• صارفین کی تعداد :
  • 2140
  • 3/12/2011
  • تاريخ :

محبت، تعاون اور برادری کی فضا

بسم الله الرحمن الرحیم

حضور اکرم (ص)فرماتے ہیں:""لا یبلغنی احد منکم عن احد من اصحابی شیئاً فانی احبّ ن اخرج الیکم و نا سلیم الصدر۔"" (بحار الانوار، ج16، ص231) لوگ پیغمبر خدا (ص) کے پاس آتے تھے، ایک دوسرے کی برائیاں کرنے لگتے تھے، جھوٹی سچی سنانے لگتے تھے۔ رسول اکرم (ص) نے فرمایا کہ میرے اصحاب کے سلسلہ میں کوئی کسی طرح کی گفتگو نہ کرے۔ میرے پاس آکر ایک دوسرے کی برائی نہ کرو میں چاہتا ہوں کہ جب لوگوں کے سامنے آؤں اور اپنے اصحاب کے درمیان رہوں تو ""سلیم الصدر"" یعنی پاک صاف دل اور بغیر کسی بد بینی اور بدگمانی کے ساتھ رہوں۔

رسول اکرم (ص) کا ایک بڑا مقصد یہ تھا کہ معاشرہ میں محبت و ہمدلی کی فضا قائم کریں تاکہ اس کی ایک ایک فرد ایک دوسرے کی نسبت مہربان رہے اور حسن ظن رکھے۔ آج ہماری ذمہ داری بھی یہی ہے۔ یعنی ضروری ہے کہ اسلامی معاشرہ میں مسلمان ایک دوسرے کی نسبت بے تفاوتی اور لاتعلقی کی حالت سے خود کو باہر نکالیں۔ اسلام کی نظر میں یہ ہرگز پسندیدہ عمل نہیں ہے کہ مسلمان ایک دوسرے سے لاتعلق رہیں، سب اپنی اپنی دنیا میں کھوئے رہیں اور کسی کو کسی سے کوئی مطلب نہ ہو۔ حضور اکرم (ص) کی زندگی کا ایک اہم کام یہی تھا کہ اس لاتعلقی کی فضا کو محبت، تعاون اور برادری کے ماحول میں تبدیل کردیں۔ آج ہمیں بھی اپنے نظام میں اسی چیز کی ضرورت ہے۔

ولي امر مسلمین حضرت آیت اللہ سید علي خامنہ اي کے خطاب سے اقتباس

 (خطبات نماز جمعہ، تہران، 1368-7-28)


متعلقہ تحریریں:

 عزم راسخ اور سعی مستقل

 اعلی انسانی  اخلاق  پرچم لہرانا

اقدام از روز اول

 پھر اس طبیب کا قصور کیا ہے؟!

نیک اخلاق کا صحیح مفہوم