• صارفین کی تعداد :
  • 3358
  • 3/7/2011
  • تاريخ :

دو کبوتر (حصّہ چهارم)

دو کبوتر

ہرزه بولا: " شاید الله نے یہاں اپنی قدرت کا جلوه دکهایا ہوا اور صحرا کے بیچ سبزے کا رنگ جمایا ہو۔ نامہ بر بولا: " تیری نگاه صرف سبزے اور دانے پر ہے۔ ذرا غور سے دیکه وه جو ٹیلے کے پاس مصنوعی ابریشم کی ٹوپی پہنے ایک شخص بیٹها ہے، اسے بهی دیکه۔ کیا یہ نہیں سوچتا ہے۔ کہ آخر اس شخص کا یہاں کیا کام ہے؟

ہرزه بولا: گ ہو سکتا ہے کہ یہ شخص سفر پر نکلا ہو اور ہماری ہی طرح تهک گیا ہو اور سستانے کی خاطر چند لمحوں کے لیے رک گیا ہو۔"

نامہ بر بولا: " اچها تو پهر وه ٹوپی کو اس لیے ہاتهوں سے تهامتا ہے اور سبزے اور بیابان میں کیوں ادهر ادهر اپنی نظر دوڑاتا ہے؟

ہرزه بولا: " شاید وه ٹوپی کو اس لیے ہاتهوں سے تهامتا ہے کہ اسے ہوا نہ اڑالے جائے اور بیابان میں اس لیے ادهر ادهر نظر دوڑاتا ہے کہ اسے کوئی ایسا شخص دکهائی دے جائے جسے وه اپنا رفیق سفر بنالے۔

جاری ہے

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان 


متعلقہ تحریریں :

بہت مہنگی قیمت میں حلوا

رازداری

تیسری نصیحت

مالک اشتر

زہرخوشتر