا ہے۔ یعنی ان کی عظمت میں ان کے بچپن کو کلیدی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ ابوالکلام آزاد کی زبان سے رئیس احمد مغل لکھتے ہیں:

"لوگ بچپن کا زمانہ کھیل کود میں بسر کرتے ہیں مگر بارہ تیرہ برس کی عمر میں میرا یہ حال تھا کہ کتاب لے کر کسی گوشے میں بیٹھ جاتا اور کوشش کرتا کہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہوں۔ کلکتہ میں ایک جگہ درختوں کا ایک جھنڈ تھا کہ باہر سے دیکھتے تو درخت ہی درخت ہیں اندر جایئے تو اچھی خاصی جگہ ہے اور ایک بنچ بھی بچھی ہوئی ہے۔ معلوم نیں اب بھی یہ جھنڈ ہے کہ نہیں۔ مین جب سیر کے لئے نکلتا تو کتاب ساتھ لے جاتا اور اس جھنڈ میں بیٹھ کر مطالعہ میں غرق ہوجاتا۔ والد مرحوم کے خادم خاص حافظ ولی اللہ مرحوم ساتھ ہوا کرتے تھے۔ وہ باہر ٹہلتے رہتے اور جھنجھلا جھنجھلا کر کہتے اگر تجھے کتاب ہی پڑھنی تھی تو گھر سے نکلا کیوں؟ یہ سطریں لکھ رہا ہوں ان کی آواز کانوں میں گونج رہی ہے"۔

کہانی "برساتی انکل" جو مئی ۱۹۹۱ء میں شائع ہوئی میں ایک ایسے شیخی بگھارنے والے شخص کا ذکر کیا گیا ہے جو اپنی بہادری کے ناقابل یقین قصے سناتا ہے۔ ایک رات برساتی انکل کی سچ مچ "چور" سے مدبھیڑہوگئی۔ مگر ہوا یہ کہ ان کے سر پر ڈنڈا پڑ گیا اور اس کے بعد تو وہ بہادری کے قصے سنانا ہی بھول گیا۔ "فیصلہ" خطوط کی شکل میں لکھی ہوئی ایک کہانی ہے جس کا مرکزی کردار اریب فائق اپنے والد صاحب کو امریکہ کے حالات سے آگاہ کرتا ہے وہ امریکہ کی چکا چوند سے متاثر ہے لیکن آخر میں وہ اپنے وطن پاکستان آنے کا فیصہ کر لیتا ہے۔

"ابا جان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  میں نے فیصہ کر لیا ہے کہ ہسپتال سے فارغ ہوتے ہی پاکستان آنے والی پہلی پرواز میں بیٹھنا ہے۔ میری دوسری ٹانگ جو مجھے امریکہ لائی تھی میں امریکہ میں ہی چھوڑے جا رہا ہوں۔ غالباً میرے اس ٹانگ کا خمیر امریکہ سے اُٹھا تھا اور مجھے پورا یقین ہے کہ پاکستان مجھے دونوں بیسا کھیوں کے ساتھ قبول کرنے میں کوئی تامل نہیں کرے گا۔ میں اس وقت ذہن پر انتہائی بوجھ ڈالنے کے باوجود بھی مائیکل جیکسن کا حلیہ یاد نہیں کر پا رہا ہوں۔ البتہ میرے تصور میں ایک اسمارٹ سا نوجوان، پہنٹ شرٹ پہنے ابھر رہا ہے۔ ہاں اس کا نام غالباً جنید ہے اور یہ دل کی گہرائیوں سے گا رہا ہے "دل دل پاکستان ! جان جان پاکستان!"۔

رئیس کی دیگر تحریروں میں چری کے نیچے اور ہوا کی جیت شامل ہیں۔ آخر الذکر مشہور انگریز ادیبہ اے نڈبلائی ٹن کی ایک کہانی سے ماخوذ ہے۔ لیکن مصنف کے اسلوب فکر نے اس میں فطری رعنائی بھردی ہے اور اس پر طبع زاد کا گمان ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر رئیس کی کہانیاں بچوں کے اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ ان میں علم و ادب کی پیاس بڑھانے میں ہر طرح سے ممد و معان ہیں۔

محمد اسحاق وردگ بھی صوبہ سرحد میں اطفال ادب کے حوالے سے ایک مستند و معتبر نام ہیں۔ انہوں نہ بہت کم عمری میں اپنے قلم کے ذریعے پاکستان بھر کے نوجوان ادیبوں میں اپنی ایک الگ پہچان کرائی اور بہت سے اعزازات حاصل کیے۔ جن میں دعوۃ اکیڈمی کی طرف سے اردو ادب میں نمایاں ادبی خدمات پر "نشان اعزاز" ایوارڈ شامل ہے۔ اسحاق وردگ نے عمدہ نثری کہانیاں لکھیں۔ جن میں بچوں کی تفریح کے جملہ سامان کے ساتھ درس و تدریس کے مقاصد کی تکمیل کے تمام لوازمات کماحقہ موجود ہیں۔ ان کی زیادہ تر کہانیاں ان مجبور و مقہور بچوں کے گرد گھومتی ہیں جو معاشرے کے دھتکارے ہوئے ہیں۔ لیکن مصنف کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنی فطری پرامیدی سے  مرکزی کردار ایک معذور بچہ ہونے کے باوجود خودی کا پتلا ہے۔ جب دو نوجوانوں کی گاڑی کا شیشہ صاف کرنے کے لئے یہ بچہ لپکتا ہے تو نوجوان انہیں منع کردیتے ہیں لیکن تھوڑی دیر بعد وہ دونوں جب اس بچے کی تصویر اتارنے کے بعد اس دس روپے کا نوٹ دیتے ہیں تو بچہ حقارت سے اسے پھینک دیتا ہے۔

"یہ لو، رکھ لو ۔ ۔ ۔ ۔ تمہارا انعام ہے یہ۔ نوجوان نے جیب سے دس کا نیا نوٹ نکالا۔ "بابو جی! میں نے شیشہ صاف نہیں کیا تو پھر یہ پیسے کیوں لے لوں۔ معذور بچہ خودداری سے بولا:

"رکھ لو پیارے اور اپنی حیثیت سے زیادہ خوددار بننے کی کوشش کبھی مت کرنا سمجھے۔ نوجوان نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے نوٹ بچے کی جانب پھینکا۔ معذور بچے نے جلدی سے جھک کر نوٹ اُٹھایا اور مٹھی میں دباکر دھواں اڑاتی ہوئی گاڑی کی جاب تیزی سے پھینکا اور بولا۔ "بابوجی میں معذور ضرور ہوں مگر مجبور نہیں"۔

گوہر رحمان نوید


متعلقہ تحریریں :

بانگ درا کے حصّہ دوم کی غزل نمبر (7)

بانگ درا کے حصّہ دوم کی غزل نمبر (6)

بانگ درا کے حصّہ دوم کی غزل نمبر (5)

بانگ درا کے حصّہ دوم کی غزل نمبر (4)

بانگ درا کے حصّہ دوم کی غزل نمبر (3)