• صارفین کی تعداد :
  • 1139
  • 5/14/2012
  • تاريخ :

اسرائيل کے کسي بھي حصے کو باآساني ٹارگٹ کرنے کي صلاحيت رکھتے ہيں

سید حسن نصر الله

جنوبي بيروت ميں جشن کي تقريب سے خطاب کرتے ہوئے حزب اللہ کے سيکريٹري جنرل نے کہا کہ دو ہزار چھ ميں صہيوني رياست کي جانب سے چھيڑي گئي تينتيس روزہ جنگ کا مقصد لبنان، فلسطين، شام اور ايران کو شکست دے کر نيا مشرق وسطي وجود ميں لانا تھا-

ابنا: اسرائيل ہميشہ اس وہم ميں مبتلا رہے گا کہ اس کا زوال ہو رہا ہے، ان خيالات کا اظہار حزب اللہ کے سيکريٹري جنرل سيد حسن نصر اللہ نے سيدہ زہرا ( سلام اللہ عليہا ) کي ولادت باسعادت کي مناسبت سے جنوبي بيروت کي تنتيس روزہ جنگ ميں تباہ شدہ انفرا اسٹرکچرز کي تعمير مکمل ہونے پر منعقدہ جشن سے خطاب کرتے ہوئے کيا-

انہوں نے کہا کہ وعدہ نامي تعمير نو کے اخراجات ميں سب سے زيادہ رقم رہبر مسلمين جہاں حضرت آيت اللہ خامنہ اي نے عنايت کي، اگر ولي فقيہ کي عنايت خاص اور نظر کرم نہ ہوتي تو ہم اتني جلدي تعمير نو نہيں کرسکتے تھے-

انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت اسرائيل کے کسي بھي حصے کو با آساني ٹارگٹ کرنے کي صلاحيت رکھتے ہيں اور ہم چاہيں تو انتہائي باريکي سے مخصوص اہداف کو بھي گائيڈڈ شکل ميں نشانہ بناسکتے ہيں-

حسن نصر اللہ نے کہا کہ دو ہزار چھ ميں صہيوني رياست کي جانب سے چھيڑي گئي تينتيس روزہ جنگ کا مقصد لبنان، فلسطين، شام اور ايران کو شکست دے کر نيا مشرق وسطي وجود ميں لانا تھا- انہوں نے کہا کہ تينتيس روزہ جنگ کا مقصد صرف حزب اللہ کو ختم کرنا نہيں تھا بلکہ لبنان اور سارے علاقے کو امريکہ اور اسرائيل کے آلہ کار عرب ملکوں کے زمرے ميں شامل کرنا تھا-

ياد رہے تينتيس روزہ جنگ ميں صہيوني رياست کو حزب اللہ کے ہاتھوں شکست فاش ہوئي تھي، جس کے زخم وہ آج بھي چاٹ رہي ہے- اس جنگ ميں حزب اللہ نے صہيوني رياست کو ہزيمت اور ذلت سے دوچار کرکے عرب قوموں اور مسلمانون کو ذلت سے بچاليا اور نئے مشرق وسطي کا امريکہ اور صہيوني رياست کا منصوبہ ناکام بنا ديا- صيہوني حکومت کے ساتھ ساز باز کے خواہاں عرب ملکوں نے تينتيس روزہ جنگ کے دوران ايک بار پھر خيانت کرتے ہوئے صہيوني رياست کا ساتھ ديا تھا-