• صارفین کی تعداد :
  • 2713
  • 3/12/2011
  • تاريخ :

معاشرتي زندگي ميں خواتين کي فعاليت کي اساسي شرط

مسلمان خاتون

عفت وپاکدامني کي حفاظت اورمردوں سے غير شرعي تعلقات سے دوري

پس اس دوسرے ميدان ميں کہ جو اجتماعي ،سياسي، علمي اور دوسري قسم کي فعاليت کا ميدان ہے،ايک مسلمان عورت کوايک مسلمان مرد کي طرح (آزادانہ فضا ميں) فعاليت کا حق حاصل ہے مگر زمانے کے تقاضوں کے ساتھ، يعني وہ معاشرتي زندگي ميں جس خلا اور جس ذمے داري کا اپنے دوش پر احساس کريں، اُنہيں انجام ديں۔ مثلاً ايک لڑکي چاہتي ہے کہ طب کے شعبے ميں قدم رکھے اور ڈاکٹر بنے ، يا اقتصاد کے ميدان ميں اپني ماہرانہ اورپيشہ وارانہ صلاحيتوں کو بروئے کار لائے يا ديگر علمي مضامين ميں فعاليت انجام دے ،يا جامعہ ميں تدريس کرے، يا سياسي ميدان ميں مردوں کا بوجھ ہلکا کرے ياصاحب قلم يا ايڈيٹر بن کر ادب و معاشرے کي خدمت کرے تو اُس کيلئے تمام راستے کھلے ہيں۔ مگر ايک شرط کے ساتھ! اور وہ يہ کہ وہ اپني عفت و پاکدامني کي حفاظت کرے اور مرد و عورت کے درميان بے مہار ميل جول اور غير شرعي تعلقات سے کنارہ کشي اختيار کرے تو ايسے اسلامي معاشرے ميں مرد وعورت دونوں کيلئے راہ کھلي ہے۔ ہمارے اس مطلب پر گواہ،وہ تمام اسلامي آثار ہيں کہ جو اس سلسلے ميں ہمارے پاس موجود ہيں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اسلامي احکام و فرائض ہيں کہ جو مرد وعورت کو يکساں طور پر اجتماعي ذمے دارياں عطاکرتے ہيں۔

يہ جو حديث ميں فرمايا گيا ہے کہ ’’مَن اَصبَحَ لاَ يَھتَمُّ بِاُمُورِ المُسلِمِينَ فَلَيسَ بِمُسلِمٍ‘‘  (جو اس حالت ميں صبح کرے کہ اُسے مسلمانوں کے حالات سے کوئي دلچسپي نہ ہوتو وہ مسلمان نہيں ہے) يہ حکم صرف مردوں کيلئے نہيں ہے بلکہ خواتين کو بھي چاہيے کہ مسلمانوں کے حالات ، دنيائے اسلام سميت پوري دنيا کے مسائل کي نسبت احساس ذمے داري کريں اور اُن پر توجہ ديں، چونکہ يہ ايک اسلامي وظيفہ ہے۔

سورئہ احزاب کي آيت نمبر ٣٥ کے مطابق خواہ اسلام ہو يا ايمان کي مضبوطي، خداوند متعال کي اطاعت گزاري ہو يا خشوع اور فروتني، راہ خدا ميں صدقہ دينا ہو يا روزے داري، صبر و استقامت ہو يا عزت و ناموس کي حفاظت يا پھر ذکر الٰہي ، ان تمام فضيلتوں ميں مرد و عورت سب برابر ہيں (يعني ہر کوئي اپني سعي اور کوشش کے نتيجے ميں بلند سے بلند مقام حاصل کرسکتا ہے)۔ اگر خواتين اسلامي حدود و قوانين کا احترام کريں تو معاشرتي اور اجتماعي فعاليت اُن کيلئے مکمل طور پر مباح، جائز اور مطلوب ہے۔ خواتين اس شرط کے ساتھ معاشرے ميں اپنا بھرپور فعال کردار ادا کريں اور معاشرے ميں موجود اپني نصف طاقت کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشرے کو خوشبخت بنائيں۔ جس وقت خواتين بھي معاشرے ميں مردوں کے شانہ بشانہ تحصيل علم ميں مشغول ہوں تو اس کے اجتماعي و انفرادي فوائد اس زمانے کي نسبت دُگنے ہوں گے کہ جب معاشرے ميں صرف مردوں کو تحصيل علم کا حق حاصل ہو۔ خواتين کي شعبہ تدريس سے وابستگي کے وقت معاشرے ميں معلمين کي تعداد اُس تعداد سے دو برابر ہوگي کہ جب صرف مرد تدريس کريں۔ ملکي تعمير و ترقي ، تعمير نو،اقتصادي ميدان ميں آگے قدم بڑھانے، منصوبہ بندي کرنے، ايک ملک، شہر، گاوں اور گھريلو اورشخصي امور ميں مطالعہ کرنے جيسے اہم امور ميں مرد و عورت ميں کوئي فرق نہيں ہے ، سب ذمے دار ہيں اور سب کو يہ کام انجام دينے چاہئيں۔

