• صارفین کی تعداد :
  • 1944
  • 4/12/2011
  • تاريخ :

مدینہ کی طرف

بسم الله الرحمن الرحیم


جب رسول خدا اپنے شہید اصحاب کو دفن کرچکے تو انہوں نے مدینہ کی طرف روانہ ہو جانے کا حکم دیا۔ بہت سے مسلمن زخمی تھے۔ جناب فاطمہ زہراء کے ساتھ زخمیوں کے مداویٰ کے لیے احد میں جو چودہ عورتیں آئی تھیں وہ آنحضرت کے ساتھ تھیں۔


کچھ لوگ پیغمبر کے دیدار اور استقبال کے لیے شہر سے باہر آئے تاکہ رسول اللہ کی سلامتی کا اطمینان حاصل کریں۔ قبیلہ بنی دینار کی ایک عورت نے جب اپنے باپ، شوہر اور بھائی کے شہید ہو جانے کی خبر سنی تو اس نے کہا کہ رسول خدا کی کیا خبر ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ رسول خدا ٹھیک ہیں۔ اس عورت نے کہا کہ ذرا مجھے راستہ دے دو تاکہ میں خود ان کی زیار کروں۔ اور جب اس نے پیغمبر اکرم کو زندہ و سلامت دیکھا ت کہا کہ اے اللہ کے رسول جب آپ زندہ ہیں تو اب اس کے بعد ہر مصیبت آپ کے وجود کی وجہ سے ہیچ ہے۔ (سیرت ابن ہشام ج۲ ص ۹۹)

حمنہ بنت حجش رسول خدا کے پاس آئیں تو آنحضرت نے ان سے فرمایا :

”حمنہ“ میں تجھے تعزیت دے رہا ہوں۔

انہوں نے پوچھا :کہ کس کی تعزیت؟

آپ نے فرمایا: تمہارے ماموں حمزہ کی

”حمنہ“ نے کہا: ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ خدا ان کی مغفرت کرے اور ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے انہیں شہادت مبارک ہو۔ رسول خدا نے فرمایا میں پھر تعزیت پیش کرتا ہوں۔

”حمنہ“ نے کہا: کس کی تعزیت؟

رسول خدا نے فرمایا: تمہارے بھائی عبداللہ بن حجش کی۔

حمنہ نے کہا: خدا ان کی مغفرت کرے اور ان پر اپنی رحمتیں نازل کرے اور ن کو بہشت مبارک ہو۔

آنحضرت نے پھر فرمایا کہ: میں پھر تم کو تعزیت پیش کرتا ہوں۔

حمنہ نے پوچھا :کہ کس کی تعزیت؟

آپ نے فرمایا: کہ تمہارے شوہر مصعب بن عمیر کی۔ حمنہ نے ایک آہ سرد بھری اور گریہ کرنا شروع کیا۔

رسول خدا نے فرمایا: کہ شوہر جو مقام عورت کے دل میں رکھتا ہے۔ وہ کسی کا نہیں ہوتا۔ اس کے بعد لوگوں نے حمنہ سے پوچھا کہ تم اس قدر کیوں غمزدہ ہوگئیں؟ حمنہ نے کہا کہ میں نے اپنے بچوں کی یتیمی کو یاد کیا تو میرا دل بھر آیا۔

(سیرت ابن ہشام ج۲ ص ۹۸)

شہید عمرو بن معاذ کی ماں کبشہ آگے بڑھیں اور انہوں نے بڑے غور سے رسول اللہ کا چہرہ دیکھا اور اس کے بعد کہا: اب جب میں نے آپ کو صحیح و سالم دیکھ لیا تو مصیبت کا اثر میرے دل سے زائل ہوگیا۔ رسول خدا نے ان کے بیٹے عمرو بن معاذ کی شہادت پر ان کو تعزیت پیش کی، دلاسہ دیا اور فرمایا کہ اے عمرو کی ماں میں تمہیں مژدہ سناتا ہوں اور تم شہیدوں کے اہل و عیال کو مژدہ سنا دو کہ ان کے شہداء بہشت میں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اور ہر ایک اپنے عزیزوں اور خاندان والوں کی شفاعت کرے گا۔ عمرو کی ماں نے کہا کہ اے پیغمبر اب میں خوش ہوگئی اور اس کے بعد عرض کی کہ: اے پیغمبر اس کے پس ماندگان کے لیے آپ دعا فرمایئے۔ رسول خدا نے اس طرح دعا کی۔ خدایا ان کے دلوں سے غم کو زائل کر دے۔ ان کے مصیبت زدہ دل کے زخموں پر مرہم رکھ اور ان کے پس ماندگان کے لیے بہتری سر پرست قرار دے۔ (مغازی ص ۳۱۵، ۳۱۶)

نماز مغرب کا وقت آن پہنچا

بلال نے اذان دی رسول خدا مسجد میں اس حالت میں تشریف لائے کہ لوگ ان کے شانوں کو پکڑے ہوئے تھے۔ آپ نے نماز پڑھی واپسی پر دیکھا کہ نالہ و شیون کی آواز میں شہرت مدینہ ڈوبا ہوا ہے۔ لوگ اپنے شہیدوں کی عزاداری اور ان پر رونے میں مصروف ہیں۔ حضرت نے فرمایا: ”لیکن حمزہ کا کوئی نہیں ہے جو ان پر گریہ کرے۔ مدینہ کی عورتیں رسول خدا کے گھر آئیں اور مغرب سے رات گئے تک نوحہ و عزاداری میں مصروف رہیں۔

عنوان : تاریخ اسلام

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان

بشکریہ پایگاہ اطلاع رسانی دفتر آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی


متعلقہ تحریریں :

نفسیاتی سرد جنگ

شہیدوں کے پاکیزہ جسم کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟

لشکر کی جمع آوری

اسلام اور ہر زمانے کی حقیقی ضرورتیں

پیغمبر کا دفاع کرنے والوں کی شجاعت