• صارفین کی تعداد :
  • 3381
  • 4/18/2011
  • تاريخ :

حضرت علی النقی الہادی علیہ السلام

حضرت علی النقی الہادی علیہ السلام

آپ ”نقی“ اور ”ھادی“ کے لقب سے مشهور تھے۔ آپ کی ولادت با سعادت ۱۵ ذی الحجہ ۲۱۲ ھ کو مدینہ منورہ میں هوئی۔

آپ کی کچھ زندگی معتصم کے زمانہ میں گذری اور یھی وہ زمانہ تھا جس میں ”سرمن رائے“ تشکیل پائی کیونکہ اس زمانہ میں ترکوں اور ممالک نے حکومت اسلامی کے لئے بہت سی مشکلیں ایجاد کردی تھیں لہٰذا معتصم ان مشکلوں کا مقابلہ کرنے کی تیاریوں میں مشغول تھا۔

اس کے بعد واثق کا زمانہ آیا یہ وہ زمانہ تھا جس میں امام علیہ السلام اور خلیفہ کے درمیان اچھے تعلقات رھے ھیں۔

اس کے بعد متوکل کا زمانہ آیا لیکن یہ وہ زمانہ تھا جس میں اھل بیت (ع) سے علی الاعلان دشمنی او رمقابلہ کیا جانے لگا اور لوگوں کو ان سے منحرف کیا جانے لگا۔

اور جب مدینہ میں متوکل کے والی کو امام علیہ السلام کی شان وشوکت کو دیکھ کر اپنی حکومت کے ڈگمگانے کا خوف لاحق هوا تو اس نے متوکل کو خط لکھ کر آگاہ کیا کہ امام علیہ السلام تیری حکومت کے خلاف انقلاب لانا چاہتے ھیں۔

 جب ان تقاریر کا سلسلہ بڑھنے لگا تو متوکل نے امام علیہ السلام کو خط لکھ کر سرمن رائے بلایا تاکہ آپ او رآپ کے اھل بیت وھاں پر رھیں تاکہ لوگوں کا رجحان آپ کی طرف سے ہٹ جائے اور والی مدینہ کو لکھا کہ امام علیہ السلام کے ساتھ کچھ محافظین بھیجے تاکہ امام علیہ السلام کے احترام و اکرام کا مزید مظاھرہ هو سکے۔

چنانچہ امام علیہ السلام نے ان حالات کو دیکھ کر سفر کا ارادہ کرلیا اور سرمن رائے جانے کے لئے رختِ سفر باندھ لیا اور جب امام علیہ السلام متوکل کے تیار کردہ مکان میں پهونچے، چند روز رہنے کے بعد آپ نے اس کا مکان چھوڑ دیا اور اپنے مال سے ایک مکان خریدا تاکہ خلیفہ کے مھمان بن کر نہ رھیں ، یھی وہ مکان تھا جس میں آپ کو دفن بھی کیا گیا، جو آج بھی لاکھوں افراد کی زیات گاہ ھے۔

امام علیہ السلام نے مجبوراً سرمن رائے میں قیام فرمایا، یھاں تک کہ آپ کی شھادت واقع هوئی کیونکہ ھمیشہ آپ کے خلاف سازش هوتی رھی او رآپ کو ھر طرح کی اذیت دی جانے لگی، اس جرم میں کہ یہ ھماری حکومت کے خلاف انقلاب لانا چاہتے تھے او رھماری حکومت کے خلاف بغاوت کرنا چاہتے تھے۔

ان تمام حالات کے بعد بھی خلیفہ کو جب بھی کوئی شرعی مشکل پیش آتی تھی تو وہ امام علیہ السلام کے پاس آکر پناہ لیتا تھا کیونکہ خلیفہ میں مسائل شرعی سمجھنے کی صلاحیت نہ تھی اور نہ ھی وہ شرعی سوالات کا جواب دے سکتا تھا۔

امام علیہ السلام کے علمی آثار نفیس وقیمتی ھیں جن میں ”جبر و تفویض“ کے موضوع پر بہترین رسالہ ھے جس میں مسئلہ کے ھر پھلو پر روشنی ڈالی گئی اور اس میں موجود ہ پیچیدگیوں کا مکمل حل بیان کیا گیا ھے خلاصہ یہ کہ اس مسئلہ میں مکمل وضاحت کی گئی ھے او رآپ کے جد امجد حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے قول:

”لا جبر ولا تفویض، بل امر بین الامرین“  کی مکمل شرح کی گئی ھے۔

آپ کی شھادت رجب  ۲۵۴ھ کو سامرہ میں هوئی اور آپ کو اپنے ھی گھر میں دفن کیا گیا جو ہزاروں مومنین کی زیارت گاہ بنا هوا ھے۔

بشکریہ صادقین ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

دسویں امام

ولادت حضرت امام ھادی علیہ السلام

علی نقی علیہ السلام

معصوم دوازدھم حضرت امام علی نقی علیہ السلام