مسلمان بيٹيو! اور مومنہ خواتين ! يہ بھي آپ کي خدمت ميں عرض کروں کہ اہل يورپ جو اِس بات کا دعويٰ کرتے ہيں کہ يورپي معاشرے ميں عورت آزاد ہے تو اس کا کيا مطلب ہے؟ يہي يورپي ہي تھے کہ جو نصف صدي قبل عورت کو اِس بات کي اجازت نہيں ديتے تھے کہ وہ اپنے ذاتي مال و ثروت ميں اپني مرضي کے مطابق تصرّف کرے!

يعني ايک يورپي يا امريکي عورت ، پچاس ساٹھ سال قبل اگر لاکھوں روپے کي مالک بھي ہوتي تو اُسے يہ حق نہيں تھا کہ وہ اپني خوشي اور ارادے سے اُسے خرچ کرسکے۔

وہ ہر صورت ميں اپنے مال و دولت کو اپنے شوہر ،باپ يا بھائي کے اختيار ميں دے ديتي اور وہ لوگ اپنے ميل اور ارادے سے اِس عورت کي دولت کو خود اُس کيلئے يا اپنے ليے خرچ کرتے تھے! ليکن اسلام ميں ايسا ہرگز نہيں ہے۔ اسلام ميں عورت اپني ثروت و دولت کي خود مالک ہے ، خواہ اُس کا شوہر راضي ہو يا نہ ہو، اِس ميں اس کے با پ کي مرضي شامل ہو يا نہ ہو، کوئي فرق نہيں ہے۔ اسلامي قوانين کي رُو سے عورت اپنے مال و دولت اور جمع پونچي کو استعمال ميں لائے اور اِس ميں وہ کسي کے اذن و ارادے کي محتاج نہيں ہے۔ خواتين کے اقتصادي استقلال و آزادي کي حمايت کرنے ميں دنيا، اسلام سے تيرہ صدياں عقب ہے۔ اسلام نے اس امر کو تيرہ صدي قبل بيان کيا ہے ليکن يورپ ميں ابھي چاليس پچاس سال اور بعض ديگر ممالک ميں اس مدت سے بھي کم عرصہ ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے معاشرے کي عورت کو اِس بات کي اجازت دي ہے کہ وہ اپنے ذاتي مال و ثروت ميں تصرف کرے! اسلام اس جہت سے بھي بہت آگے ہے۔

ج: گھريلو زندگي کا ميدان

خواتين کي فعاليت کا تيسرا اہم ترين ميدان ، اُن کي گھريلو اور خانداني زندگي ہے ۔ ہم نے معنوي کمال ميں عورت کے کردار پر روشني ڈالي ہے اور ہر قسم کي اجتماعي فعاليت کيلئے اسلامي احکامات کو بھي بيان کيا ہے ۔ ليکن اس تيسرے حصے ميںہم گھريلو اور خانداني زندگي ميں عورت کے اہم کردار کو بيان کريں گے يعني ايک عورت، ايک بيوي اور ماں کے روپ ميں کيا کردار ادا کرسکتي ہے۔ يہاں اسلام کے احکامات اتنے زيادہ نوراني اور باعث فخر ہيں کہ انسان جب ان احکامات کا مشاہدہ کرتا ہے تو خوشي سے جھوم اٹھتا ہے۔

 

کتاب کا نام  : عورت ، گوہر ہستي 

تحریر   :حضرت آيت اللہ العظميٰ امام سيد علي حسيني خامنہ اي دامت برکاتہ 

ترجمہ  :  سيد صادق رضا تقوي 

 پیشکش : شعبۂ تحریر  و پیشکش تبیان   


متعلقہ تحریریں :

مسلمان عورت ، استعمار اور ہمارا عزم ( حصّہ دوّم )

مسلمان عورت ، استعمار اور ہمارا عزم

حجاب کیوں ضروری ہے؟

حجاب کیوں ضروری ہے؟ ( حصّہ دوّم )

حجاب کیوں ضروری ہے؟ ( تیسرا حصّہ )