• صارفین کی تعداد :
  • 3133
  • 3/12/2011
  • تاريخ :

عید نوروز ساسانی دور حکومت میں

عید نوروز

ساسانی دور حکومت میں عید نوروز کو بےحد اہمیت حاصل ہو گئ ۔ اس دور میں یہ دن نہ صرف ایک قومی دن کی حیثیت  سے معروف ہوا بلکہ ان ایام کو محیط کی صفائی کے لیۓ ، نۓ کپڑے پہننے ، گناہوں سے توبہ کرنے، بوڑھے کی دلجوئی کرنے، تجدید دوستی، خاندان کے استحکام اوربرے خیالات اور ناپاکی کو ذہن سے نکالنے کے  مخصوصی کر دیا گیا ۔  اس دور میں نوروز کا جشن منانے کے لیۓ بڑے اچھے انداز سے اہتمام کیا جاتا تھا ۔  نوروز کی رات کو چھتوں پر آگ جلائی جاتی تاکہ ناپاکیوں کو  جلا دیا جاۓ ۔ بعد میں آگ جلانے کی یہی رسم ھفت سین  کے دسترخوان پر جلائی جانے والی شمع میں تبدیل ہو گئ  ۔

ساسانی اس بات کے معتقد تھے کہ کوروش بزرگ کا نوروز کو ایک قومی دن قرار دینے کا مقصد  قانون کی بالادستی  ، نظم و ضبظ ، انسان دوستی اور پاکدامنی جیسی اچھی صفات کو معاشرے  میں قائم رکھنا تھا ۔

مارچ 326 عیسوی میں ایرانی اور رومی افواج کے درمیان ایک خونریز جنگ ہوئی ۔ ایرانی افواج کی قیادت شاپور دوم جبکہ رومی افواج کی قیادت کنستانتینوس دوم  کر رہے تھے ۔ اس جنگ میں بہت زیادہ خرچہ آیا ۔ اس کے باوجود کہ کامیابی ایرانی افواج کو حاصل ہو رہی تھی شاپور دوم نے  اپنے فوجی افسران کی مخالفت کے باوجود عید نوروز کی شب یعنی 20 مارچ کو سیز فائر کا اعلان کر دیا تاکہ فوجی جوان نوروز کا تہوار منا سکیں ۔  رومی افواج کا سربراہ اس جنگ میں  لامحدود نقصان اٹھا چکا تھا اس وجہ سے سیز فائر ختم ہونے کے بعد اس نے جنگ کو جاری رکھنے کا خیال ترک کرتے ہوۓ صلح کا اعلان کر دیا اور یوں دو سلطنتوں میں  صلح پر دستخط ہو گۓ  ۔

399 عیسوی میں عید نورو کے جشن کے موقع پر یزد گرد شاہ ( جو ساسانی  حکومت کا بادشاہ وقت تھا ) کے محل میں موجود چند مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے بادشاہ سے اپنے  لیۓ مذھبی آزادی مانگی ۔ اس درخواست کو بادشاہ نے قبول کرتے ہوۓ تمام مسیحان ایران کو مکمل مذھبی رسومات ادا کرنے کی آزادی دے دی ۔

ایران اور روم کی سلطنت  کے درمیان ہونے والا صلح نامہ یعنی " صلح پایدار " جس پر خسرو انوشیروان ساسانی اور ژوستی نی آن  ( رومی بادشاہ  ) نے دستخط کیے ۔ یہ مراسم سن 532 عیسوی کو عید نوروز کے  جشن کے دوران بغداد کے نزدیک انجام پاۓ ۔ 

نوشیروان بادشاہ کی حکومت میں بادشاہ اور  عوام کے درمیان فاصلے بےحد کم ہو چکے تھے اور بادشاہ خود جا کر عوام کی شکایات سنتا اور انہیں  حل کرتا تھا ۔ مراسم نوروز میں عوام کی شرکت کے لیۓ خسرو  انوشیروان نے 549 عیسوی کو  محل کے اندر ایک بڑا ھال تعمیر کرنے کا حکم صادر کیا  تاکہ لوگوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد ایسے مراسم  میں شرکت کر سکے ۔

ختم شد.

تحریر : سید اسداللہ ارسلان


متعلقہ تحریریں:

عید نوروز  کی تاریخ

"عید  نوروز" حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی نظر میں

فارس تہذیب کے حامل ممالک میں نوروز کا جشن

ہفت سین کا رواج

ایرانی ثقافت میں "جشن سده "