• صارفین کی تعداد :
  • 3296
  • 4/12/2011
  • تاريخ :

حضرت جعفر صادق علیہ السلام

حضرت جعفر صادق علیہ السلام


آپ کا مشهور و معروف لقب ”صادق “ھے۔ آپ کی ولادت باسعادت ۱۷ ربیع الاول  ۸۳ ھ کو مدینہ منورہ میں هوئی۔

آپ کے زمانے میں اموی سلطنت کمزور هوگئی یھاں تک کہ بالکل ھی اس کا خاتمہ هوگیا اس کے بعد عباسی حکومت تشکیل پائی چنانچہ عباسی حکومت اپنے نئے منصوبوں کو تیار کرنے میں مشغول تھی لہٰذا امام علیہ السلام نے موقع غنیمت شمار کیا اور وسیع پیمانہ پر تعلیم وتربیت میں مشغول هوگئے، آپ کے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اور ایسے ایسے شاگرد جو بعد میں اسلام کی مشهور و معروف شخصیتیں بن گئیں۔


آپ (ع) کے شاگرد اور آپ سے احادیث روایت کرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ لوگوں کی زبان پر شیعیت کے بجائے ”مذھب جعفری“ گردش کرنے لگا، اور اس مذھب کو امام جعفر صادق علیہ السلام سے منسوب کرنے لگے جبکہ تشیع تمام اھل بیت (ع) سے منسوب ھے اور کسی ایک امام سے مخصوص نھیں ھے۔

امام علیہ السلام نے اپنے زمانہ میں کس قدر دینی خدمات انجام دیں ھیں اس کے لئے کافی ھے کہ ھم بعض تاریخوں میں آپ کے شاگردوں اور رواة کی تعداد کو ملاحظہ کریں جن کی تعدادچار ہزارا تک بتائی جاتی ھے۔

اسی طرح ابو الحسن و شاء کہتے ھیں کہ :

”میں نے اس مسجد (کوفہ) میں ۹۰۰ راویوں کو دیکھا جو کہتے تھے: ”حدثنی جعفر بن محمد (ع)“  (مجھ سے امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا)

اسی طرح ھمارے لئے کافی ھے کہ ھم امام علیہ السلام کی بعض باقی باندہ علمی میراث کو دیکھیں اور امام علیہ السلام کی عظمت وبلندی کا اندازہ لگائیں۔

اگر آپ کی تفسیر قرآن، علم فقہ، فلسفہ اور علم کلام وغیرہ کو ایک ساتھ جمع کیا جائے تو ایک بے نظیر عظیم الشان دائرة المعارف بن جائے گا۔

آ پ کے علمی آثار میں سے :

طبی قوانین اور صحت سے متعلق دستور جن کو دو کتابوں میں جمع کیا گیا ھے۔

”توحید المفضل “ اور  ”الاھلیلجہ “

ان دونوں کتابوں میں مسئلہ ”عدوی “ (جس کے ذریعہ ”مکروب“ "Microbe" کی شناخت هوتی ھے) کے بارے میں مکمل طریقہ سے وضاحت کی گئی ھے۔

اسی طرح علم الامراض کے بارے میں مکمل طور پروضاحت کی گئی ھے، امام علیہ السلام نے سب سے پھلے دورة الدمویة تھر ما میٹر"Thermometer" کشف کیا اس کے بعد کھیں ڈاکٹر ”ھارفی بقرون“ نے اس طرح اشارہ کیا ھے۔

آپ ھی نے جابر بن حیان کو علم کیمیا (Chemistry) کی تعلیم دی اسی وجہ سے آپ کو علم کیمیا کا موجد کھا جاتا ھے جیسا کہ ڈاکٹر محمد یحيٰ الھاشمی کہتے ھیں۔

امام علیہ السلام کے طریقہ کار کے بارے میں استاد ”ڈونالڈسن“ نے تدریس کے طریقہ کو بیا ن کرتے هوئے کھاھے:

”آپ کی روش تدریس سقراطی تھی آپ اپنے شاگردوں کے ساتھ ھمیشہ بحث و مباحثہ کرتے تھے اور خالص اورسادہ موضوعات سے اپنی گفتگو کا آغاز فرماکر دقیق، علمی ، پیچیدہ اور مشکل موضوعات پر بحث ختم فرماتے تھے۔

آپ کی شھادت   ۱۴۸ھ کو مدینہ منورہ میں هوئی اور آپ کوبھی جنت البقیع میں  دفن کیا گیا۔

بشکریہ صادقین ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

"مکتب تشیع کا نجات دہندہ " (حصّہ دوّم)

"مکتب تشیع کا نجات دہندہ  "

امام جعفر صادق عليہ السلام کا دور

کرامات امام جعفر صادق علیہ السلام

مناظرہ امام جعفر صادق علیہ السلام و ابو حنیفہ